اُمت مسلمہ کے موجودہ حالات اورآئندہ کے امکانات

اُمت مسلمہ کے موجودہ حالات اورآئندہ کے امکانات
muslim-ummah30 ستمبر 2005ء کو ڈنمارک کے اخبار یولاندپوسٹن کے بارہ شیطانی خاکوں نے مسلم دنیا کی ایمانی غیرت کو للکارا تھا اور اُسے جنوری 2006 ء میں 22 ممالک کے 75 اخبارت نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ دوبارہ شائع کیا ، 200 ریڈیو اور ٹی وی چینلز نے انہیں اس ارادے سے بار بار نشر کیا کہ مسلمانوں کو اسکا عادی بناکرانکے ردعمل کی قوت کو ختم کر دیں ۔

مختلف ممالک نے اسے تہذیبوں کے تصادم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی اور اب 20 مئی کو ہونے والے نیویارک کے ایک میدان Westwood میں اخلاق،تہذیب اور تقدس کے مفاہیم سے عاری 1200 شیطانی منصوبہ ساز پوری اسلامی دنیا کے عقیدے اور محبتوں کے مرکز کے خلاف برملا اعلان جنگ کر رہے ہیں۔ اور استھزاء اور اہانت کے ہتھیاروں سے ہماری غیرت اور حمیت پر حملہ آور ہیں۔
فیس بک جو کہ مقبول عام ویب سائٹ ہے اورایک انداز ے کے مطابق پوری دنیا میں روزانہ کروڑوں لوگ اسے کھولتے اور اس کے ذریعے سے ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔اس پوری مہم کو صرف فیس بک سے جوڑنا اور یا صرف فیس بک کو ہدف تنقید بنانا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اسلام دشمن طاقتوں اور ہماری اقدار اور عقیدے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ وہاں پر اخلاق،تہذیب اور ایمان کے الفاظ اب کوئی معنی نہیں رکھتے وہ اپنا تقدس کھو چکے ہیں اور وہا ں پر کوئی ان کے عقیدے اور نبی صلى الله عليه وسلم کو چیلنج کرے یا گستاخی کرے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔مادہ پرستی اور دنیا ان کا الہ بن چکے ہیں اور صرف دنیاوی پیمانوں سے ہی ہر چیز کو ناپا جا رہا ہے مگر امت مسلمہ جو کہ صد یوں کی غلامی سے راکھ کا ڈھیر بن چکی تھی اور اس کے حکمرانوں میں روحِ جہاد اور علماء میں روحِ اجتھاد ختم ہو چکی تھی اورعوام کا ایک قلیل گروہ بے بسی اور بے کسی کی تصویر بن کر خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے کیونکہ انکی ملت کے عوام و خواص اور خصوصاً حکمران اپنے فرائض سے غافل ہیں۔
اُمت مسلمہ کے اس زوال کے دور میں جس میں تعلیم اور سیاست دونوں اپنی اسلامی تہذیب کی حفاظت سے دست کش ہوتے جارہے ہیں اور ہماری اجتماعیت کا شیرازہ بکھر تا جا رہاہے۔ قومی اور اجتماعی مفاد کا تصور دماغوں سے کھرچا جا رہاہے اور انفرادیت پسندی اور خودغرضی مسلط ہورہی ہے۔سیاسی اقتدار اور سیاسی عروج کے زوال کے ساتھ ہی ملت افلاس ، غلامی ، جہالت اور بداخلاقی کا شکار ہورہی ہے۔دین ،خلاق تہذیب و تمدن کی قدر وعزت اور انکا احترام انسانیت کی بلند قدریں ہیں جو انسا ن کو حیوان سے ممتاز کرتی ہیں اور روٹی، کپڑا ،پیٹ اور آسائشِ بدن اور نفس کی لذات حیوانی جبلت ہیں۔ اور جب انسان مادہ پرستی اور نفس پرستی کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتا ہے تو اعلیٰ انسانی اقدار کو اس پر قربان کردیتا ہے اور ا ن قد روں کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جاتی ۔ مغربی تہذیب اُسی مادر پدر آزاد معاشرے کو قائم کر چکی ہے جہاں پردین ،اخلاق اور کردار ثانوی حیثیت اختیا ر کر چکے ہیں۔دنیاوی فلاح و کامیابی اور مادہ پرستی اور دنیا میں اعلیٰ مقام کسی بھی قیمت پر حاصل کرنا مطمع نظر بن چکا ہے اور دوسری طرف مسلمانوں میں اسلام کی صیح روح اورتعلیم سے ناواقفیت نے انہیں تربیت اور تنظیم سے بالکل بے بہرہ کر کے انکے ملی جسد کو انتشار اور افتراق کا شکار کر کے پارہ پارہ کر دیا ہے۔گلوبلائزیشن کے اس دور لامرکزیت نے مسلمانوں کو ان کے اجتماعی مفاد کے لئے متحد ہوجانے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے ۔نفس پرستی اور منافقت کے اس دور میں شیطانی ہذیان زدہ لوگ اس ہستی صلى الله عليه وسلم جو کہ اس امت کے لئے آخری منبع و مرجع ہے، کوھدف بنا رہے ہیں اور یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی پاگل سورج ،پانی اور ہوا کو گالی دے یا روشنی ،موسم اور فضاء کو برا بھلا کہے۔ کسی صاف اور شفاف میٹھے پانی کے چشمے کو ہزاروں لاکھوں لوگ گدلا اور کھارا کہنے لگیں تواس چشمے کو کیا فرق پڑتا ہے۔ اپنی تمام تر صفات کے ساتھ وہ بدستور اپنے فیض سے لوگوں کو مستفید کرتا رہتا ہے۔اسی طرح چمکتے ہوئے سورج کولاکھوں لوگ بھی سیاہ پتھر کہنے لگیں تو اس کی ایک کرن کو بھی روک نہیں سکتے۔ وہ بدستور چمکتا رہیگا۔اور اس ذات ِ بابرکات ہستی کے لئے کیا فرق پڑتا ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہو۔
إِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَہْزِئِیْن( الحجر : 95 )ترجمہ: آپ کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف ہم اپ کی حمایت کے لئے کافی ہیں۔ واللہُ یَعصمُکَ ِمنَ الناّسِ (مائدہ: 67)ترجمہ: اوراللہ آپ کو لوگوں کے شر سے بچاکر رکھنے والا ہے۔ ان شانئک ھوالابتر،ترجمہ اور یقیناً تمھارا دشمن ہی بے نام ونشان اور جڑکٹا رہے گا۔
اور اسی طرح کی بہت سی آیات جن میں اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کو اذیت دینے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں رسواکن عذاب کی خبریں دی گئی ہیں۔اور جن پر تاریخ نے اپنی گواہیاں بھی ثبت کی ہیں کہ اہانت رسول صلى الله عليه وسلم کے مرتکب ہونے والوں نے کبھی دنیا میں بھی سکھ نہیں دیکھا ۔جنہوں نے حضور کا مذاق اڑایا ،زمانے نے خودانہیں مذاق بنادیا اور عبرت کا نشان بنا کر رکھ دیا۔
امت کا مفاد اسی میں ہے کہ اس عظیم ترین ہستی اور محبوبِ دوجہاں صلى الله عليه وسلم کے حقوق اور مفادات کا دفاع کرے تاکہ معاشروں کا امن بھی قائم رہے اور افراد کی اصلاح کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ اس مثالی شخصیت کے ساتھ عقیدت و محبت میں بھی ذرہ برابر کمی نہ ہو۔
در دل مسلم مقام مصطفی است
آبروئے ما زنام مصطفی است
مغرب روحانی اقدار سے بیگانہ ہو گیا ہے اور یہ زمانہ اپنی روح کے اعتبار سے مادے پر استوار عقلیت Rationalism کا شکار ہے۔مسلمان بھی اسی مادی ماحول سے متاثر ہو کر ایمان کو اپنے جلیل القدر رب العالمین اور حضوراقدس صلى الله عليه وسلم کے احکام کے روشنی میں پرکھنے کے بجائے یورپی مادی عقلیت کے میزان میں تولتے اور اپنی غیرت اور خودی سے غافل ہوئے جار ہے ہیں۔ اس کی طرف علامہ اقبال نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا :
اے تہی ازذوق و شوق وسوز و درد
می شناسی عصر ما باما چہ کرد
عصر ما ما را زما بیگانہ کرد
ازجمال مصطفی بیگانہ کرد
ترجمہ: اے عشق ومحبت اور سوز ودرد ، عشق سے تہی دامن مسلمان!تمھیں کچھ خبر ہے کہ زمانے نے میرے ساتھ کیا کیا؟ میرے زمانے نے مجھے مجھ سے اور میری خودی اور غیرت سے سے بے بہرہ کرکے بے حمیت بنادیا۔ اور حد تو یہ ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم کے عشق سے بھی بے گانہ کردیا۔
نبی کریم کی ذات مبارک ہی وہ سائبان ہے جس میں خوار وزار امت پناہ لے کر متحد ہوتی ہے اور سکون پاتی ہے۔ دشمن اس آخری سہارے سے بھی امت کو محروم کرنا چاہتی ہے مگرمسلمان عوام نے مشرق سے مغرب تک اپنے عالم گیر رد عمل سے یہ ظاہر کردیا ہے کہ اس خاکستر میں ابھی بھی شعلہ جوالا بننے کی خاصیت رکھنے والی چنگاریاں موجود ہیں اور یہ رد عمل ایمان کی اس رمق کو بچانے کے لیے بہت ضروری بھی ہے جسے امت مسلمہ کی جسد سے نکالنے کے لیے نبی مہربان صلى الله عليه وسلم کی ذات اقدس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس رد عمل کو صرف وقتی اور جذباتی نہیں ہونا چاہیے اس کے لیے ملت کے اہل دانش اور حکمرانوں کو اس معاملے کے سارے پہلوٴوں پر غور کرنے کے لیے فوری طور پر سوچ بچار کرنی چاہیے۔ مسلمان ممالک کو فوری طور پرOIC کا اجلاس بلا کر طویل المیعاد منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور اس معاملے پر اپنی بے حسی کو ختم کرنا چاہیے۔یہ بے حسی اس بے حمیتی کو جنم دیتی ہے جس سے شہہ پاکر ہر کچھ عرصے بعد ہمارے عقیدے اور ایمان پر حملے کیے جاتے ہیں۔ کبھی داڑھی، کبھی مینار، کبھی حجاب اور حد تو یہ ہے کہ ایمان کے مرکز حضورصلى الله عليه وسلم کی ذات بھی نشانہ بنتی ہے اور نہ اقوام متحدہ اور نہ یورپی یونین اور نہ سردار بہادر امریکہ کہ جس نے مسلمان اقوام اور ان کی ریاستوں کو اپنی چراہ گاہ بنا رکھا ہے، کے کانوں پر جوں تک رینگتی ہے۔(جاری ہے)
ہمیں عالمی سطح پر اپنے جذبات کے اظہار کے لیے پر امن جدوجہد کرنی ہے۔ معاشی اور سفارتی محاذ پر دباوٴ بڑھانا ہے۔جن ممالک میں یہ گستاخی ہو ان پر سفارتی دباوٴ اور ان کا معاشی بائکاٹ کیا جاناہمارا ہدف ہو۔ مسلمان ممالک کے حکمران اگر اپنے عوام سے کیے گیے وعدوں اور ان کے خوابوں کو پورا کرنے کی بجائے غیروں کی دریوزہ گری میں مشغول ہوں، ان کا احتساب کرکے منظم جدو جہد سے تبدیلی لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیوں کہ تبدیلی پر امن اور منظم جدوجہد سے ہی ممکن ہے۔ Face book کے اس چند روز کے بائکاٹ سے یہ اندازہ بخوبی ہو رہا ہے کہ منظم اور پر امن جدو جہد سے ہی ہم اپنی کھوئی ہوئی منزل پا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں اسلام کا وہ صحیح چہرا جو کہ باطل کے خلط ملط ہونے سے دھندلا گیا ہے ۔ کبھی اسے سیکولر بنادیا جاتا ہے اور کبھی اسے دہشت گردی اور دقیانوسیت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے نظریات، اخلاقیات ،معاشیات کے ساتھ ساتھ تعلیم اور تربیت اور معاشرت اور تہذیب کو بھی عروج پر پہنچانا ہے کیوں کہ:
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزامرگ مفاجات
ہمیں اس صدمے کو قوت میں بدلنا ہے اور بیداری کی جو لہر اس امت میں دوڑ پڑی ہے اس کی رفتار کو سست نہیں ہونے دینا ہے۔ہمیں مغرب کے ساتھ مکالمے کے ذریعے امن اور رواداری کے جذبات کو پروان چڑھانا ہے مگر برابری اور حمیت کے اصولوں کو بھی پس پشت نہیں ڈالنا۔ ہم اپنے آپ پر فخر کرنا سیکھیں اور دنیا کو یہ پیغام دیدیں کہ آخری آسمانی ہدایت ہمارے پاس ہے۔ ہم اللہ کی اس زمین پر اسی کا نظام چاہتے ہیں تاکہ انسان انسانوں کی غلامی سے نکل کر اپنے ایک رب رحمان کے سایہ عاطفت میں آجائیں۔ ہم رد عمل کا شکار ہو کر اپنی اصل طاقت کو ضائع نہ کریں اور اپنے دین کا صحیح نمائندہ بنیں اور اس کی دعوت کو صحیح طریقے سے پہنچانے والے ہوں۔
دنیا میں انقلاب کی رفتار بہت تیز ہے اور روز بروز تیز تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ پہلے ان کے لیے زمانہ درکار ہوتا تھا اب لمحوں میں وہ سفر طے ہونے لگا ہے اور کبھی تو لمحے کی خطا صدیوں کی سزا میں تبدیل ہوسکتی ہے۔اور کبھی پلک جھپکتے اور دو گام چل کر بھی منزل سامنے آجانے کا امکان بن رہا ہے۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہم ایما ن بالغیب رکھنے والی قوم ہیں۔ہم زمینی حقائق اور اسباب پر بھروسہ نہیں کرتے بلکہ اپنے قوی اور قادر رب کی قوت پر بھروسہ رکھتے ہے کہ جب اسکا حکم آجائے تو سب زمینی حقائق زمین بوس ہو جایا کرتے ہے۔ہمیں حضورنبی کریم صلى الله عليه وسلم سے محبت کے اس خزانے کو ضائع نہیں کرنا ۔اس بکھری ہوئی مگر اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کی محبت سر شار امت کو اسی مرکز محبت کے گرد اکھٹا کرنا ہے۔ان حالات میں بھی کوئی اگر قانون توہین رسالت میں تبدیلی کا کوئی سوچتا بھی ہو انکی بات سختی سے رد کرتے ہوئے انہیں یہ باور کرانا ہے کہ یہ معاشروں کے استحکام اور فتنہ و فساد سے بچنے کے لئے اہم ترین قانون ہے کہ کوئی شر پسند قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے بلکہ جن برگزیدہ ہستیوں کی بدولت یہ دنیا نیکی،سچائی ، حق پرستی اور عدل و انصاف جیسی قدروں سے آشنا ہوئی۔ ان کی شان میں گستاخی کو کوئی معاشرہ اور مذہب برداشت نہ کرے اور حضورنبی کرم صلى الله عليه وسلم جن کو اللہ نے سراجاً و ہاجاً اور سراجاًمنیراً کا لقب دیا ہے کہ جس طرح سورج روشنی ،حرارت اور توناائی کا منبع ہے اسی طرح حضورصلى الله عليه وسلم کی ذات گرامی بھی مسلمانوں کی زندگی کا سرچشمہ ہے جو ہر ایک کو فیض یاب کرتا ہے اس فتنوں کے دور میں آیئے ظلمت شب کا رونا رونے کی بجائے اپنے حصے کی شمع یہ کہتے ہوئے جلائیں :
نحن الذین بایعوا محمداً
علی الجہادِ ما بقیناابداً
ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے آقائے دو جہاں سے اس بات پر بیعت کی ہے کہ جب تک ہمارے سر ہمارے دھڑوں پر سلامت ہیں ہم آپ کے لائے ہوئے نظام اور سنتوں کو نافذکرنے کی جدوجہد کرتے رہیں گے۔

سمیحہ راحیل قاضی
(بہ شکریہ روزنامہ جنگ)

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں