افغانستان:50ممالک کا مشترکہ ملٹری ٹریننگ سینٹر بن چکا ہے،رپورٹ

افغانستان:50ممالک کا مشترکہ ملٹری ٹریننگ سینٹر بن چکا ہے،رپورٹ
afghan_flashpointsمیری لینڈ (فارن ڈیسک) افغانستان اس وقت 50 ممالک کا مشترکا ملٹری ٹریننگ سینٹر کا روپ اختیار کر چکا ہے اور یہ ملک21ویں صدی کے ہتھیاروں کا ٹیسٹنگ رینج بھی بن چکا ہے۔یہاں دنیا بھر میں مستقبل کی جنگوں میں استعمال ہونے والے جدید جنگی طریقوں کو بھی آزمانے کا کام لیا جارہا ہے ۔

امریکی میڈیا گروپ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی جنگ کی منصوبہ بندی سوچے سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے جہاں اس وقت ناٹو کے زیر کمان 50ممالک جنگی کارروائیوں میں مصروف کار ہیں اور یوں ایک ہی ملک افغانستان میں عالمی جنگ ہو رہی ہے۔ ناٹو نے2003 سے افغانستان میں جب سے ایساف کا کنٹرول سنبھالا ہے اس کے فوجیوں کی تعداد5ہزار سے ایک لاکھ ہو گئی ہے۔اس وقت ایک لاکھ 34ہزار غیر ملکی فوج امریکی فوجیوں کے ساتھ مصروف کار ہیں اور یہ تعداد ایک لاکھ 50ہزار سے اس موسم گرما میں تجاوز کر جائے گی اور زیادہ تر امریکی فوجی ناٹو کے زیر کمان نہیں ہوں گے۔ اس وقت 47ہزار ناٹو اور دیگر اتحادی ممالک کے فوجی موجود ہیں، امریکی فوج کی تعداد افغانستان میں عراق سے زیادہ ہوجائے گی۔1600سے زیادہ امریکی ،ناٹو اور اتحادی ممالک کے فوجی اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں اور صرف250گزشتہ سال ہلاک کر دیے گئے۔امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں2008میں155سے دگنی ہوکر2009میں 318ہو گئی۔اس سال 170افغانی شہری ہلاک ہوئے اور یہ گزشتہ سال سے33فی صد زیادہ ہے ۔ناٹو فورسز نے رواں برس جنوری سے اپریل تک 90افغانی شہریوں کو ہلاک کردیا۔اس سال امریکی ڈرونز حملوں میں پاکستان میں300سے زیادہ افراد کو ہلاک کیاگیا۔اگست2008سے اب تک ایسے حملوں میں1000افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔افغان جنگ میں ڈنمارک نے گزشتہ برس41کروڑ 50لاکھ ڈالر خرچ کئے جب کہ اس کا 2009کا کل دفاعی بجٹ3ارب 87کروڑ ڈالر تھا ۔ڈنمارک کے7فوجی عراق اور31فوجی افغان جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں