بتلا دو گستاخِ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے!

بتلا دو گستاخِ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے!
pakistan-anti-facebook1یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کی حرمت کی الفت میں جب اِتنی چاشنی ہے کہ تمام مسالک”نقطہٴ عشق“ پر متفق ہوگئے توسوچتا ہوں کہ آقا کریم!آپ بذاتِ خود کتنے میٹھے ہوں گے۔سرکار!آپ دیکھ رہے ہیں ناکہ آج کسی کو کسی سے کوئی اختلاف نہیں، کیا ہوا جو مساجد کے رنگ مختلف ہیں لیکن آپ کے دیوانے، آپ کی محبت کے ایک ہی رنگ میں رنگے ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی جانیں تک قربان کر نے کے لیے تیار ہیں اور کیوں نہ ہوں؟یہ جان تو اللہ اور اُس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی امانت ہے۔…نفرت کے کسیلے کلمے پڑھ کر الحاد کی گود میں پرورش پانے والے کیا جانیں کہ خود سپردگی میں کتنا مزہ ہے، اِن کے چہرے تو ”چہرے کی کتاب“(facebook) میں واضح ہیں اور ہم اپنے ہاتھوں میں محضرِ خون تھامے اُس ساعت کے منتظر ہیں جب اِن گستاخوں سے رب ذوالجلال دریافت کرے گا کہ ”لَمِنَ المُلک؟“اور پھر ایک طویل خاموشی میں اقرارِ جُرم کی چیخیں سنائی دیں گی۔آپ نے کبھی غور کیا کہ facebook کا f کیپیٹل (F) کیوں نہیں ہے ؟ وہ اِس لیے کہ پھر ”صلیب“ کیسے بنے گی!
میں آج بھی facebook کی حمایت کرنے والوں سے صرف اتنا پوچھنا چاہوں گاکہ اگر آپ کے پڑوس میں کوئی گستاخ رہتا ہو اور وہ دن و رات آپ کے سیدی، مُرشدی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ارفع و اعلیٰ میں (معاذ اللہ) ہذیان بکتا ہو تو کیا آپ اُسے پڑوس میں رہنے دیں گے یا اُس کے پڑوسی بن کر رہیں گے ؟یقینا آپ کا جواب ”نفی“ میں ہی ہوگاتو پھر مجھے بتائیے کہ ایک ایسی غلیظ سائٹ پر ”سماجی تعلق“ کے نام پر اپنا صفحہ بنانے کی ضرورت ہی کیا ہے جس میں گستاخ پڑوسیوں کے بدبودار نظریات کی سڑاند سے دماغ پھٹ جائے …محبت ِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس امر کی متقاضی نہیں کہ اِس ویب سائٹ پہ جاکر نبی عظیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کیا جائے بلکہ مظہرِ عقیدت تو یہی ہے کہ ہمیشہ کے لیے اِس ویب سائٹ سے اپنا تعلق توڑ لیا جائے!… نفس تو روکے گا، حیلے بہانوں سے دامن بھی کھینچے گا اورمثبت پہلوؤں کی منظر کشی بھی کرے گا مگر یاد رکھیے کہ جس عظیم المرتبت ہستی پر اللہ اور اُس کے ملائکہ درود پڑھتے ہوں اُنہیں ہم گناہ گاروں کے ایسے کسی دفاع کی ضرورت نہیں کہ جس کے سبب شیطان آنکھوں سے دماغ میں گھس جائے …ہم فیس بک کے خلاف احتجاج کر کے بولہبی گھرانوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، وہ تو ہمارے اِس عمل سے لطف اندوز ہوتے ہیں کہ ”دیکھو تو سہی مسلمان کیسے سیخ پا ہورہے ہیں، انگاروں پہ لوٹ رہے ہیں اور ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں، اِنہیں اور تڑپاؤ، ایسے کئی مقابلے منعقد کراؤ اور اِنہیں پرتشدد ردعمل پر اُبھارو تا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروانوں کو ہم دہشت گرد ثابت کرسکیں۔“ حالانکہ ہم اِن دنیا پرستوں کو ”بائیکاٹ“ کے ذریعے وہ سبق سکھا سکتے ہیں کہ یہ ناک رگڑنے پر مجبور ہو جائیں۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں facebook استعمال کرنے والوں کی تعداد 46کروڑ 92 لاکھ 21 ہزار ہے اور اِن کی آمدنی کم و بیش ایک بلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے یعنی ہر صارف سے اوسطاً اُنہیں ڈھائی ڈالر ملتے ہیں اور پاکستانی صارفین سے اِنہیں کم و بیش 56 لاکھ 31 ہزار 282 ڈالرز کی رقم حاصل ہوتی ہے جبکہ تمام اسلامی ممالک 47.5% کی شرح سے تقریباً 51 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز facebookکو ”عطا“ کرتے ہیں۔ذرا غور فرمائیے!بار بار احتجاج کے نام پر اِس خبیث ویب سائٹ کو Clickکرنے کے بجائے اگر ہم سب اپنے اپنے اکاؤنٹس ختم کر کے وہاں جانا ہی چھوڑ دیں تو یہ دولت کے پجاری زمین چاٹنے پر مجبور ہوجائیں گے۔اچھا یوں سوچیے کہ میر ی اور آپ کی ماں کو اگر ہمارے ہی کسی رشتے دار کے گھر میں گالی دی جائے یا اُس پر رکیک الزمات لگائے جائیں تو ہم جذبات کی زبان میں یہ تک کہہ ڈالتے ہیں کہ ”آج سے ہم آپ کے گھر میں تھوکیں گے بھی نہیں“ اور اگر یہی معاملہ کوئی غیر کرے تواُس گھر میں دوبارہ جانا تو درکنار ہم تو مرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں کہ اِس ناہنجار نے میری ماں کی شان میں گستاخی کی جرأت ہی کیسے کی ؟ تو پھر ہم یہ حدیث مبارکہ کیسے بھول گئے کہ ”تم میں سے کوئی اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُسے اُس کی جان، اولاد ، والدین اور سب انسانوں سے بڑھ کر عزیز نہ ہوجاؤں“۔ اپنی ماں کے لیے تو ہم دشمن کی گلی سے گزرنا بھی چھوڑد یں اور ماں کو ماں بتلانے والی ہستی کے لیے ایک facebookچھوڑنے کو تیار نہیں؟دلیلیں دے کر کیچڑ میں دفاع کی سبیلیں نہ لگائیے، یہ ازل سے پیاسے ہیں اور اِس پیاس کو کھولتا ہوا خون اور اُبلتی ہوئی پیپ ہی بجھا سکتی ہے وہ جس کے محبوب ہیں اُسے پیارے کی توہین پر اپنے بندوں سے زیادہ اذیت پہنچی ہے چنانچہ اِس معاملے میں ”عبدالمطلب“ بن جائیے کہ ”اے ابرہہ! یہ کعبہ جس کا ہے وہی اُس کی حفاظت کرے گا، میں تو اپنے اونٹ لینے آیا ہوں“، لہٰذا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ استہزا کرنے والوں کے لیے تو اللہ ہی کافی ہے ، ہم سب تو بس اپنے ایمان کی فکر کریں اور ہمیشہ کے لیے فیس بک کا بائیکاٹ کریں اور پھر ویسے بھی خاکے تو خاکیوں کے بنتے ہیں،پیرہنِ بشری میں پوشیدہ نور کا خاکہ کبھی بنا ہے اور نہ ہی کبھی بنے گا۔ بزبانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ ”نجانے یہ کس کو (معاذ اللہ) مذمم کہہ رہے ہیں، میرا نام تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے“…
کتنے پیارے ہیں وہ جو غزہ بدر میں طویل سجدے کرتے ہیں، جن کی حیات اور زندگی کی رب نے قسم کھائی ہے اور جو اپنے رب کو قسمیں دیتے ہیں…ہم کیوں نہ اُن سے پیار کریں جو مٹھی بھر مٹی پھینک دیں توبرکات کا ظہور ہوجائے،جس کو لاٹھی یا کھجور کی چھڑی عطا کریں تو وہ تلوار بن جائے ،قتادہ بن نعمان کی آنکھ نکل کر گر پڑے تو دست مبارک سے اُسے وہیں واپس رکھ دہیں،وہ جو ترکش کے تیر کو کنویں کے پیٹ میں گاڑ دیں تو قلیب حدیبیہ سے میٹھا پانی اُبل پڑے، جن کے ہاتھوں کی برکت سے 1400صحابہ ایک ہی پیالے سے وضو کرلیں،جن کی مبارک انگلیوں سے کئی مرتبہ پانی کے چشمے جاری ہوئے ہوں اور جن کا لعاب دہن ہر مرض میں شفا ہو،جن کی کُلّی کی مٹھاس شہد سے زیادہ میٹھی اور کستوری سے زیادہ خوشبودار ہو،اور وہ جو آسمان کی جانب اگر چہرہ مبارک کر لیں تو بادل احتراماً رم جھم کے نغمے گنگنائیں،انبیائے کرام نے جن کے واسطے دیے ہوں،جن کی تشریف آوری پر اصنام اور بت منہ کے بل گرجائیں،ایوانِ کِسریٰ میں زلزلہ آجائے اور کنگورے زمیں بوس ہو جائیں، جن کا پسینہ سب خوشبوؤں سے زیادہ پاکیزہ خوشبو والا ہو اور جو ام معبد کی خشک تھن والی بکری کے لیے دعا فرمائیں تو بکری دودھ دینے لگے، جن کی اطاعت اور فرماں برداری کے لیے درخت چل کر آتے ہوں،جو قبروں کے پاس سے گذر جائیں تو عذاب ٹل جائیں اور کھجور کے خوشے کو بلائیں تو وہ دیوانہ وار آپ کی جانب لپکے اور پھر آپ کی اجازت سے واپس اپنی جگہ چلا جائے، جن کی بارگاہ میں اونٹ اپنے مالکان کی شکایت کرے اور آپ اُس کی سفارش فرمائیں،جن کے گھر سے باہر چلے جانے پر ہرن بے چین رہتا ہو، وہی سب کے سرکار جنہوں نے سرخ چڑیا کی شکایت کا ازالہ کیا ہو اور جن سے ہرنی نے کلام کیا ہو، جن کی رسالت کی شہادت گوہ اور بھیڑیے بھی دیں اور جو شیر کو اپنے غلام سفینہ کے لیے مسخر کردیں، جو ہجرت کرنے والی عورت کے مردہ بیٹے کو رب کے حکم سے زندہ کردیں، مقتول بن مسیلمہ کی میت جنہیں دیکھ کر کلمہ شہادت پڑھے اور دودھ پیتے بچے اور گونگے جن کی نبوت کی گواہی دیں،جن کے فراق میں کھجور کا سوکھا تنا بچوں کی طرح رونے لگے اور پھر جب آپ اُسے گلے سے لگائیں تو وہ چپ ہوجائے،جن کی دعا پر دروازے کی چوکھٹیں اور در و دیوار آمین کہیں اور جو پیٹھ پیچھے سے اپنے اصحاب کو دیکھ لیں، جن کے لعاب دہن کی برکت سے سیدنا ابوبکر کا زخم، سیدنا علی کی آنکھ اور محمد بن حاطب کا جلا ہوا بازو ٹھیک ہوجائے، جو شعیب جعفی کی رسولی پر اپنی ہتھیلی رکھیں اور رسولی ختم ہوجائے اور جو خبیب بن اساف کے زخم پر پھونک ماریں تو زخم کا نام و نشاں تک نہ رہے ، جن کے قدمین کی ٹھوکر سے کانپتا ہوا اُحد ٹہر جائے…اور جن کے گستاخوں پر رب کو قہر آئے ہاں ہمیں اُسی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیار ہے …!!!

ڈاکٹر  عامر لیاقت حسین
(بہ شکریہ روزنامہ جنگ)

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں