افغانستان پر حملہ۔ امریکا کی بڑی غلطی

افغانستان پر حملہ۔ امریکا کی بڑی غلطی
amrican-afghanامریکا نے افغانستان پر حملہ کرکے بڑی غلطی کی ہے، سبھی نے امریکی حکمرانوں کو سمجھایا کہ افغانستان پر حملہ کرنا، دوسروں کی غلطی کو دہرانے کے مترادف ہو گا۔ سوویت یونین کے سابق صدر گوربا چوف نے اِس سلسلے میں اپنے ملک کے تجربہ کا ذکر کیا تو برطانیہ کے ٹونی بلیئر نے اپنے تجربہ کی تفصیل سے آگاہ کیا مگر شاید اس انداز سے کہ امریکی اور بھی زیادہ غصہ میں آگئے۔ ٹونی بلیئر اس بات کے راوی ہیں کہ امریکی، سنگلاخ چٹانوں، پہاڑوں، علاقوں اور بغیر کسی آرمی کے کمزور اور ایک غریب ملک افغانستان پر ایٹم بم مارنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ ٹونی بلیئر کے بقول کہ انہوں نے ہی امریکا سمجھایا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکا انتہائی زعم میں مبتلا تھا اور اس پر سخت غصہ طاری تھا کہ اِن کمتر لوگوں کی یہ جراءت کیسے ہو گئی کہ وہ امریکا پر حملہ آور ہوں جبکہ وہ سمجھتے تھے کہ دُنیا کی واحد سپر طاقت بن چکے ہیں۔ اُن کا اسلحہ انتہائی اعلیٰ و ارفع، جدید و منفرد، اُن کی معیشت مضبوط اور اُن کے پاس دنیا کے ہر حصہ میں پہنچنے کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ دنیا پر امریکی سربراہی میں حکومت بنانے کا منصوبہ اور دنیا کے ساری معدنی دولت پر قبضہ جمانے کی دل میں ٹھانے بیٹھے تھے کہ اُن پر 9/11 کا حملہ ہوگیا۔ اب یہاں ایک تھیوری نے اور جنم لیا.

دنیا کے کئی دانشور اس خیال کے حامی ہیں کہ اس حملہ کا ڈرامہ امریکا نے خود رچایا کیونکہ اس کو اندیشہ تھا کہ امریکی عوام امریکی بالادستی کو قائم کرنے کے لئے کسی مہم جوئی کی اجازت نہیں دیں گے اس لئے خود امریکی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے عوام کو اپنا طرفدار بنانے کے لئے یہ حملہ اپنے اوپر کرنے کے اسباب پیدا کئے اور یوں وہ ایک کمزور مگر آزاد ملک پر حملہ آور ہوگئے اور اس پر قبضہ کرلیا مگر تقریباً 9 سال گزرنے کو ہیں وہ افغانستان پر اپنا تسلط برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اس کی افغانستان پر حاکمیت مسلم نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ امریکیوں کے قدم اب تک کہیں بھی جم نہیں سکے۔ افغانستان کے دو درجن سے زائد صوبوں میں چند کے علاوہ امریکا کا کہیں بھی کنٹرول نہیں ہے، مرجا میں آپریشن کیا تھا، اس علاقہ کو اب اپنے قبضہ میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، سول افغان حکام وہاں پہنچائے جارہے ہیں اور 30 ہزار کی جو کمک آنا تھی اس میں سے ابھی 12 ہزار فوجی افغانستان پہنچ چکے ہیں، جن میں سے سات ہزار کے قریب فوجی مرجا میں تعینات کئے گئے ہیں مگر یہاں عوام کی طرف سے ان کو کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہورہی ہے۔ وہ یہاں اجنبی ہیں اور کسی وقت وہ اسی انجام کا شکار ہوسکتے ہیں جس طرح برطانیہ کے لوگ ہوئے تھے۔
بات یہاں سے شروع ہوئی تھی کہ افغانستان پر حملہ امریکا کی ایک بڑی غلطی تھی مگر امریکی طاقت کے نشے میں چور اور اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے اور ہر اس کام کو پایہء تکمیل تک پہنچانے کا سوچتے ہیں جو پہلے ممکن نہیں ہوسکا تھا، امریکیوں کا خیال تھا کہ وہ افغانیوں کو عبرتناک شکست دیں گے اور افغانیوں کا یہ زعم توڑ دیں گے کہ ان پر کوئی حکمرانی نہیں کرسکا یا یہ کہ برطانیہ ماضی میں ناکام رہا مگر وہ کامیاب ہو کر اپنی طاقت اپنی اسلحہ کی برتری اور اپنی صلاحیت کا سکہ جما لیں گے مگر امریکا اس میں بُری طرح ناکام ہوگیا ہے اور اب وہ وہاں سے نکلنے کے راستے ڈھونڈھ رہا ہے۔ افغانی پشتون، نیویارک ٹائمز اسکوائر ناکام بم دھماکہ کی کوشش جیسی حرکت کرکے امریکا کو افغانستان میں پھنسائے رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ٹائمز اسکوائر بم نہیں پھٹا اس کو پھٹنا ہی نہیں تھا کیونکہ وہ تیار حالت میں نہیں تھا تاہم امریکی اس سے بہت بدک گئے ہیں اور کافی گھبرا بھی گئے ہیں۔ ٹائمز اسکوائر بم کی وجہ سے امریکا میں مقیم پوری پاکستانی برادری شک کی نگاہوں سے دیکھی جارہی ہے اور یہی کہا جارہا ہے کہ اب امریکا پر حملہ ہوا تو وہ اس کی منصوبہ بندی پاکستان کی سرزمین پر ہی کی گئی ہوگی۔ امریکا نے پشتونوں سے غلط لڑائی مول لی ہے۔ وہ پشتونوں کو بے گناہ مار رہا ہے اور وہ پشتونوں کے بدلہ کی روایت کو نہیں سمجھتا۔ وہ بدلہ لینے کی کوشش ضرور کریں گے چاہے پشتون امریکی چوکنا پن اور مستعدی کی وجہ سے فیل ہی کیوں نہ ہوجائیں مگر وہ امریکا کو زچ کرنے، چڑانے اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے رہیں گے اگر امریکا نے اپنے معاملات درست نہیں کئے۔ وہ سمجھنے لگے ہیں ڈرون حملوں سے دشمن کو زیر کرلیں گے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ جتنا وہ ڈرون حملے کریں گے اتنے ہی دشمن اور بڑھاتے رہیں گے۔ ہمارا مشورہ ہوگا کہ امریکا اس سلسلے میں پاکستان سے رجوع کرے۔
پاکستان اس جنگ کے عوض امریکا سے جو کچھ مانگ رہا ہے وہ امریکا کے لئے مونگ پھلی کے دانے سے بھی کم ہے مگر وہ زعم، اکڑ اور غرور کی وجہ سے پاکستان کے مشورہ کو نہیں مان رہا ہے۔ پاکستان اگر کہتا ہے کہ اُسے ڈرون تکنالوجی دے دیا جائے تو اس کو تکنالوجی فوری سے پیشتر دے دینا چاہئے کیونکہ اس طرح امریکا پشتون دشمنی سے بچ جائے گا اور اس کا رُخ پاکستان کی طرف ہوگا۔ پاکستان ڈرون کو صحیح سمت استعمال کرے گا اور پشتونوں کو سمجھانے کی کوشش بھی کرسکتا ہے، امریکا کے کئی دانشور اس رائے کے حامی ہیں۔ بروس رائیڈل نے کھل کر کہا ہے کہ امریکا کے پاس پاکستان کی شرائط پر پاکستان سے ڈومور کرانے کے علاوہ آپشن ہی نہیں رہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے ایک طویل فہرست امریکا کے حوالے کی ہے کہ اسے سول ایٹمی تکنالوجی کے علاوہ ہوائی متحرکیت چاہئے جس سے وہ میدان جنگ میں فوجی پہنچا سکے، وہاں سے زخمیوں کو لفٹ کرا سکے، اُسے کوبرا ہیلی کاپٹر کا کافی بڑا فلیٹ درکار ہے اور ساتھ ساتھ ہاک ہیلی کاپٹر،ایف 15 طیارے چاہئیں اور اس پر فنڈز اور کشمیر کا مسئلہ اور القاعدہ کو رام کرنے کے لئے فلسطین کے مسئلہ کا حل چاہئے۔
امریکی پاکستان کو ایک خطرناک ملک سمجھتے ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں سے آراستہ ہے۔ اس کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ امریکا کے پاس کوئی چارہ نہیں، ہم تو خود چاہتے ہیں کہ امریکی ہمیں دوست ہی سمجھیں، اپنے آپ کو بے گار لینے والا خرکار نہ سمجھے، امریکا نے ہمیں انڈیا کے ذریعہ دبا نے کی کوشش کرکے دیکھ لی، افغانستان میں مختلف آپشن بروئے کار لا کر دیکھ لئے پاکستان کو سوات اور جنوبی وزیرستان میں پھنسانے کی کوشش بھی ناکام رہی اور اب شمالی وزیرستان میں دھمکی اور دھونس اور دباؤ کے ذریعے پھنسانا چاہتا ہے جس سے پاکستان مکمل طور پر انکار کر رہا ہے اگرچہ وہ ضرورت کے مطابق آپریشن کررہا ہے مگر یہاں امریکا کو ایک مخلص دوست کا روپ دھارنا ہوگا اور عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مخلص ہے تو پاکستان اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرسکتا ہے ورنہ پورا امریکا اس آگ کی زد میں ہے وہاں پاکستانی برادری کو نقصان پہنچتا ہے، وہاں نفرت پھیلتی ہے، وہاں ہنگامے ہوسکتے ہیں تو کیا وہ امریکا کے لئے اچھا ہوگا جنگ تو پھر امریکا منتقل ہوجائے گی۔ پشتون نہ جاپانی ہیں، نہ ہی ویتنامی اور نہ ہی عراقی، یہ الگ لوگ ہیں جن کا انتقام پر ایمان ہے، پاکستانی اس معاملہ کو سمجھتے ہیں وہ ان سے صلاح کرانے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں کہ پاکستانی اچھے دوست ہیں، پشتون پاکستانی بھی ہیں اور افغانی بھی مگر وہ ایک جیسے کردار کے مالک ہیں۔

نصرت مرزا
(بہ شکریہ روزنامہ جنگ)

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں