آج : 24 April , 2010

عورتوں کا چہرے سے بال اکھاڑنے کا حکم

عورتوں کا چہرے سے بال اکھاڑنے کا حکم
woman-hijabس: علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں: عورت کے لیے کن صورتوں میں اور کن شرائط کے ساتھ چہرے سے بال صاف کرنا جائز ہے؟

ج: فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتاہے اگر عورت کے چہرے پربال نکل آئے جس سے خاوند کو نفرت محسوس ہو اور عورت کے حسن میں کمی واقع ہو تو وہ بال صاف کرسکتی ہے چونکہ زیب و زینت عورت کے لیے مطلوب ہے۔ لیکن اگر چہرے سے بال صاف کرنے اور اکھاڑنے کا مقصدنامحرموں اور اجنبیوں کے لیے زینت اور اپنی زیبائش کی نمائش کرنی ہو یا چہرے کے بالوں کو اکھاڑنے سے عورت کی صحت کو نقصان لاحق ہو تو ان صورتوں میں بال صاف کرنا ناجائز ہے۔

مفتی خدانظر رحمہ اللہ۔ محمود الفتاویٰ4/206
دارالافتاء دارالعلوم زاہدان


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں