مسلم دنیا، یورپی یونین کی طرح اکٹھی نہیں کی جا سکتی؟

مسلم دنیا، یورپی یونین کی طرح اکٹھی نہیں کی جا سکتی؟
islamic-worldاسلامی دنیا میں باہم متحد ہونے کی خواہش مضبوطی اور شدت اختیار کرتی جارہی ہے متعدد سروے اور عوامی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر جیسے دور دراز ملک سے لیکر پاکستان تک مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شریعت کے ضابطوں پر مشتمل قوانین کی تشکیل اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی خواہاں ہے. ایک نقطہ نظر کے مطابق اتحاد کی یہ ضرورت اسلامی مذہبی کے عین مطابق اور ان نظریات کے برعکس ہے جس کا مقصد پان عرب ازم یا کسی قسم کی سوشلسٹ یونین قائم کرنا ہے۔

بہت سے حلقوں میں جاری بحث کا موضوع یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے اتحاد کا قیام کیسے ممکن ہو سکے گا؟ عام شہریوں اور القاعدہ پر حملے کی امریکی پالیسی کی بابت مسلمانوں کی آراء جاننے کے لئے 2007ء میں عالمی رائے عامہ کی تنظیم کے تحت کی گئی رائے شماری میں انکشاف کیا گیا کہ مسلم دنیا کے اوسطاً 65 فیصد لوگ تمام مسلمان ممالک کو ملا کر واحد اسلامی مملکت یا خلافت کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔
اس موضوع پر بھی بڑے زور شور سے بحث جاری ہے کہ مسلمانوں کے 50 سے زائد ممالک اور ریاستوں کو کس طرح سے متحد کیا جا سکتا ہے؟ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ تمام مسلم ممالک ملکر ایک ”مسلم یونین“ کو تشکیل دیں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس یونین کو یورپی یونین کے طرز پر قائم ہونا چاہئے۔ نصف صدی سے کچھ زیادہ عرصہ پہلے تک جو ممالک ایک دوسرے کے لوگوں کو لاکھوں کی تعداد میں قتل کررہے تھے یورپی یونین ان متحارب ممالک کو ایک دوسرے کے نزدیک لانے میں کامیاب ہوگئی لہٰذا اس بات کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے اس کے علاوہ یورپی یونین پر اثر انداز ہونے والا حالیہ عالمی معاشی بحران ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم سخت چیلنجز کے سامنے یورپی یونین کے اختیار کئے جانے والے مضبوط لائحہ عمل کابھی تجزیہ کریں۔یورپی یونین کے منصوبے کے پس پردہ اصل مقصد مختلف یورپی ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانا تھا تاکہ معاشی خوشحالی میں اضافہ ہو اوراس طرح مزید کسی جنگ کے امکانات کو روکا جا سکے۔
یورپی یونین کے قیام سے پہلے تین تنظیمیں موجود تھیں جو سردجنگ کے زمانے کے دوران قائم کی گئی تھیں۔ جن میں سے ایک ”یورپین کول اینڈ اسٹیل کمیونٹی“ ECSC کے نام سے جانی جاتی تھی۔ اس تنظیم کا مقصد مختلف یورپی ممالک کے مابین خوشحالی کو قائم کرنے کے لئے یورپی براعظم میں کوئلے اوراسٹیل کی صنعتوں کی واحد مارکیٹ کا قیام تھا جو جنگ کے حوالے سے کلیدی صنعت کا درجہ رکھتی ہے۔ دوسری تنظیم”یورپین اکنامک کمیونٹی“ تھی جو پہلے جنرل کسٹم اور معاشی تعاون کی تنظیم کے طور پر کام کررہی تھی اور جس نے آگے چل کر ایک واحد مارکیٹ کی شکل اختیار کرلی تھی۔ اس کے علاوہ یورپین انامک انرجی کمیونٹی“ کا مقصد رکن ممالک کے مابین ایٹمی توانائی میں تعاون کی سہولت فراہم کرنا تھا۔یہ تنظیمیں سرمایہ دار یورپی ریاستوں کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم تھیں جہاں وہ مشترکہ نظریاتی رشتے کی بنیاد پر باہم مل جل کر باہمی فائدے حاصل کرتے تھے۔ یورپ میں موجود کمیونسٹ قوموں کواس حلقہ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
سرد جنگ کے بعد یورپی یونین کے قیام نے ان تینوں تنظیموں کی جگہ لے کر ایک ایسی مشترکہ مارکیٹ قائم کی جو معیاری قوانین کے ذریعے یورپ کے مابین ہونے والی تجارت کو سہولتیں فراہم کر سکیں اور جس کے ذریعے لوگوں ، اشیاء، خدمات اور سرمائے کی آزادانہ نقل و حمل کو ممکن بنایا جاسکے۔ تمام اقوام کومزید طاقت مہیا کرنے کیلئے ایسے وسیع معاشی بلاک کی تشکیل ہوتی جسے وہ عالمی منظر میں انفرادی طور پر حاصل نہیں کر سکتی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی اقوام بین الاقوامی پارٹنر مثلاً امریکہ اور روس کے ساتھ بہتر تجارتی معاہدے حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئیں۔ چنانچہ گزشتہ صدیوں کے برعکس اقتصادی قوت میں یہ اضافہ دنیا میں ان کے سیاسی حلقہ اثر کو بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔ یورپی اتحاد کا پھیلاؤ سیاسی اور اقتصادی اسباب کی بنا پر ممکن ہوا۔ اس کے باعث جرمنی کی طرح زیادہ امیر ممالک کو سستی افرادی قوت بھی حاصل ہوئی ہے تاہم جرمنی نے اپنے سیاسی اور اقتصادی معاملات کو یورپ کی دوسری اقوام کیساتھ منسلک کر دیا ہے۔ جسکے باعث پڑوسی ممالک کے درمیان آپس میں جنگ کرنے کے امکانات محدود ہوگئے ہیں اسکے علاوہ اب غریب ممالک کیلئے اپنے ملک کے اقتصادی ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے یورو کی مضبوط قوت کی وجہ سے کم شرح سود پر قرضے لینا ممکن ہو سکے گا۔
یورو کی قیمت میں یہ استحکام بڑی حد تک جرمن مارک اور جرمنی کی اقتصادی قوت کا مرہون منت ہے غریب اقوام کو بڑی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی اور وہ محصولات اور دوسری رکاوٹوں کے بغیر پیسہ کماسکیں گی۔ جسکے نتیجے میں امیر قومیں بڑی مارکیٹوں میں کم قیمتوں پر اشیاء کو بیچنے کے قابل ہوں گی۔ سیاسی طور پر یورپین اتحاد معاہدہ وارسا کی اقوام اور سابقہ روسی جمہوریتوں کیلئے بھی باعث کشش ہے کیونکہ اس سے انہیں اپنے لئے بھی بہتر اقتصادی مستقبل کی امید پیدا ہو گئی ہے اور اس اتحاد سے انکی شمولیت سے روسی مداخلت کے امکانات بھی کم ہو جائینگے۔ یورپین یونین کا پھیلاؤ ظاہراً جمہوریت کا پرچار کرکے مختلف ممالک مثلاً جرمنی اور فرانس کو بے ضرر طریقے سے مشرقی یورپ میں اپنے حلقہ اثر کو وسعت دینے کی حمایت کریگا۔ سابقہ کمیونسٹ ممالک سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ یورپی اتحاد میں شمولیت کے بعد وہ بھی سرمایہ دارانہ نظام میں حصہ دار بن جائینگے۔ تاہم یہ ممالک اقتصادی اور سیاسی طور پر یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ منسلک ہوگئے ہیں۔اگرچہ عملی طور پر یورپی یونین نے پارلیمنٹ اورعدالتوں کی صورت میں اپنا نظام قائم کر دیا تھا۔
یورپی یونین کی سب سے اہم خصوصیت اس کی واحد مارکیٹ کاقیام ہے جس نے یورو کی قیمت میں اضافہ کیا۔ اسکے علاوہ قانون کی روسے تمام رکن ممالک پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ مارکیٹ کو مستحکم کریں۔ اس میں رکن ممالک کے مابین افراد، روزگار کے مواقع یونین کیلئے سبسڈی اور مالی امداد کی تقسیم کے قوانین بھی شامل ہیں۔
بہرکیف، یہ سب نظریات کی حد تک توٹھیک ہے لیکن اس میں کئی عملی مسائل بھی ہیں مثلاً یورپی یونین کے باشندوں کا کسی بھی یورپی ملک میں جاکر کام کرنے کی وجہ سے اس ملک کے مقامی باشندوں کی ملازمتوں میں حق تلفی کی بنا پر ہر رکن ملک میں اندرونی خدشات جنم لے رہے ہیں۔ بہرحال جب سے یورپین یونین کا آغاز ہوا ہے اس نے حقیقی چیلنج کا سامنا نہیں کیا تھا لیکن حالیہ عالمی معاشی بحران نے اس یونین میں موجود بہت سی خامیوں کو ظاہر کر دیا ہے۔ چند ملکوں مثلاً یونان کی معاشی ناتجربہ کاری نے یورو زون کو بحران کی جانب دھکیل دیا ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سے ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔ یونان کا بھاری قرضہ یورپی یونین کی خودمختاری کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے ۔ ”پی آئی آئی جی ایس“ کی دیگر ریاستیں یورپین یونین کی بقا کے حوالے سے بھی سوال کریں گی اور اگر ان میں سے کسی ایک نے بھی یورپی یونین کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تو معاشی اور سیاسی پروجیکٹ کے طور پر یورپی یونین ایک ناکام پروجیکٹ ثابت ہوگا۔ اس مسئلے کاایک قابل عمل حل یہ ہے کہ یونان اپنے اخراجات میں خاطر خواہ کمی اور ٹیکسوں میں اضافہ کرکے یورپی یونین اوردوسرے اداروں سے بیل آؤٹ کرسکتا ہے اس صورتحال کا ایک پیچیدہ نتیجہ یہ برآمد ہوگا کہ یونان کے قرض کابوجھ یورپی اتحاد تک پھیل جائے گا اور دوسرے ممالک کے شہریوں کو بھی قرض کی اس ادائیگی میں شامل ہونا پڑے گا۔
یورپی یونین کامسئلہ یہ ہے کہ اس نے عام مشترکہ مارکیٹ کی حدود سے تجاوز کرکے ترقی کرنے کی کوشش کی جس کا مقصد تمام رکن ممالک کو بآسانی تجارتی زون تک رسائی دینا اور خوشحالی لانا تھا مگر اب آپ ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ طاقت غیرملکی مرکزی تنظیم کی جانب منتقل ہورہی ہے لیکن یہاں ہر کسی ایسی مرکزی حکومت کا وجود نہیں جو رکن ممالک کو مکمل ہدایات جاری کر سکے۔ یورپی یونین نہایت ہم آہنگی سے اس سمت کی جانب رخ کررہی ہے لیکن یہ نہایت متنازع صورتحال ہے۔مرکزی بجٹ اتھارٹی قائم کرکے ہر رکن ملک اپنا بجٹ طے کرنے کے اختیار سے محروم ہوجائے گا۔ جس سے صحت ، تعلیم، فوج، سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں پر اثر پڑے گا۔اس سے قومی سیاست کی بنیاد بھی متاثرہوگی اور مقامی سیاستدان ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائیں گے۔
باضابطہ یورپی یونین کی بڑی ریاست کی تشکیل اورمتحد حکومت کے نفاذ کے بغیر، یورپی یونین رکن ممالک کومتحد کرنے کے برعکس ان کے درمیان اختلافات پیدا کرے گی۔ اصولی طور پر سیاسی یونین کا آئیڈیا یورپی یونین کی بنیاد کی حقیقی اساس سے تضاد رکھتا ہے۔ جس کا مقصد ہرخود مختار قومی ریاست کو مالی فائدہ دینا تھا۔
بہرحال مسلم دنیا میں اتحاد کی خواہش کو یورپی ممالک کی سرمایہ داری کے فروغ کی خواہش سے اخذ نہیں کیا گیا تاکہ وہ مالی طور سے ایک دوسرے کوفائدہ پہنچا سکیں بلکہ سیاسی اتحاد پیدا کرنے کیلئے مسلم دنیا کا اتحاد ایک نظریاتی موٴقف پرمبنی ہے جو اسلام کی میراث ہے چنانچہ اسلامی اتحاد کومالی فائدے کے برعکس مشترکہ نظریاتی بنیاد”اسلام“ کواپنانے کی ضرورت ہوگی۔ واحد مسلم ریاستیں نسبتاً ایک نئی حقیقت ہے جو 20ویں صدی میں یورپین استعماری تسلط سے نجات پانے کے بعد الگ الگ ممالک کی شکل اختیار کرگئیں تاہم عرب لیگ اور اسلامی سربراہی کانفرنس کی شکل میں مسلم دنیا میں دوبارہ اتحاد کو قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں لیکن یہ تنظیم سیاست ،معیشت ، قانون اور وسائل میں اتحاد، جس کا مطالبہ مسلم دنیا میں کیا جا رہا ہے، لانے کے برعکس صرف ایک ثقافتی تنظیم اور تبادلہ خیال کا فورم ثابت ہوئی ہیں جن کے پاس ایسی فیصلہ سازی کاکوئی اختیار ہی نہیں ہے جو براہ راست رکن ممالک کے لوگوں پر اثر انداز ہو سکے۔یہ رکن ممالک غیرواضح ثقافتی وابستگی کے علاوہ ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ بنیادوں پر اشتراک بھی نہیں کرتے۔ یہ رکن ممالک آمریت، جمہوریت، امارات ،مذہبی اورشاہی طرزِ حکومت پر عمل کررہے ہیں اور جو مختلف طریقوں سے مخصوص اسلامی قوانین کے ساتھ سرمایہ داری اور اشتراکیت کے نظام پر عمل پیرا ہیں.
تاریخ بتاتی ہے کہ اسلامی دنیامیں اتحاد، خلافت کے ادارے سے حاصل ہواہے۔ یہ طریقہ اسلام کے آغاز کے 13سال بعد قائم ہوا جو یورپین یونین کی مرحلہ وار اصلاحات کے طریقہ کارکی پیروی نہیں کرتا۔ خلافت اپنے نظریئے کے اعتبار سے اپنے مختلف صوبوں کے مفاد کویکجا کرتی ہے جبکہ یورپین یونین مختلف ممالک کے درمیان خلیج برقرار رکھتی ہے۔ خلافت اسلام کے بااختیار نظریئے پرقائم ہے جو نہ صرف عربوں کے مختلف النوع مقابل بلکہ غیر ملکیوں مثلاً فارسی ، مصری، اناطولیہ اور وسطی ایشیاء کے لوگوں کو بھی متحد کرتی ہے جو تاریخی خلافت کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔
مسلم دنیا کے سیاسی اتحاد میں پیش آنے والی رکاوٹوں کی وجہ ان کا حکمران طبقہ ہے جو نہ تو اسلام کو ایک جامع نظرئیے کے طور پردیکھتا ہے اور نہ ہی ریاست پر سے اپنا اختیار رکھنا چاہتا ہے۔ مسلم دنیا میں یورپی یونین کی طرز کا معاشی اتحاد بنیادی رکاوٹوں کو ختم نہیں کر سکتا۔ یورپین یونین کے طرز کی مسلم یونین مختلف مسلم حکومتوں کے درمیان اتحاد کے بجائے سیاسی اختلافات کو ہوا دے گی۔
درحقیقت ، عملی طور پر چونکہ مسلم ممالک کے درمیان اسلام یا اس سے ہٹ کر مشترکہ نظریات کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے جس کے باعث وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل سکیں مسلمانوں کیلئے پائیدار یونین کاطریقہ یہ ہے کہ اسلام کی نظریاتی بنیادوں پر ایک ریاست قائم کی جائے جو سیاسی اتحاد کے تحت مفادات کو اکٹھا کرے اور ایک واحد حکمران کے ساتھ تمام علاقوں میں ایک طرز حکومت کا نفاذ عمل میں لائے گی۔ یورپین ممالک کو سرمایہ داری نظام کی وجہ سے متحد ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اس لئے یورپین یونین کا نمونہ اسلامی عوام کی خواہشوں کے مطابق اتحاد نہیں لاسکتا۔ جس کے باعث مسلمانوں کے لئے صرف خلافت ہی ایک قابل عمل متبادل رہ جاتا ہے۔

محمد عاصم
(بہ شکریہ روزنامہ جنگ)

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں