آبادکاروں کی ٹارگٹ کلنگ جاری‘ بلوچستان یونیورسٹی کی پروفیسر قتل

آبادکاروں کی ٹارگٹ کلنگ جاری‘ بلوچستان یونیورسٹی کی پروفیسر قتل
balochistan-universityکوئٹہ(بیورو رپورٹ) کوئٹہ میں آباد کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کی دوپہر بلوچستان یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر کو قتل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی کی پروفیسر ناظمہ مہدی چھٹی کے بعد رکشہ میں اپنے گھر جارہی تھیں کہ کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر مگسی ہاس کے قریب نامعلوم افراد نے انہیں فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ملزمان واردات کرکے باآسانی فرارہوگئے ۔ خاتون پروفیسر کی لاش کو فوری طورپر سول ہسپتال پہنچایا گیاجہاں ضروری کاروائی کے بعد لاش ورثاءکے حوالے کردی گئی۔ واقعہ کے بعد ایف سی اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر نامعلوم ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان یونیورسٹی کی2پر وفیسر زٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوچکے ہیں۔ منگل کو ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والی خاتون پروفیسر کا تعلق کراچی سے بتایا جاتا ہے جو کہ کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔مقتولہ نے پسماندگان میں ایک بیٹا چھوڑا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق مقتولہ کی نعش آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے کراچی روانہ کردی گئی ہے۔علاوہ ازیں نجی ٹی وی کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ نے خاتون پروفیسر کے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔مزید برآںاکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر کلیم اللہ نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ یہ بلوچستان یونیورسٹی کے تیسرا پروفیسر ہے جس پردن دہاڑے حملہ ہوا ۔ خاتون پر حملے کی اسلام اجازت دیتا ہے نہ پشتون اور بلوچ روایات ۔ انہو ںنے 3 روزہ سوگ کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ خاتون پروفیسر کے قتل کے خلاف ملک بھر کی یونیورسٹیوںمیں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوںنے مطالبہ کیاکہ حکومت عام شہریوں کے ساتھ ساتھ شعبہ تعلیم سے وابستہ استاتذہ کو تحفظ فراہم کرے ۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں