ممبئی حملوں کے ذمہ دار، سی آئی اے، موساد اور بھارتی آئی بی

ممبئی حملوں کے ذمہ دار، سی آئی اے، موساد اور بھارتی آئی بی
mumbai-attackاجمل قصاب کو موت کی سزا سنا دی گئی۔ وہ 27نومبر 2008 کے واقعہ کا وہ واحد شخص تھا، جو گرفتار ہوا اور جس پر ممبئی حملوں کا الزام لگا۔ ایسا بدنصیب شخص جو باپ سے اس بات پر ناراض ہو کر چلا گیا تھا کہ اس کو ایک عید کے موقع پر نئے کپڑے بنا کر نہیں دیئے تھے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ غصہ کی حالت میں ہندوستان سرحد پار کر گیا اور سرحدی فوج یا پیرا ملٹری فوج کے ہتھے چڑھ گیا اور انہوں نے اسے ممبئی حملوں میں استعمال کیا یا پھر وہ کسی اور تنظیم کے ہتھے چڑھ گیا اور وہاں بھی وہ استعمال ہو گیا۔ البتہ یہ قریب قیاس نہیں ہے کہ وہ ایک کشتی کے ذریعہ ممبئی پہنچا ۔ بعد کی تحقیق نے اس نظریے کو غلط بھی ثابت کر دیا۔

27 نومبر 2008 کو اس کالم نگار نے کراچی کے فائیواسٹار ہوٹل میں ایک سیمینار جس کا عنوان تھا،’ جنوبی ایشیاء کی سیاست میں میڈیا کاکردار‘ کے انعقاد کا اہتمام کر رکھا تھا ۔ اس سیمینار میں ہم نے ہندوستان کے تین بڑے اخبارات کے ایڈیٹروں کو بلوایا ہوا تھا۔ ان میں عزیز برنی جو راشٹریہ سہارا کے ایڈیٹر ہیں اور یہ اخبار ہندوستان کی 9 ریاستوں سے نکلتا ہے۔ دوسرے احمد سعید ملیح آبادی صاحب تھے جو آزاد ہند کلکتہ کے چیف ایڈیٹر ہیں اور انڈیا کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے ممبر بھی ہیں۔ تیسرے حیدرآباد کے قدیم اخبار روزنامہ سیاست کے چیف ایڈیٹر زاہد علی خان تھے اور چوتھے ڈویش ورما تھے جن کا تعلق سہارا نیوز چینل سے تھا۔ یہ صحافی 26 نومبر 2008 کوتقریباً شام پانچ بجے کراچی پہنچے تھے، ہوٹل میں اور ضروری کارروائیوں سے فارغ ہو کر ابھی ہم گھر چلے گئے کہ برادر عزیز برنی کا فون آگیا کہ ممبئی پر حملہ ہو گیا ہے اور وہ کل کا سیمینار کے فوری بعد ممبئی پہنچنا چاہتے تھے۔ ہم بھاگم بھاگ ہوٹل پہنچے اور ٹی وی چینل پر ممبئی حملوں کی کارروائی دیکھتے رہے کہ خبر آئی کہ یہ حملہ پاکستانی تخریبوں نے کیا ہے۔ جس پر ہم نے دبے دبے الفاظ میں کہا کہ اس قسم کا حملہ پاکستانی کی صلاحیت سے بالاتر ہے۔ ابھی قصاب گرفتار بھی نہیں ہوا تھا کہ یہ الزام ہندوستانی فوج کی طرف سے پاکستان پر داغ دیا گیا۔ عزیز برنی مصر تھے کہ ان کو کسی نہ کسی طرح ممبئی بھیج دیا جائے۔ ہم نے ان کو بمشکل تمام سمجھایا کہ آپ ممبئی جانے کا نہ سوچیں بلکہ دلی جائیں اور وہاں حالات کا جائزہ لیکر ممبئی جانا چاہتے ہیں تو چلے جائیں۔ بحالت مجبوری وہ مان گئے اور اس کے بعد انہوں نے ان حملوں پر تحقیق کی اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ حملہ آور سمندری راستے تو بالکل نہیں آے تھے انہوں نے ممبئی حملے پر سو سے زیادہ مضامین لکھے اور ان اصرار رہا کہ یہ کوئی اور کارروائی تھی۔ اگر پاکستان کو اس الزام سے بری نہ بھی کیا جائے تو بہرحال کوئی اور بھی اس کارروائی میں حصہ دار تھا۔ دوسرے روز سیمینار میں شرکاء نے کھل کر ممبئی حملوں کی مذمت کی اور باقاعدہ مذمتی قرار داد پاس کی۔ اس سے چاروں ہندوستانی صحافیوں کو اندازہ ہوا کہ کراچی اور پاکستان کے عوام کو بہرحال اس حملے پر تشویش میں مبتلاہے۔
اب ہندوستان کے معروف شخص امریش مشرا جو کانگریس کی انٹی کمیونل کمیٹی کے سربراہ ہیں نے ایک مضمون لکھا ہے جس سے انہوں نے اس شبہ کی تصدیق کی ہے ممبئی حملوے دراصل انڈیا کی انٹیلی جنس بیورو، امریکہ کی سی آئی اے اسرائیل کی موساد اور انڈیا کی انتہا پسند ہندو جماعت آر ایس ایس کا مشترکہ آپریشن تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات کافی عرصے سے عزیز برنی کہتے اور لکھتے آئے ہیں ۔ مگر ان کی بات کو کوئی سن کر نہیں دے رہا تھا انگریزی پریس نے اس تصور کا مکمل بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔ امریش مشرا کے مطابق انڈیا کا انگریزی پریس اس طرف اس وقت راغب ہوا جب امریکہ نے ڈیوڈ ہیڈلی کو انڈیا کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ تب انہیں احساس ہوا کہ معاملہ واقعی کچھ اور ہے۔
ہندوستان ٹائمز نے سازش تھیوری کو قبول کیا اگرچہ دسمبر 2008 میں اس اخبار نے دونوں کو امریش مشرا اور عزیز برنی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اس لئے کہ انگریزی میڈیا اس وقت صرف یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح لال کرشن ایڈوانی وزیراعظم بن جائیں اور وہ کسی اور چیز کو خاطر میں نہیں لا رہے تھے۔ امریش مشرا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی اور عزیز برنی کی ہی کاوش تھی جس نے کانگریس کو اتنی بڑی کامیابی دلوائی۔
سچ تو یہ ہے کہ ہیڈلی ہر اس جگہ موجود پایا گیا جہاں پر حملہ ہوا تھا۔ اس لئے سی آئی اور ہیڈ لی کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ انڈیا کی انٹیلی جنس بیورو نے مسلمانوں کو ہدف بنایا ہوا ہے اور مسلمان نوجوان لڑکوں کو بے گناہ کسی نہ کسی کیس میں پکڑلیتے ہیں اور اتنے مقدمات بنادیتے ہیں جس سے وہ زندگی بھر نکل نہیں سکتے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈی وی جے سنگھ جنرل سیکریٹری آل انڈیا کانگریس کمیٹی جب اعظم گڑھ گئے تو ان کی حیرت کی ا نتہا نہ رہی جب ان کو معلوم ہوا کہ وہاں کے ایک لڑکے ذیشان کو بٹلا ہاؤس کے مشہور زمانہ جھوٹے پولیس مقابلہ میں گرفتار کیا گیا وہ دراصل امتحان دے رہا تھا اور اس کے خلاف مختلف ریاستوں میں اتنے کیس بنا دیئے گئے ہیں اگر اس کی سو سال کی زندگی بھی ہو تو وہ ان مقدمات کو بھگتاتا رہے گا۔ امریش مشرا کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس بیوریو میں آر ایس ایس کے کارکن گھس گئے ہیں اور بے رحمی کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم کا رویہ روا رکھتے ہیں۔ امریش مشرا نے لکھا ہے کہ ممبئی حملوں کے وقت ممبئی کے آئی بی چیف کو کچھ پتا نہیں تھا اور ہرچیز آئی بی کے مرکزی دفتر دلی سے سارے معاملات طے کئے جا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ زیادتی و ظلم و ستم کی انتہاء یہ کہ 2006 کے ممبئی حملوں کے ملزمان کا دفاع کرنے والے وکیل شاہد اعظمیٰ کو آئی بی نے قتل کر دیا۔ خود راقم نے بار بار یہ سوال اٹھایا کہ ممبئی پولیس کے اس ایماندار اور فرض شناس افسر کرکرنے کو کیوں مارا گیا۔ اس لئے کہ اس نے فوج کے کرنل راج کمار پروہت اور سدھوی پراگیا جو کہ مالے گاؤں کے بم دھماکوں، حیدرآباد کی مکہ مسجد بم دھماکہ، سمجھوتہ ایکسپریس کو جلانے اور دیگر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے، کو گرفتار کیا تھااور بھارتی فوج پر حرف آرہا تھا۔ اس لئے امریکہ کی سی آئی اے ممبئی دھماکے کرا کر فوج کو ان حملوں سے بری کر دیا کرکرے کو مار دیا۔ کانگریس کو جتا دیا کیوں کہ کانگریس حکومت کے ساتھ امریکی سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ ہوا تھا وہ کانگریس کی حکومت کا تسلسل چاہتے تھے اور پاکستان کو اس میں ملوث کر کے دبانا مقصود تھا۔ تینوں کام بخیرو خوبی انجام پا گئے۔ پاکستان سے یہ تسلیم کرا لیا گیا کہ کشتی پاکستان سے گئی تھی اس کی شناخت کرا کر کانگریس کو فتح دلانا تھی ،سو دلا دی گئی پاکستان سے کہا گیا کہ پاکستان اس کے منصوبہ میں تعاون کریں تو پاکستان کو کہیں اور جگہ پر اس کا معاوضہ یا حمایت کر دی جائے گی سو شرم الشیخ میں بلوچستان میں مداخلت کی بات ہندوستانی وزیراعظم سے منوا کر حساب کتاب برابر کر دیا۔
یاد رہے کہ پاکستان و ہندوستان امریکہ کے احکامات کی تعمیل میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ ہمارے درمیان تناؤ میں تیزی پیدا کرتا ہے وہ ہمارے درمیان ثالث بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ بھارتیوں کی بالادستی کے تصور کو ابھار کر پاکستان کے خلاف محاذ کھڑا کراتا ہے۔ اس پر دراندازی کراتا ہے جو انڈیاکا پسندیدہ مشغلہ ہے اور پاکستان کو دبانے کی کوشش کرتا ہے پاکستان کو جنگجوؤں سے لڑاتا ہے۔ دونوں طرف امریکہ ہے بلکہ تینوں چاروں طرف امریکا کا گریٹ کام جاری ہے پاکستان کو دبایا اور لہولہان کیا جا رہا ہے، مسلمانوں کو مسلمانوں کی سب سے بڑی ریاست اور ایٹمی ملک کو کمزور کرنے کے لئے۔

نصرت مرزا
(بہ شکریہ روزنامہ جنگ)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں