اہل سنت والجماعت اہل بیت سے بیحد محبت کرتی ہے، مولانا عبدالحمید

اہل سنت والجماعت اہل بیت سے بیحد محبت کرتی ہے، مولانا عبدالحمید
molana21خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے کہا اہل سنت والجماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے محبت کرتے ہیں اور اہل بیت کا از حد احترام کرتے ہیں۔ جامع مسجد مکی زاہدان کے نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ باتیں کہیں۔

حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم نے کہا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے ایام اور برسی آنے والی ہے۔ آپ نبی کریم  صلى الله عليه وسلم کی بیٹی، حضرت علی رضى الله عنه کی زوجہ اور حضرت حسین وحسن رضی اللہ عنہما کی والدہ تھیں۔ آپ علیہ السلام کے خاندان سے محبت سارے مسلمانوں کے درمیان اتفاقی امر ہے، کسی کو اس حوالے سے اختلاف نہیں ہے۔ شیعہ وسنی سب ان کا احترام کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا حضرت فاطمہ، حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ (رضی اللہ عنہنّ) مسلمان خواتین کے لیے بہترین آئیڈیل ہیں۔ ہماری خواتین اور بیٹیوں کو چاہیے ان صحابیات کی پیروی کریں۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یوم وفات کی طرف اشارہ کرکے خطیب اہل سنت نے شیعہ وسنی مسلمانوں کو اتحاد ویکجہتی کی دعوت دیتے ہوئے کہا سارے مسلمانوں کو چاہیے میانہ روی واعتدال سے کام لیتے ہوئے افراط وانتہا پسندی سے دوری کریں، ایک دوسرے کی مقدسات کا احترام کرکے توہین اور شدت پسندانہ حرکتوں سے سخت اجتناب کریں۔
انہوں نے مزید کہا پوری دنیا ہم (شیعہ وسنی) کو مسلمان سمجھتی ہے، اس لیے ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کے جھنڈے تلے آگے بڑھیں اور ایسی حرکات واعمال سے اجتناب کریں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم نے اپنے بیان کے پہلے حصے میں مولانا مفتی قاسمی کے موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے اولاد کی تربیت کے حوالے سے کہا والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کے لیے کوشش کریں۔ اولاد ہماری زندگی کا بہترین سرمایہ ہوسکتی ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے تاکید کرتے ہوئے کہا والدین اور بچوں کے سرپرست حضرات کو چاہیے نئے فنون اور عصری علوم پر توجہ دینے کے علاوہ بچوں کی روحانی تربیت پر بھی توجہ دیں۔ معنوی تربیت کے بغیر اولاد کا ٹھیک ہونا ناممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا پیسہ اور ثروت اولاد کی کامیابی کے لیے ناکافی ہے بچوں کے لیے بہترین میراث {عام خیال کے برعکس} نیک اخلاق اور صالح عمل ہے، صالح اولاد باعث آرام وراحت اور عمل باقی ہیں جبکہ ناصالح اولاد آخرت میں ہمارے لیے ذریعے عذاب بن سکتی ہیں۔

اولاد کی صحیح تربیت کرکے کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے
یاد رہے اس جمعہ کا پہلا خطبہ حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم کے بیان سے پہلے مولانا مفتی قاسم قاسمی صاحب نے سنایا۔ استاد حدیث دارالعلوم زاہدان اور سرپرست دارالافتاء نے اولاد کی تربیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نمازیوں کو نصیحت کی کہ گرمی کی چھٹیوں کو بچوں کیلیے قیمتی بنائیں۔
اسکولوں اور تعلیمی اداروں کی چھٹیوں کے قریب آنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مفتی محمد قاسم قاسمی نے والدین کو مشورہ دیا کہ مناسب ہے بچوں کے بہتر مستقبل اور قرآن کی تعلیم سے انہیں آراستہ کرنے کے لیے اچھی منصوبہ بندی کی جائے۔ انہوں نے کہا بچوں کے لیے سب سے بڑا کام جو کرنے کا ہے وہ ان کے فارغ اوقات کو پر کرنا ہے۔
شیطان کی تلاش یہ ہے کہ موقع پاکر لوگوں کو یرغمال بنائے۔ انسی وجنی شیاطین کے لیے فارغ اوقات دھوکہ دہی کے سنہری مواقع ہیں۔
عرب شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
انّ الشباب والفراغ و الجدۃ *** مفسدۃ للمرء أی مفسدۃ
نوجوانی، بے کاری اور مال ودنیا افراد کے سخت فساد کے باعث امور ہیں۔
اگر ایسے افراد کی صحیح دینی تربیت نہ کی جائے تو اْن کی تمام توانائیاں اور صلاحیتیں برباد ہوجائیں گی۔
مولانا قاسمی نے مزید کہا اولاد بہت بڑی نعمت اور قیمتی خزانہ ہیں، دنیا اور آخرت کا خزانہ اولاد ہیں جن کو پیسہ دیکر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس نعمت کی قدر جاننے کے لیے ان حضرات کا حال پوچھیے جن کی اولاد نہیں۔ اسی لیے ان کی ترتیب کی کوشش کرنی چاہیے۔
صدر دارالافتاء دارالعلوم زاہدان نے زور دیتے ہوئے کہا کامیابی اور سعادت کم یا زیادہ بچوں میں نہیں، یہ معیار نہیں ہے؛ یہ جو کہتے ہیں “بچے کم ہی اچھے” ایک نعرہ ہے اور ایسا نقطہ نظر جس کے بارے میں بحث کی جاسکتی ہے۔ اسلام “اچھے بچے بہتر زندگی” کا درس دیتا ہے قطع نظر اس سے کہ بچے کم ہوں یا زیادہ۔ کیا ہی اچھا ہوگا کہ بچے بہت ہوں اور سب اچھے اور نیک ہوں۔ یہ سعادت کی بات ہے۔ لیکن اگر بچے ایک ہے مگر ناصالح اور بلائے جان تو زندگی اجیرن ہوجائے گی۔
مفتی محمد قاسم قاسمی نے مزید کہا معاشرے اور اولاد کی تربیت ایک ایسی ذمہ داری ہے جس پر انبیاء علیہم السلام، بزرگان دین اور نیک وصالح لوگوں نے زور دیاہے اور خود بھی اس مسئلے پر توجہ دی ہے۔ قرآن پاک کی متعدد آیات سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء: {ربّنا لیقوم الصلاۃ فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیہم وارزقہم من الثمرات لعلہم یشکرون} سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی باپ کے لیے ضروری ہے کہ اپنی اولاد کے لیے تین چیزوں کو مہیا کرکے اس حوالے سے فکرمند رہے اور دعا بھی کرے۔
1۔ پہلا مسئلہ ان کی دینداری اور اقامہ نماز کا ہے۔ ارشاد نبوی کے مطابق نماز دین کا ستون ہے جو نماز قائم رکھتا ہے وہ اپنا دین قائم بناتا ہے جو نماز سے غفلت کرے وہ دین کو منہدم کرنے والا ہے۔ حضرت عمر رضى الله عنه نے اپنے دور خلافت میں حکم نامہ جاری کرکے فرمایا تھا میرے نزدیک تمہارا سب سے اہم کام اقامہ نماز ہے۔
جو شخص نماز کی پابندی کرتا ہے وہ دین کی حفاظت کرنے والا ہے جو نماز نہیں پڑھتا وہ دیگر امور کے ضیاع میں زیادہ آگے ہوگا۔ جو بچہ نماز نہیں پڑھتا وہ خیانت، بے حیائی اور فساد کا شکار ہوجاتا ہے، بالاخر خاندان اور معاشرہ کے لیے اضافی بوجھ او شرم کا باعث بنے گا۔ اولاد بیٹے ہوں یا بیٹیاں سب کا یہی حال ہوگا۔ لیکن جو نماز پڑھتا ہے اس کی صحیح تربیت کی بنیاد بن چکی ہوتی ہے۔
دوسری چیز اولاد کی عزت وسربلندی اور تیسرا مسئلہ معیشت اور معاشی مسائل ہیں۔ تا کہ بچہ بھوک اور افلاس کا شکار نہ ہوجائے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ بچوں کی ان تین ضروریات پوری کریں۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان امور کو اہمیت دی ہے تو ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مجاہدتوں اور دعاؤں کی برکت سے سارے انبیاء آپ کے بعد آپ ہی کی نسل سے مبعوث ہوئے۔ چنانچہ رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم فرماتے تھے میں اپنے دادا ابراہیم کی دعا کا نتیجہ ہوں۔
والد کی اولاد کو نصیحت کرنا اس قدر اللہ کو پسند ہے کہ نصیحت کے الفاظ ہی قرآن پاک میں مذکور ہیں۔ جس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام اور لقمان حکیم کی نصیحت کے الفاظ قرآن مجید میں آئے ہیں۔
مولانا قاسمی نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا بچوں کی تربیت کے لیے غور وفکر کیجیے اور اللہ سے بھی مدد مانگ کر منصوبہ بندی کیجیے۔ خاص کر گرمی کی تعطیلات جو شروع ہونے والی ہیں ان چار مہینوں میں بچوں کے لیے صحیح راستہ انتخاب کیجیے۔
تربیت کی فکر تعطیلات وغیر تعطیلات کے ایام میں ہونی چاہیے۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ کم سن بچوں کو بْری عادتوں سے منع نہ کیا جائے کہ ابھی چھوٹا ہے! بلوغت سے پہلے اور بعد ہمیشہ بچوں کی تربیت کرنی چاہیے۔

حکیم الأمت علامہ تھانوی (رح) نے فرمایا ہے کہ ساری آوازیں اور تصاویر جو بچوں کی نظروں اور کانوں تک پہنچتی ہیں وہ ان کی تربیت پر اثر گذار ہوتی ہیں۔ بچوں کی تربیت نماز سے کرنی چاہیے۔ اسی لیے آپ  صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: {مروا أولادکم بالصلاة و هم أبناء سبع سنین و اضربوهم علیها و هم أبناء عشر و فرقوا بین مضاجعهم} (جب بچے سات سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز کی ادائی کا حکم دینا چاہیے، دس سالہ بچوں کو نماز کے خاطر ان کی جسمانی تنبیہ سے دریغ نہ کیا جائے۔ اور اس عمر میں ان کے لیے الگ بستر کا انتظام کیا جائے۔)
ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے: {أدّوا أولادکم علی خصال ثلاث؛ حبّ بنیکم وحبّ آل نبیّکم وعلی قراء ۃ القرآن} اپنی اولاد کی تربیت محبت رسول وآل رسول اور تلاوت قرآن سے کرائیں۔
مفتی قاسمی حفظہ اللہ نے قرآن پاک سیکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کو قرآنی مکاتب میں داخل کرائیے تا کہ قرآن کی تلاوت اور اس کی تعلیمات سے آگاہ ہوجائیں۔

استاذ الحدیث جامعہ دارالعلوم زاہدان نے تجویز دی کہ ہر مسجد میں مغرب یا عشاء کی نماز کے بعد ایک گھنٹہ قرآن پاک کا ناظرہ سیکھنے کے لیے چھوٹے اور بڑے سب اکھٹے ہوجائیں۔
قرآن سیکھنا صرف بچوں اور نوجوانوں کے لیے ضروری نہیں بلکہ عمر رسیدہ افراد کو بھی صحیح ناظرہ سیکھنا چاہیے۔ بہت سارے صحابہ کرام نے اس وقت قرآن سیکھا جب معمر بن چکے تھے۔
موضوع پر مزید بات کرتے ہوئے مولانا قاسمی صاحب نے سورت تحریم کی آیت: { یا أیھا الذین آمنوا قوا أنفسکم وأھلیکم ناراً} کی تلاوت کی۔ اے مؤمنو! خود کو اور اپنے گھروالوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ وہ آگ جس کی ایندھن انسان ہیں۔ اپنے بچوں کو اس خطرناک آگ سے بچانے کے لیے یہ طریقے اختیار کرنا چاہیے:
1۔ اولاد کے رزق وروزی کا خیال رکھنا چاہیے۔ بچوں کو حلال روزی کھلانی چاہیے۔
مشکوک اور حرام نوالہ ان کے منہ میں نہیں ڈالنا چاہیے جو اْن کے لیے زہر قاتل ہے۔ علامہ ندوی (رح) نے فرمایا ہے کہ میری والدہ اس بات کا بہت خیال رکھتی تھیں کہ کوئی حرام یا مشکوک چیز میں نہ کھالوں۔ وہ مجھے ہمیشہ نصیحت کرتی تھیں کہ کسی شخص پر ظلم مت کرو اور مظلوم کی آہ کا وبال سر پر نہ لو۔
2۔ اچھے اور نیک دوست ان کے لیے انتخاب کریں۔ انہیں علماء وصلحاء سے آشنا کرائیں اور شب جمعہ کو انہیں اپنے ساتھ مرکز جماعت تبلیغ لے جائیں۔
3۔ روزانہ پانچ منٹ نصیحت، دینی علوم، مذاکرہ اور بزرگوں کے واقعات کے تذکرے کے لیے مختص کریں۔ مفتی رشید احمد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے یہ ظلم ہے کہ ہم 50 منٹ اپنے لیے مختص کریں مگر اولاد کو 5 منٹ وقت نہ دے سکیں۔
4۔ ان کے فارغ اوقات کو ضیاع سے بچانے کے لیے منصوبہ بندی کریں۔
5۔ اولاد کے حق میں دعاء کریں۔ یہ دعا اللہ کو بہت پسند ہے اور جلدی قبول بھی ہوتی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں