کوسوو: ہزاروں افراد کا حجاب پر پابندی کے خلاف مظاہرہ

کوسوو: ہزاروں افراد کا حجاب پر پابندی کے خلاف مظاہرہ
kosovoپریسٹینا (ایجنسیاں) کوسوو میں قریباً پانچ ہزار افراد نے حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں بچیوں کے حجاب اوڑھنے پر لگائی گئی پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے طالبات پر حجاب اوڑھنے پرپابندی کے خلاف مظاہرے میں شرکت کے لیے ملک بھر سے لوگ دارالحکومت پریسٹینا پہنچے تھے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے کو واپس لے اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک نہ کرے۔
مظاہرے کے منتظم حلیل کستریتی کا کہنا تھا کہ ”ہم اپنی بچیوں کو اسکولوں میں سرپوش پہننے کی اجازت ملنے تک مظاہرے جاری رکھیں گے”۔واضح رہے کہ کوسوو کی نوے فی صد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے لیکن 2008ء میں آزادی کا اعلان کرنے والا یہ ملک سیکولر طرزحکومت کا حامل ہے۔
مظاہرین نے دارالحکومت میں وزرات تعلیم کے دفاتر تک مارچ کیا جس نے طالبات کے سرپوش اوڑھنے پر پابندی لگائی ہے۔ انہوں نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر یہ نعرے درج تھے:”ہماری ریاست کو ہمارے ہی خلاف استعمال نہ کرو”۔”کمیونزم ختم ہو چکا”۔
ایک طالبہ فطور ابازی کا کہنا تھا کہ ” سرپوش ایک یونیفارم نہیں بلکہ میرا مذہبی فریضہ ہے۔ میں اپنے مذہب کا احترام کرتی ہوں مگر میں اپنی فیکلٹی بھی جانا چاہتی ہوں ”۔
یاد رہے کہ کوسوو کو اب تک دنیا کے صرف انہتر ممالک نے آزاد ملک کے طور پر تسلیم کیا ہے جن میں مغربی یورپ، امریکا اور بعض مسلم ممالک شامل ہیں۔ وہ ابھی تک اقوام متحدہ کا رکن ملک بھی نہیں بن سکا ہے۔ سربیا اس کی آزادی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے دوبارہ اپنا ایک صوبہ بنانا چاہتا ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں