اسلام آباد کے قریب نیٹو کے کنٹینروں پر حملہ؛ اب امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ترک کردیں

اسلام آباد کے قریب نیٹو کے کنٹینروں پر حملہ؛ اب امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ترک کردیں
obama-zardariوفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے قریب سنگ جانی میں منگل کو رات گئے نامعلوم مسلح افراد نے نیٹو فورسز کیلئے سامان لے جانیوالے کنٹینرز پر اندھا دھند فائرنگ کردی اور ٹرمینل پر کھڑے 35 سے زائد کنٹینروں کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق ایک کنٹینر ڈرائیور سمیت 9 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوگئے جبکہ پندرہ کنٹینرز مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئے اور باقیماندہ کنٹینروں کو بھی نقصان پہنچا‘ حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔ کنٹینرز میں آگ لگنے کے دوران دھماکوں کی آوازیں بھی آتی رہیں جبکہ مسلح افراد اور پولیس کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

ان کنٹینرز میں نیٹو افواج کیلئے ضروری سامان‘ گاڑیاں‘ تیل اور طبی سامان موجود تھا جبکہ غیرمصدقہ ذرائع کے مطابق ٹرکوں میں اسلحہ بھی موجود تھا‘ وقوعہ کے بعد ترنول کے پورے علاقے میں سرچ اپریشن شروع کر دیا گیا جو بدھ کی صبح تک جاری رہا۔ یہ حملہ آور دو گاڑیوں اور چھ موٹر سائیکلوں پر آئے تھے اور کنٹینروں پر چاروں اطراف سے فائرنگ شروع کر دی‘ فائرنگ سے قبل ان حملہ آوروں نے نعرے بھی لگائے اور فائرنگ کے بعد کنٹینروں کو آگ لگادی۔
افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کیلئے تیل‘ اسلحہ اور سامان خورد و نوش لے جانیوالے کنٹینروں پر پہلے اندرون سندھ اور قبائلی علاقوں میں بھی حملے ہو چکے ہیں‘ تاہم اسلام آباد کے نزدیک سنگ جانی کے مقام پر نیٹو کے کنٹینروں پر حملے کی یہ سب سے بڑی واردات تھی جو اس حوالے سے بھی تشویشناک ہے کہ یہ وفاقی دارالحکومت کے پاس رونما ہوئی ہے اور جتنی دیدہ دلیری کے ساتھ مسلح حملہ آوروں نے یہ کارروائی کی اور پولیس اور انتظامی مشینری کو بے بس کرکے اپنے مشن کی تکمیل کی‘ وہ چاہتے تو اسلام آباد کے اندر بھی کسی بڑی تباہی کا باعث بن سکتے تھے‘ اس حوالے سے جہاں ہائی الرٹ والے علاقوں میں بھی سیکورٹی لیپس سامنے آرہے ہیں‘ جس سے شہریوں میں عدم تحفظ کی فضاء مزید گھمبیر ہو رہی ہے‘ وہاں ایسے واقعات کے پس پردہ محرکات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ افغانستان میں نیٹو افواج کی موجودگی‘ ان کی جانب سے شہریوں کے قتل عام اور پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کے ردعمل میں خودکش حملے بھی ہو رہے ہیں اور نیٹو افواج کیلئے پاکستان کے راستے افغانستان سامان رسد لے جانیوالے کنٹینروں کو بھی روک کر ان پر حملے کئے جا رہے ہیں اور ان پر موجود سامان کی لوٹ مار کی جا رہی ہے‘ اس لئے بادی النظر میں “سنگ جانی” اسلام آباد کا واقعہ بھی ایسے ہی کسی ردعمل کا شاخسانہ نظر آتا ہے۔ بالخصوص ان حالات میں جب امریکہ کی جانب سے ٹائمز سکوائر نیویارک کے واقعہ کے تناظر میں پاکستان پر قبائلی علاقوں کے علاہ شمالی وزیرستان اور پنجاب میں بھی فوجی اپریشن شروع کرنے کیلئے دبائو بڑھایا جا رہا ہے اور اب امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاء رابرٹ بلیک نے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں بلاگ گروپ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ دہشت گردوں کیخلاف جنوبی پنجاب میں بھی کارروائی کیلئے بھارت ہماری پاکستان سٹریٹجی کی حمایت کرتا ہے۔ ممکن ہے امریکہ بھارت اس مشترکہ پالیسی کے ردعمل میں ہی اسلام آباد کے قریب نیٹو کنٹینروں کو نشانہ بنایا گیا ہو جس کا مقصد یہ پیغام دینا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ اپریشن کا دائرہ جنوبی پنجاب تک بڑھائیں گے تو آپ کو ہمارے ایسے اور اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑیگا۔
خودکش حملوں اور دیگر وارداتوں میں تو انتہا پسندوں کے علاوہ امریکی اور بھارتی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے امکانات کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا اور ایسی کئی وارداتوں میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد بھی وزارت داخلہ کے پاس موجود ہیں جیسا کہ لاہور میں قادیانیوں کی عبادت گاہوں پر ہونیوالے حملوں کے بارے میں لاہور پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں یہی نتیجہ اخذ کیا گیا ہے‘ تاہم نیٹو افواج کیلئے سامان لے جانیوالے ٹرکوں‘ آئل ٹینکروں اور کنٹینروں پر حملے یقینی طور پر نیٹو افواج کی افغانستان میں موجودگی کے ردعمل میں ہی ہو رہے ہیں‘ جن میں بالخصوص افغان جہادیوں کی منصوبہ بندی کا عمل دخل ہو گا اس لئے پاکستان افغانستان کیلئے امریکی پالیسی میں تبدیلی لائے اور نیٹو افواج کو افغان دھرتی سے واپس بھجوائے بغیر ان حملوں کو روکنا مشکل ہو گا جبکہ یہ حملے ہماری سلامتی کیلئے بھی سنگین خطرے کا باعث بن چکے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے جرنیلی اور جمہوری حکمرانوں نے امریکی مفادات کی جنگ میں اسکے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار یکساں طور پر قبول کرکے ملک کی سلامتی کیلئے خطرات پیدا کئے ہیں‘ یہ طرفہ تماشہ ہے کہ امریکہ ہماری سیکورٹی فورسز کے ذریعے بھی دونوں جانب سے کلمہ گو بھائیوں کا خون بہا رہا ہے‘ خود بھی ڈرون حملوں کے ذریعے ہمارے شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے جبکہ نیٹو افواج کو ہمارے قتل کا سامان بھی ہماری ہی دھرتی سے ہمارے ہی ذریعے فراہم کیا جاتا ہے اور یہ سامان لے جانیوالے کنٹینروں کو تیل بھی ٹیکس فری فراہم کیا جاتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں آئے روز کے اضافہ کے نتیجہ میں مہنگائی کی حدیں آسمان تک پہنچنے کے باعث عام آدمی بھوکا مر رہا ہے اور خودکشی اور خودسوزی کی راہیں اختیار کر رہا ہے مگر اس عام آدمی کو مارنے کی ہمارے حکمرانوں کو راہ دکھانے والی اسلام دشمن طاغوتی قوتوں کو اسلحہ‘ سامان خوردو نوش اور تیل بھی سستے نرخوں پر ہماری جانب سے فراہم کیا جاتا ہے‘ انکے اہلکار یہاں دندناتے پھرتے ہیں۔ پاکستان کو راہداری بنا کر یہاں سے افغانستان بھجوائے جانیوالے نیٹو کے کنٹینرز ہماری سڑکوں کو بھی تباہ و برباد کر رہے ہیں اور بدمعاشی کرتے ہوئے ہمارا گلا بھی دبا رہے ہیں جبکہ اسکے ردعمل میں نیٹو کنٹینروں پر حملے یا دہشت گردی کی کوئی دوسری واردات رونما ہوتی ہے تو وہ بھی ہماری سلامتی کیلئے ہی سنگین خطرے کا باعث بنتی ہے۔ اس صورتحال میں قوم کو فطری طور پر تشویش لاحق ہو سکتی ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے ہاتھوں ملک کی آزادی اور خودمختاری محفوظ بھی رہ پائے گی یا نہیں؟
اس تناظر میں اسلام آباد کے نزدیک نیٹو کنٹینروں پر حملے کے واقعہ کی روشنی میں حکومت کو سب سے پہلے نیٹو افواج کیلئے پاکستان کے اندر سے افغانستان سامان بھجوانے اور اس مقصد کیلئے کنٹینروں کی آمد و رفت کا سلسلہ فی الفور بند کرا دینا چاہئے اور سانپ کو دودھ پلانے کی پالیسی ترک کردینی چاہئے‘ اسی طرح پاکستان کے اندر اپنے ہی شہریوں کیخلاف فوجی اپریشن کی پالیسی پر بھی نظرثانی کی جائے اور بجائے اسکے کہ امریکہ کے دبائو پر اپریشن کا دائرہ شمالی وزیرستان اور جنوبی پنجاب تک وسیع کرکے اسکے ردعمل میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کے ذریعے ملک کی مزید تباہی اور مزید انسانی ہلاکتوں کی بنیاد رکھی جائے‘ بہتر یہی ہو گا کہ اب فوجی اپریشن سرے سے ختم کردیا جائے اور امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ترک کرکے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی جانب توجہ دی جائے جو امریکہ‘ بھارت‘ اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ کی سازشوں کے باعث سخت خطرات میں گھر چکی ہیں۔ اسلام آباد کا واقعہ بیشک سیکورٹی لیپس کی بھی عکاسی کرتا ہے مگر یہ ہمارے لئے ایک پیغا م بھی ہے کہ اب ملک کی سالمیت کو دائو پر لگانے سے گریز کیا جائے‘ ہم امریکی مفادات کی جنگ میں اپنا جتنا نقصان کر بیٹھے ہیں‘ وہ بھی ناقابل تلافی ہے جبکہ ہم مزید نقصان کے تو متحمل ہی نہیں ہو سکتے۔

اداریہ نوائے وقت


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں