‘جب تک امریکہ، مسلمانوں کونشانہ بناتارہے گا اس وقت تک امریکہ پر حملے ہوتے رہیں گے’

‘جب تک امریکہ، مسلمانوں کونشانہ بناتارہے گا اس وقت تک امریکہ پر حملے ہوتے رہیں گے’
f-shahzadنیویارک(ایجنسیاں) ٹائمزاسکوائر حملہ کیس کے ملزم پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد نے تمام الزامات کا اعتراف کرتے ہوئے امریکا سے پاکستان پر ڈرون حملے بند کرنے اور مسلم ممالک سے اپنی افواج واپس بلا نےکا مطالبہ کردیا۔ مقدمے کا فیصلہ پانچ اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

تیس سالہ پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد نے نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں پیشی کے دوران خود پر عائد دس کے دس الزامات کا اعتراف کرلیا۔عدالت میں پیشی کے دوران فیصل شہزاد کے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ سماعت کے دوران جج نے ملزم فیصل شہزاد کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش سمیت دس الزامات پڑھ کر سنائے۔ جنہیں سن کر ملزم فیصل شہزاد نے کہا کہ وہ مسلمان سپاہی ہے اور سو بار یہ الزامات قبول کرتا ہے۔ فیصل شہزاد نے سماعت کے دوران عدالت کوبتایاکہ اس نے یہ منصوبہ افغانستان،عراق اور صومالیہ میں امریکی قبضے کے خلاف ردعمل کے طور پربنایاتھا ۔
فیصل شہزاد نے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکی فوج افغانستان اور عراق میں موجود رہے گی اور پاکستانی علاقوں پر ڈرون حملے ہوتے رہیں گے، ہم امریکا پر حملے کرتے رہیں گے۔
فیصل شہزاد نے سزا میں کمی کیلئے پلی بارگین بھی نہیں کی۔ فیصل شہزاد کو عائد کردہ الزامات کے تحت عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
فیصل شہزاد کو رواں سال مئی میں نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں دہشت گردی کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فیصل شہزاد پرایک الزام یہ بھی تھا کہ اس نے پاکستان کے قبائلی علاقے میں جا کر عسکریت پسندی کی تربیت حاصل کی تھی۔ مقدمے کا فیصلہ پانچ اکتوبر کو سنایا جائے گا۔ نیویارک کی فیڈرل کورٹ کی جانب سے سات جولائی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کا فیصلہ بھی متوقع ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں