دنیا کے اس پار (1)

دنیا کے اس پار (1)
life_after_life_1مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ اس سوال کا قطعی اور یقینی جواب صرف قرآن کریم اور متواتر احادیث ہی سے معلوم ہوسکتا ہے آج کوئی بهی شخص اپنے مشاہدے کی بنیاد پر اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا، اس لۓ کہ جو شخص واقعة موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے وه پلٹ کر یہاں نہیں آتا:

کان را کہ خبر شد، خبرش باز نیامد
لیکن چند سال پہلے ایک کتاب میرے مطالعے میں آئی جس میں کچهـ ایسے لوگوں کے دلچسپ تجربات  و مشاہدات جمع کۓگۓ ہیں جو موت کی دہلیز تک پہنچ کر واپس آگۓ، اور انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ انہوں نے موت کے دروازے پر پہنچ کر کیا دیکها؟ کتاب کا نام Life after Life  (زندگی کے بعد زندگی) اور یہ ایک امریکی ڈاکٹر ریمنڈ اے مودی(Raymond A. Moodi) کی لکهی ہوئی ہے، ڈاکٹر مودی اصلا فلسفے کے پی ایچ ڈی ہیں پهر انہوں نے میڈیکل سائنس کے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے، بالخصوص نفسیات اور فلسفہ ادویہ سے انہیں خصوصی شغف ہے. ان صاحب کو سب سے پہلے ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر جارج رچی کے بارے میں یہ معلوم ہوا تها کہ ڈبل نمونیا کے دوران ایک مرحلے پر وه موت کے بالکل قریب پہنچ گۓ، اور پهر ڈاکٹروں نے مصنوعی تنفس و غیره کے آخری طریقہ (Resuscitation) استعمال کۓ، جس کے بعد وه آپس آۓ، اور صحتمند ہوگۓ، صحت مند ہونے کے بعد انہوں نے بتایا کہ جب انہیں مرده سمجهـ لیا گیا تها، اس وقت انہیں نے کچهـ عجیب و غریب مناظر کا مشاہده کیا، ڈاکٹر مودی کو اس قسم کے چند مزید واقعات علم میں آۓ، تو انہوں نے اہمیت کے ساتهـ ایسے لوگوں کی جستجو اور ان سے ملاقاتیں شروع کیں، یہاں تک کہ تقریبا ڈیڑهـ سو افراد سے انٹرویو کے بعد انہوں نے یہ کتاب لکهی.
یہ کتاب جب شائع ہوئی تو اسکی تیس لاکهـ کاپیاں ایک ہی سال میں فروخت ہوگئیں، ڈاکٹر مودی نے اس کے بعد بهی اس مسئلے کی مزید تفتیش جاری رکهی، اور اسکے بعد اس موضوع پر مزید کئی کتابیں لکهیں، ان میں سے تین کتابیں میں تیں چار سال پہلے امریکہ سے خرید لایا تها، انکے نام یہ ہیں:
1. Life After Life
2. The Light Beyond
3. Reflections on Life After Life
اور جو کچهـ میں آگے بیان کررہا ہوں، وه ان تینوں کتابوں سے مأخوذ ہے، ان تیونوں کتابوں میں صرف ان لوگوں کے حالات بیان کۓ گۓ ہیں جنہیں بیماری کی انتہائی شدت میں مرده (Clinically dead) قرار دے دیا گیا، لیکن ایسی حالت میں آخری چاره کار کے طور پر ڈاکٹر صاحبان دل کی مالش اور مصنوعی تنفس دلانے کی جو کوششیں کرتے ہیں، وه ان پر کامیابی سے آزمائی گئیں، اور وه واپس ہوش میں آگۓ، ڈاکٹر مودی کا کہنا ہے  کہ جن لوگوں سے انہوں نے انٹرویو کیا وه مختلف مذاہب سے تعلق رکهتے تهے، اور مختلف جگہوں کے باشندے تهے، ان میں سے ہر ایک نے اپنی نظر آنے والی کیفیت کو اپنے اپنے طریق پر بیان کیا، کسی نے کوئی بات زیاده کہی، کسی نے کوئی بات کم بتائی، لیکن بحیثیت مجموعی جو مشترک باتیں (Common Elements) ان میں سے تقریبا ہر شخص کے بیان میں موجود تهیں ان کا خلاصہ یہ ہے:
“ایک شخص مرنے کے قریب ہے، اسکی جسمانی حالت ایسی حد پر پہنچ جاتی ہے کہ وه خود سنتا ہے کہ اس کے ڈاکٹر نے اس کے مرده ہونے کا اعلان کردیا، اچانک اسے ایک تکلیف ده سا شور سنائی دیتا ہے، اور اس کے ساتهـ ہی اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وه انتہائی تیز رفتاری سے ایک طویل اور اندهیری سرنگ میں جا رہا ہے، اسکے بعد اچانک وه یہ محسوس کرتا ہے کہ وه اپنے جسم سے باہر آگیا ہے، وه اپنے ہی جسم کو فاصلے سے ایک تماشائی بن کر دیکهتا ہے، اسے نظر آتا ہے کہ وه خود کسی نمایاں جگہ پر کهڑا ہے، اور اس کا جسم جوں کاتوں چارپائی پر ہے، اور اسکے ڈاکٹر جسم پر جهکے ہوئے اس کے دل کی مالش کر رہے ہیں، یا مصنوعی تنفس دینے کی کوشش میں مصروف ہیں.
تهوڑی دیر میں وه اپنے حواس بجا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس نئی حالت میں بهی اس کا ایک جسم ہے، لیکن وه جسم اس جسم سے بالکل مختلف ہے، جو وه چهوڑ آیا ہے، اسکی کیفیات بهی مختلف ہیں، اور اس کو حاصل قوتیں بهی کچهـ اور طرح کی ہیں، اسی حالت میں کچهـ دیر بعد اسے اپنے وه عزیز اور دوست نظر آتے ہیں جو مرچکے تهے، اور پهر اسے ایک نورانی وجود (Being of light) نظر آتا ہے، جو اس سے یہ کہتا ہے کہ تم اپنی زندگی کا جائزه لو، اس کا یہ کہنا ماوراء الفاظ (Nonverbal) ہوتا ہے، اور پهر وه خود اس کے سامنے تیزی سے اس کی زندگی کے تمام اہم واقعات لاکر ان کا نظاره کراتا ہے، ایک مرحلے پر اسے اپنے سامنے کوئی رکاوٹ نظر آتی ہے، جس کے بارے میں وه سمجهتا ہے کہ یہ دنیوی زندگی اور موت کے بعد کی زندگی کے درمیان ایک سرحد ہے، اس سرحد کے قریب پہنچ کر اسے پتہ چلتا ہے کہ اسے اب واپس جانا ہے، ابهی اسکی موت کا وقت نہیں آیا، اس کے بعد کسی انجانے طریقے پر وه واپس اپنے اسی جسم میں لوٹ آتا ہے، جو وه چارپائی پر چهوڑ کر گیا تها.
صحت مند ہونے کے بعد وه اپنی یہ کیفیت دوسروں کو بتانا چاہتا ہے، لیکن اول تو اس کیفیت کو بیان کرنے کے لۓ اسے تمام انسانی الفاظ ناکافی معلوم ہوتے ہے، دوسرے اگر وه لوگوں کو یہ باتیں بتاۓ بهی تو وه مذاق کرنے لگتے ہیں، لہذا وه خاموش رہتا ہے”.
ڈاکٹر مودی نے ڈیڑهـ سو افراد کے انٹرویو کا یہ خلاصہ بیان کرتے ہوے ساتهـ ہی یہ وضاحت بهی کی ہے کہ میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ ڈیڑهـ سو افراد میں سے ہر شخص نے یہ پوری کہانی اسی ترتیب  کے ساتهـ بیان کی، بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ کسی نے یہ پوری کہانی بیان کی، کسی نے اس کے کچهـ حصے بتاۓ ، کچهـ چهوڑ دیۓ، کسی کی ترتیب کچهـ تهی، کسی کی کچهـ اور، بلکہ اس بات کو بیان کرنے کے لۓ اکثر افراد نے مختلف الفاظ اور مختلف تعبیرات اختیار کیں، اور یہ بات تقریبا ہر شخص نے کہی کہ جو کچهـ ہم نے دیکها ہے، اسے لفظوں میں تعبیر کرنا ہمارے لۓ سخت مشکل ہے، ایک خاتون نے اپنی اسی مشکل کو قدرے فلسفیانہ زبان میں اس طرح تعبیر کیا:
“میں جب آپ کو یہ سب کچهـ بتانا چاہتی ہوں تو میرا ایک حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ جتنے الفاظ مجهے معلوم ہیں، وه سب سہ ابعادی (Three- dimensional) ہیں، (یعنی طول، عرض، عمق کے تصورات میں مقید ہیں) میں نے اب تک جیومیڑی میں یہی پڑها تها کہ دنیا میں صرف تین بعد ہیں، لیکن جو کچهـ میں نے (مرده قرار دیۓ جانے کے بعد) دیکها اس سے پتہ چلا کہ یہاں تین سے زیاہ ابعاد ہے. اس لۓ اس کیفیت کو ٹهیک ٹهیک بتانا میرے لۓ بہت مشکل ہے، کیونکہ مجهے اپنے ان مشاہدات کو سہ ابعادی الفاظ میں بیان کرنا پڑرہا ہے”
بہر کیف! ان مختلف افراد نے جو کیفیات بیان کی ہے، ان میں سے چند بطور خاص اہمیت رکهتی ہیں، ایک تاریک سرنگ، دوسرے جسم سے علیحدگی، تیسرے مرے ہوے رشتہ داروں اور دوستوں کو دیکهنا، چوتهے ایک نورانی وجود، پانچویں اپنی زندگی کے گذرے ہوے واقعات کا نظاره، ان تمام باتوں کی جو تفصیل مختلف افراد نے بیان کی ہے، اس کے چند اقتباسات دلچسپی کا باعث ہوں گے:
تاریک سرنگ سے گذرنے کے تجربے کو کسی نے یوں تعبیر کیا ہے کہ میں ایک تاریک خلا میں تیر رہا تها، کسی نے کہا ہے کہ یہ ایک  گهٹا ٹوپ اندهیرا تها، اور میں اس میں نیچے بیٹهتا جارہا تها، کسی نے اسے ایک کنویں سے تعبیر کیا ہے، کسی نے اسے اندهیرے غار کا نام دیا ہے، کسی نے کہا ہے کہ وه ایک تاریک وادی تهی، کوئی کہتا ہے کہ میں اندہیرے میں اوپر اٹهتا چلا گیا، مگر یہ بات سب نے کہی ہے کہ یہ الفاظ اس کیفیت کو بیان کرنے کے لۓ ناکافی ہیں.
جس مشاہدے کو تمام افراد نے بڑی حیرت کے ساتهـ بیان کیا، وه یہ تها کہ وه اپنے جسم سے الگ ہوگۓ، ایک خاتون جو دل کے دورے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تهیں، بیان کرتی ہے کہ اچانک مجهے ایسا محسوس ہوا کہ میرا دل دهڑکنا بند ہوگیا، اور میں اپنے جسم سے پهسل کر باہر نکل رہی ہوں، پہلے میں فرش پر پہنچتی، پهر آہستہ آہستہ اوپر اٹهنے لگی، یہاں تک کہ میں ایک کاغذ کے پرزے کی طرح اڑتی ہوئی ہهت سے جالگی، وہاں سے میں صاف دیکهـ رہی تہی کہ میرا جسم نیچے بستر پر پڑا ہوا ہے، اور ڈاکٹر اور نرسیں اس پر اپنی آخری تدبیریں آزمارہے ہیں، ایک نرس نے کہا، اوه خدایا! یہ تو گئی، اور دوسری نرس نے میرے جسم کے منہ سے منہ لگا کر اسے سانس دلانے کی کوشش کی، مجهے اس نرس کی گدی پیچهے سے نظر آرہی تهی، اور اسکے بال مجہے ابتک یاد ہیں، پهر وه ایک مشین لاۓ جس نے میرے سینے کو جهٹکے دۓ، اور میں اپنے جسم کو اچهلتا دیکهتی رہی.
جسم سے باہر آنے کی اس حالت کو بعض افراد نے اس طرح تعبیر کیا ہے کہ ہم ایک نۓ وجود میں آگۓ تهے جو جسم نہیں تها، اور بعض نے کہا ہے کہ وه بهی ایک دوسری قسم کا جسم تها جو دوسروں کو دیکهـ سکتا تها، مگر دوسرے اسے نہیں دیکهـ سکتے تهے، اس حالت میں بعض افراد نے نظر آنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں سے بات کرنے کی بهی کوشش کی، مگر وه ان کی آواز نہ سن سکے، یہ بات بهی بہت سے افراد نے بتائی کہ وہ ایک بےوزنی کی کیفیت تهی، اور ہم اس بےوزنی کے عالم میں نہ صرف فضا میں تیر تے رہے، بلکہ اگر ہم نے کسی چیز کو چهونے کی کوشش کی تو ہمارا وجود اس شے کے آرپار ہوگیا ، بہت سوں نے یہ بهی بتایا کہ اس حالت میں وقت ساکت ہوگیا تها، اور ہم یہ محسوس کر رہے تهے کہ ہم وقت کی قید سے آزاد ہوچکے ہیں.
اسی حالت میں کئی افراد نے اپنے مرے ہوے عزیزوں دوستوں کو بهی دیکها، اور کچهـ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے بہت سی بهٹکتی ہوئی روحوں کا مشاہده کیا، یہ بهٹکتی ہوئی روحیں انسانی شکل سے ملتی جلتی تهیں، مگر انسانی صورت سے کچهـ مختلف بهی تهیں، ایک صاحب نے ان کی کچهـ تفصیل اس طرح بتائی:
“ان کا سر نیچے کی طرف جهکا ہوا تها، وه بہت غمگین اور افسرده نظر آتے تهے، وه سب آپس میں ایک دوسرے میں اسطرح پیوست معلوم ہوتے تهے جیسے زنجیروں میں بندها ہوا کوئی گروه ہو، مجهے یاد نہیں آتا کہ میں نے ان کے پاؤں بهی دیکهے ہوں، مجهے معلوم نہیں وه کیا تها، مگر ان کے رنگ اڑے ہوے تهے، وه بالکل سست تهے، اور مٹیالے نظر آتے تهے، ایسا لگتا تها کہ وه ایک دوسرے کے ساتهـ گتهے ہوے خلا میں چکر لگا رہے ہیں، اور انہیں پتہ نہیں ہے کہ انہیں کہاں جانا ہے، وه ایک طرف کو چلنا شروع کرتے، پهر بائیں کو مڑجاتے، چند قدم چلتے، پهر دائیں کو مڑجاتے اور کسی بهی طرف جاکر کرتے کچهـ نہ تهی، ایسا لگتا تها کہ وه کسی چیز کی تلاش میں ہیں، مگر کس چیز کی تلاش میں؟ مجهے معلوم نہیں، ایسا لگتا تها کہ جیسے وه خود اپنے بارے میں بهی کوئی علم نہیں رکهتے کہ وه کون اور کیا ہیں؟ انکی کوئی شناخت نہیں تهی، بعض اوقات ایسا بهی محسوس ہوا کہ ان میں سے کوئی کچهـ کہنا چاہتا ہے مگر کہہ نہیں سکتا.
(Reflections P.19)
ڈاکٹر مودی نے جتنے لوگوں کا انٹرویو کیا، ان کی اکثریت نے اپنے اس تجربے کے دوران ایک ” نورانی وجود” (Being of Light) کا بهی ضرور ذکر کیا ہے، ان لوگوں کا بیان ہے کہ اسے دیکهـ کر یہ بات تو یقینی معلوم ہوتی تهی کہ وه کوئی وجود ہے، لیکن اسکا کوئی جسم نہیں تها، وه سراسر روشنی ہی تهی، ابتدا میں وه روشنی ہلکی معلوم ہوتی، لیکن رفتہ رفتہ تیز ہوتی چلی جاتی، لیکن اپنی غیر معمولی تابانی کے باوجود اس سے آنکهیں خیره نہیں ہوتی تهیں، بہت سے لوگوں نے بتایا کہ اس نورانی وجود نے ان سے کہا کہ تم اپنی زندگی کا جائزه لو، بعض نے اسکی کچهـ اور باتیں بهی نقل کیں، لیکن یہ سب لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اس نورانی وجود نے جو کچهـ کہا، وه لفظوں اور آواز کے ذریعے نہیں کہا، یعنی اس کے کوئی لفظ انہیں سنائی نہیں دیتے، بلکہ یہ بالکل نرالا انداز اظہار تها، جس کے ذریعے اسکی باتیں خود بخود ہمارے خیالات میں منتقل ہورہی تہیں.
جن لوگوں نے اس بےجسمی کی حالت میں ایک نورانی وجود کو دیکهنے کا ذکر کیا ہے، ان میں سے اکثر کا کہنا یہ ہے کہ اس نورانی وجود نے ہم سے ہماری سابق زندگی کے بارے میں کچهـ سوال کیا، سوال کے الفاظ مختلف لوگوں نے مختلف بیان کۓ ہیں، مگر مفہوم سب کا تقریبا یہ ہے کہ تمہارے پاس اپنی سابق زندگی میں مجهے دکهانے کے لۓ کیا چیز ہے؟
پهر ان لوگوں کا بیان ہے کہ اس نورانی وجود نے ہماری سابق زندگی کے واقعات ایک ایک کرکے ہمیں دکهانے شروع کۓ، یہ واقعات کس طرح دکهاۓ گۓ؟ اسکی تفصیل اور زیاده دلچسپ ہے، لیکن وه میں انشاءالله اگلے ہفتے میں بیاں کروں گا، اور اسی کے ساتهـ ان واقعات کے بارے میں اپنا تبصره بهی.
جاری ہے….

مفتی محمد تقی عثمانی حفظه الله


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں