ایرانی اہل سنت اور بلوچ قوم کا “وہابیت”،علیحدہ پسندی اور فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں

ایرانی اہل سنت اور بلوچ قوم کا “وہابیت”،علیحدہ پسندی اور فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں
new-molanaنیکشہر،بلوچستان(سنی آن لائن)صوبہ سیستان وبلوچستان کے جنوبی شہر”نیکشہر” کے حفاظ کرام کے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریب کے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے سنی رہنما مولاناعبدالحمید نے بلوچ قوم اور ایرانی اہل سنت پر جاری مسلکی و قومی دباؤ کو شدید تنقید کانشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا اس امتیازی سلوک کی بنیادی وجہ ایرانی حکام کا جانبدارانہ رویہ اور مسلکی تعصب ہے۔

دوران گفتگو شیخ الاسلام مولانا عبدالحمیدنے بعض عناصر پر شدید نکتہ چینی کی جو ایران کی سنی برادری پر”وہابیت” کا لیبل لگا کر طرح طرح کے بے بنیاد الزامات سے اہل سنت والجماعت کو نوازتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا وہابیت ایک ایسا لیبل ہے جس کا اہل سنت ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے، بعض تنگ نظر اور موقع پرست لوگوں کا وطیرہ یہی ہے کہ سنیوں کے خلاف زہرافشانی کریں۔
انہوں نے مزید کہا بلوچ عوام اور ایران کی سنی برادری اسلام پسند، اتحاد کے داعی اور اپنے وطن سے پیار کرنے والے ہیں، فرقہ پرستی اور علیحدہ پسندی سے کوسوں دور یہ برادری مسلکی تعصب سے پاک مذہبی حکومت کو کسی بھی اور طرز حکومت پر ترجیح دیتی ہے۔
ایرانی اہل سنت کے ممتاز عالم دين نے اپنے خطاب کے دوران کہا ایران کے بلوچ عوام اور سنی برادری کو کئی عشروں سے سردمہری اور مختلف شعبوں میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے اور اس مسئلے کی بنیادی وجہ اعلی حکام کا مسلکی تعصب اور جانبداری ہے۔ اب تک سنی برادری نے ان تمام مسائل کو اتحاد اور ملی وحدت کے خاطر برداشت کی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا اب وہ وقت آپہنچاہے کہ حکام ایک مخصوص مسلک سے بالاتر ہوکر پوری قوم کو ایک نظر سے دیکھیں اور بلوچ عوام سمیت اہل سنت والجماعت کو ان کے حقوق دلوائیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں