آج : 24 April , 2010

طالبان کی ڈرون طیاروں کی ٹیکنالوجی تک رسائی

طالبان کی ڈرون طیاروں کی ٹیکنالوجی تک رسائی
droneپشاور (اردوٹائمز) طالبان نے ڈرون حملوں کا حل نکال لینے کا دعویٰ کیا ہے۔عالمی ذرائع ابلاغ کو طالبان نے ایک چپ بھیجی ہے جس کی مدد سے امریکی طالبان رہنماﺅں کو نشانہ بناتے تھے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ امریکی اپنے جاسوسوں کے ذریعے یہ چپ اس جگہ پھینکدیتے تھے جہاں طالبان رہنماﺅں کا کوئی اجلاس ہوتاتھا اور پھر امریکہ مخصوص آلات کے ذریعے اس چپ کا پتہ چلا کر ڈرون طیارے سے حملہ کر دیتا تھا۔
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان اب کسی جگہ اکٹھے ہونے سے قبل پہلے علاقے کی پوری طرح چھان بین کرتے ہیں اور مکمل تسلی کے بعد ہی اجلاس منعقد کرتے ہیں۔طالبان کا کہنا ہے کہ جاسوسی کرنے والوں کا یہ طریقہ بھی رہا ہے کہ اپنے ہدف کی گاڑی پر ایک خاص قسم کے چاک سے لکیر کھینچ دیتے ، یہ لکیر مخصوص کیمرے کے ذریعے ہی نظر آتی۔طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ اب خاص کیمروں کی مدد سے اپنی گاڑیوں کو بھی چیک کرتے ہیں۔ڈرون طیاروں کو ہدف سے آگاہ کرنے والی چپ کا سائز موبائل فون کی سم جتنا ہی ہے اور اس میں یہ خاصیت ہے کہ وہ انسانی آنکھ کو نظر نہیں آتی۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں