افغانستان میں بڑی مقدار میں معدنی ذخائرکی دریافت:امریکی رپورٹ

افغانستان میں بڑی مقدار میں معدنی ذخائرکی دریافت:امریکی رپورٹ
mineralکابل (ایجنسیاں) امریکا کے ایک مطالعے کے مطابق افغانستان میں ایک ٹریلین ڈالرز کے لگ بھگ مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں لیکن جنگ زدہ ملک کی جانب سے اس معدنی دولت سے فائدہ اٹھانے کے حوالے سے شکوک وشبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔

امریکی ماہرین کے مطالعے کے حتمی نتائج نیویارک ٹائمز نے سوموارکواپنی ایک رپورٹ میں شائع کیے ہیں جس میں لیتھییم،فولاد،سونے،نیوبیم ،کوبالٹ اور دوسری معدنیات کے پہلے سے نامعلوم ذخائر دریافت ہونے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔اخبار نے لکھا ہے کہ ان معدنی ذخائر سے افغانستان کان کنی کا ایک بڑی مرکز بن سکتا ہے۔
افغان صدرحامد کرزئی نے جنوری میں امریکی ماہرین ارضیات کی ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پرکہا تھا کہ قدرتی ذخائر سے فائدہ اٹھاکرجنگ زدہ ملک کو دنیا کے امیرترین ممالک میں سے ایک بنایا جاسکتاہے۔
افغانستان کی معدنیات اورصنعتوں کی وزارت کے ترجمان جوادعمر نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”قدرتی وسائل ملک کی معاشی ترقی میں اہم کرداراداکریں گے”۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ پانچ عشروں کے دوران ہونے والی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ہرنئی تلاش اور تحقیق کے موقع پرماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مقدار میں نئے قدرتی وسائل دریافت ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ افغان حکومت پہلے ہی کرومائیٹ،قدرتی گیس،تیل اورقیمتی پتھروں کے بڑے ذخائر کی ملک میں موجودگی کی اطلاع دے چکی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ افغانستان کے لیتھییم کے ذخائر بولیویا کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں جو اس وقت اس ہلکی دھات کے سب سے زیادہ ذخائر کا مالک ملک ہے۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں لیتھییم کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اس کو موبائل فون سے لے کر کیمروں اور لیپ ٹاپ تک کی بیٹریوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتاہے۔مستقبل میں الیکٹرک اورہائی برڈ کاروں کی طلب میں اضافے سے اس قیمتی دھات کی طلب میں بھی اضافہ ہوگا۔
نیویارک ٹائمز نے امریکی محکمہ دفاع کے ایک داخلی میمو کے حوالے سے لکھا ہے کہ افغانستان میں اس دھات کی مقداراتنی زیادہ ہے کہ وہ ”لیتھییم کا سعودی عرب” بن سکتا ہے۔امریکی حکام کے مطابق افغانستان میں فولاد اورتانبے کے اتنے ذخائر موجودہیں کہ اس کا شماران دونوں دھاتوں کی پیداواربڑے ممالک میں ہوسکتا ہے۔
امریکی سنٹرل کمان کے سربراہ جنرل ڈیوڈپیٹریاس کا کہنا ہے کہ ”افغانستان میں بہت سے ”اگر”موجود ہیں لیکن میرے خیال میں یہ بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔

چیلنجز

افغانستان گذشتہ تین عشروں سے جنگوں اور تنازعات کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس ملک کے معدنی ذخائر سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکا ہے جبکہ اس وقت جنگ زدہ ملک پر گذشتہ نوسال سے سوالاکھ کے قریب غیر ملکی فوج قابض ہے جس کی طالبان اور دوسرے اسلامی جنگجو مزاحمت کررہے ہیں۔
افغانستان کو معدنی دولت سے فائدہ اٹھانے اور اسے مارکیٹ تک لانے کے لیے ابھی بہت اقدامات کی ضرورت ہے۔اس وقت اس ملک کے شمالی حصے کوجنوب سے ملانے والی صرف ایک قومی شاہراہ ہے جبکہ اس شاہراہ پر بھی آئے دن بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمزور مرکزی حکومت کی وجہ سے افغانستان فی الوقت اپنی معدنی دولت سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں۔
ایک سیاسی تجزیہ کارجنان موسیٰ زئی کا کہنا ہے کہ ”مجھے اس میں بہت زیادہ شک ہے کہ یہ حکومت قدرتی وسائل کا مناسب انتظام کرسکے گی یا انہیں بروئے کارلاکر افغانستان کوتمام افغانوں کے لیے زیادہ پُرامن اورخوشحال بنا سکے گی”۔
انہوں نے کہا کہ ”ہمارے پاس دوسرے ممالک کی زندہ مثالیں موجود ہیں جہاں قدرتی دولت کو عوام کی خوشحالی اورامن کے لیے مناسب طریقے سے بروئے کارنہیں لایا جاسکاہے”۔اس ضمن میں انہوں نے نائیجیریا کا حوالہ دیا جہاں تیل کی بڑے پیمانے پربرآمدات کے باوجودنہ ختم ہونے والی غربت اور تنازعات بھی موجود ہیں۔
موسیٰ زئی کا کہنا ہے کہ افغان اورسوویت ماہرین ارضیات اس سے پہلے قیمتی معدنی ذخائر کی افغانستان میں موجودگی کی اطلاع دے چکے ہیں لیکن اب ان معلومات میں صرف یہ اضافہ ہواہے کہ ان کی قیمت ڈالرز میں بتائی جارہی ہے۔
چین اوربھارت پہلے ہی افغانستان میں کان کنی اور کانوں کی تعمیروترقی کے لیے ٹھیکے حاصل کرنے کی غرض سے کوشاں ہیں۔چین تانبا نکالنے کا ٹھیکا حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے جبکہ فولاد نکالنے کا ٹھیکا اسی سال کے آخر میں دیا جارہا ہے۔
افغانستان میں نئی معدنیات کی دریافت سے یہاں بھی چین اور امریکا کے مفادات کا ایک مرتبہ پھرتصادم ہوسکتا ہے۔واشنگٹن میں بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں تانبانکالنے کا ٹھیکا اوراس قیمتی دھات سے فائدہ توچین حاصل کررہا ہے جبکہ امریکی فوجی صرف طالبان مزاحمت کاروں سے ہی نبردآزما ہیں۔
بعض دوسرے تجزیہ کاروں اورعسکری امور کے ماہرین کے بہ قول امریکی فوج اپنی سرتوڑ کوشش کے باوجودگذشتہ ساڑھے نوسال کے دوران افغانستان میں طالبان کی مزاحمت کچلنے میں ناکام رہی ہے اوراب امریکا نے اس ناکامی کے بعدطالبان سے سلسلہ جنبانی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن طالبان کی جانب سے مذاکرات سے مسلسل انکار کی وجہ سے امریکا کو اس میں بھی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں