فیصل شہزاد کی فوری گرفتاری، اعتراف جرم اور اس کیس میں متعصب بھارتی عناصر کی مداخلت اور پروپیگنڈے نے واقعہ کو مشکوک بنا دیا

فیصل شہزاد کی فوری گرفتاری، اعتراف جرم اور اس کیس میں متعصب بھارتی عناصر کی مداخلت اور پروپیگنڈے نے واقعہ کو مشکوک بنا دیا
times_square1رپورٹ (نواۓوقت) نیویارک میں فیصل شہزاد کی فوری گرفتاری، اعتراف جرم اور اس کیس میں متعصب بھارتی عناصر کی مداخلت اور پروپیگنڈے نے واقعہ کو مشکوک بنا دیا ۔

امریکی قوانین کے مطابق کسی بھی ملزم کو بہت سی رعائتیں حاصل ہیں اور مکمل تفتیش اور دلائل کے بغیر مقدمے کی سماعت شروع نہیں کی جاسکتی ۔ قانونی ماہرین فیصل شہزاد کے کیس کی تیز ترین کارروائی سے حیران ہیں کیونکہ صرف ایک ہی روز میں گرفتاری ، اعتراف اور فرد جرم عائد کرنے کے مراحل طے کرلیے گئے ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس شروع ہونے میں کئی ماہ لگے تھے جبکہ پاکستانی نژاد فہد ہاشمی کوتین سال بعد عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ۔ فیصل شہزاد پرفرد جرم عائد کرنیوالے نیویارک کے فیڈرل اٹارنی پریت بھرارا ایک متعصب ہندو ہیں اورپاکستان مخالف رویے کی وجہ سے کافی شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ کولمبیا لاء سکول میں صدر اوبامہ کے ساتھ پڑھتے رہے ہیں جبکہ اوبامہ نے صدر بننے کے بعد انہیں دو ہزار نو میں فیڈرل اٹارنی مقرر کیا تھا ۔ پریت بھرارا نے اپنے ہم خیال ایک اور بھارتی شہری انجن ساہنی کو انٹرنیشنل ٹیررازم اینڈ نارکوٹیکس یونٹ کا سربراہ مقرر کر رکھا ہے۔ یہ بات کافی دلچسپ ہے کہ اوبامہ انتظامیہ شدید تنقید کے باوجود نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ کا مقدمہ نیویارک میں شفٹ کرا چکی ہے اور خیال ہے کہ اس میں بھی پریت بھرارا نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستانی کمیونٹی متعدد بار پریت بھرارا اور انجن ساہنی کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے جبکہ پریت بھرارا کے پاکستان مخالف رویے میں اس کی یہودی بیوی کا بھی ہاتھ ہے۔ ادھر بعض حلقے فیصل شہزاد کی کارروائی کو اوبامہ مخالف انتہاپسند تنظیموں سے بھی جوڑ رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض انتہا پسند قوتیں مسلسل خوف کی فضا قائم کرکے اوبامہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ تیز کرنے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں ۔ امریکی نیشنل انٹیلیجنس کے سربراہ ڈینس بلیئر نے گزشتہ دنوں پاکستانی سفیر حسین حقانی اور کمیونٹی کے اہم افراد سے ملاقات میں انکشاف کیا تھا کہ کچھ پاکستانی امریکی خفیہ اداروں کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ بعض حلقے فیصل شہزاد کی سرگرمیوں کو بھی کسی خفیہ ایجنسی کا ہی کاررنامہ قرار دے رہے ہیں ۔ دوسری جانب یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستانی حکام کئی بار تحریک طالبان پاکستان کے بھارتی اورمغربی خفیہ اداروں کے ساتھ تعلقات کے دعوے کر چکے ہیں ۔ نیویارک واقعے کی تحریک طالبان کی جانب سے فوری طورپر ذمہ داری قبول کرنا ، حکیم اللہ محسود کی ویڈیو میں امریکہ پر حملوں کی دھمکی اور فیصل شہزاد کی پشاورمیں رہائش اور وزیرستان کے سفر نے بھی اس معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے ۔ ان حلقوں کا خیال ہے کہ نیویارک کا یہ واقعہ پاکستان کو بدنام کرنے اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن تیز کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں