آزادی صحافت کا عالمی دن،2009ء، دنیا بھر میں 7 پاکستانیوں سمیت 76 صحافی قتل

آزادی صحافت کا عالمی دن،2009ء، دنیا بھر میں 7 پاکستانیوں سمیت 76 صحافی قتل
cameraلاہور (رپورٹ: جنگ نیوز) آج پوری دنیا میں آزادی صحافت کا عالمی دن ”آزادانہ معلومات تک رسائی کا حق“ کے عنوان سے منایا جارہا ہے تو 21 ویں صدی کے جدید ترین دور میں بھی صحافت کی آزادی محض دعوؤں اور نعروں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔

سال 2009ء میں 7 پاکستانی صحافیوں سمیت دنیا بھر میں 76 صحافی قتل کئے گئے جبکہ 573 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا جن میں 150 بدستور جیلوں میں ہیں، سب سے زیادہ 31 صحافی نومبر 2009ء کے الیکشن کے دوران فلپائن میں قتل کئے گئے۔ قلم کی طاقت کو کچلنے کی بھرپور کوشش کی جاتی رہی، حق اور سچ کو فروغ دینے پر صحافیوں کو زبردست تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی بدترین مثال پاکستان کی ہے جہاں کبھی میڈیا کو دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوتی ہیں تو کبھی میڈیا کو وکلاء، ڈاکٹر اور مختلف قسم کے گروپوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔
2009ء میں عالمی سطح پر صحافیوں کی زیادہ تر ہلاکتیں ملکوں کے اندرونی حالات اور صحافت کو براہ راست نشانہ بنانے کے باعث ہوئیں۔ آزادی صحافت کے عالمی دن کے حوالے سے جنگ ڈویلپمنٹ رپورٹنگ سیل نے مختلف ذرائع سے جو اعداد و شمار حاصل کئے ہیں اس کے مطابق 2008ء کی نسبت 2009ء میں صحافیوں کے قتل کے واقعات میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹرز ودھ آوٴٹ باڈرز کے اعداد و شمار کے مطابق 2008ء میں 60 صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ 2009 میں یہ تعداد بڑھ کر 76 ہوگئی اور اسی سال 33 میڈیا اسسٹنٹ بھی قتل ہوئے۔ سب سے زیادہ 31 صحافی نومبر 2009 کے الیکشن کے دوران فلپائن میں قتل کئے گئے جبکہ میکسیکو میں 13، صومالیہ میں 9، پاکستان میں 7 روس اور عراق میں 5,5 صحافی قتل کئے گئے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ عراق میں 2003 سے2008 تک جو صحافیوں کا زبردست قتل عام دیکھا گیا اس میں کمی واقع ہوئی اور عراق جو اتنے برسوں سے سرفہرست رہا اب پانچویں نمبر پر آچکا ہے۔ 2009ء کے میں 573 صحافیوں کو زیر حراست لیا گیا۔ سی پی جے کے اعداد و شمار کے مطابق اب بھی دنیا کی مختلف جیلوں میں 150 صحافی زیرحراست ہیں جن میں سب سے زیادہ 60 ایران میں قید ہیں۔ ملک میں 2009ء کے دوران جاں بحق ہونے والے صحافیوں میں جیو ٹی وی کے رپورٹر موسیٰ خان کا قتل نہایت افسوسناک تھا جنہیں اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے قتل کیا گیا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اعداد و شمار کے مطابق 1999 سے 2008 تک ایک عشرے کے دوران ملک بھر میں 34 صحافیوں کا قتل کیا گیا۔ 2009 میں حکومت کی جانب سے جیو وٹی وی کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا اور سرکاری اشتہارات پر پابندی عائد کی گئی۔ عالمی سطح پر آزادی صحافت کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال انتہائی مایوس کن ہے۔ رپورٹرز ودھ آوٴٹ بارڈرز کے مطابق عالمی رینکنگ میں پاکستان 175 ممالک کی فہرست میں 159 ویں نمبر پر ہے جبکہ رینکنگ میں ڈنمارک سرفہرست ہے، فن لینڈ دوسرے اور آئس لینڈ تیسرے نمبر پر ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں