افغان سرحد کے قریب طالبان کا حملہ، 54 پاکستانی فوجی لاپتہ

افغان سرحد کے قریب طالبان کا حملہ، 54 پاکستانی فوجی لاپتہ
pakistani-troopsپشاور(بی بی سی اردو)پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ تین دن قبل قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں افغان سرحد کے قریب طالبان کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران لاپتہ ہونے والے درجنوں سکیورٹی اہلکاروں کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے اور ان کی تلاش کا کام جاری ہے۔

ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقے شونکڑئی میں سرحد پار سے افغان طالبان کی طرف سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے کے بعد کئی سکیورٹی اہلکاروں سے رابط منقطع ہوگیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان میں دس اہلکار تو اسی دن اپنی اپنی چیک پوسٹوں پر واپس آ گئے تھے تاہم تقریباً چالیس کے قریب اہلکار بدستور لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس جھڑپ میں کئی افغان شدت پسند مارے گئے تھے جبکہ سکیورٹی فورسز کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ اہلکار نے اس بات سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا کہ ان لاپتہ اہلکاروں میں سے بعض نے غلطی سے افغان سرحد عبور کرکے وہاں افغان حکام کے ہاں پناہ لے لی اور بعد میں انھیں پاکستانی سفارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انھیں پاکستانی دفتر خارجہ سے ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے جس سے معلوم ہوسکے کہ ان کے اہلکاروں نے افغان حکام کے ہاں پناہ لی تھی۔
ادھر دوسری طرف پاکستان کے سرحد سے ملحق واقع افغان صوبہ کونڑ کے ایک اعلیٰ فوجی اہلکار جنرل محمد افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ پچھلے چار پانچ دنوں سے پاک افغان سرحدی علاقوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران دو دفعہ پاکستانی اہلکار غلطی سے سرحد عبور کرکے افغان علاقے میں داخل ہوئے اور وہاں لوگوں کے ہاں پناہ لے لی۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں ان اہلکاروں کو افغان صوبہ صوبہ ننگرہار میں متعین قائم پاکستانی سفارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں کے ایک کمانڈر یاسین صافی نے دو دن قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ شونکڑئی میں ہونے والی جھڑپ میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ دس کو یرغمال بنالیا گیا ہے۔ انہوں نے یرغمال بنائے جانے والے اہلکاروں کے نام، ولدیت اور رینکس بھی بتائے تھے۔ تاہم مقامی ذرائع سے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔
دریں اثناء افغان طالبان نے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فوسرز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے میں چالیس اہلکاروں کو یرغمال بنانے کا دعٰویٰ کیا ہے۔
طالبان کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو اغوا کیے جانے والے چالیس اہلکاروں کو سرحد کے دنوں جانب رکھا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تیس سکیورٹی اہلکار ان کے قبضے میں ہیں جبکہ دس اہلکاروں پاکستان میں یرغمال ہیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں