آج : 20 April , 2010

چوری اور سینہ زوری!

چوری اور سینہ زوری!
killer-childrenپچهلےدنوں ایک محفل میں یہ سوال زیر گفتگو تها کہ مجرموں کو سخت اور عبرتناک سزائیں دینا انسانی عظمت کے کس حد تک مطابق ہے؟ بعض مغربی ملکوں میں سزاء موت (Capital Punishment)  مکمل طور پر ختم کردی گئی ہے. لہذا بعض حضرات کا خیال یہ تها کہ یہی طریقہ زیاده مناسب ہے. اس پر مجہے چارسال پہلے کا ایک واقعہ یاد آگیا جو میں نے خود اپنی آنکهوں سے ایک معتبر اخبار میں با وثوق طریقے پر نہ پڑها ہوتا تو شاید اس پر یقین کرنا مشکل ہوتا.

یہ اکتوبر سنہ 1989 کی بات ہے. میں ان دنوں امریکہ اور کینڈا کے دورے پر گیا ہوا تها، اور ٹورنٹو سے نیویارک جارہا تها، جہاز میں کینڈا کا مشہور ہفت روزه اخبار “National Enquirer”   ہاتهـ میں آگیا جسکی پیشانی پر یہ جملہ درج ہوتا ہے کہ ” یہ شمالی امریکہ کا سب سے زیادہ چهپنے والا ہفت روزه ہے”. یہ اس اخبار کی 17/اکتوبر سنہ 1989 کی اشاعت تهی، اور اس کے صفحہ نمبر 50 پر ایک خبر شہ سرخیوں اور تصویروں کے ساتهـ شائع کی گئی تهی، خبر کا خلاصہ یہ تها کہ کینڈا کے علاقے برٹش کو لمبیا میں ایک وحشت ناک مجرم کلفرڈ اولسن(Clifford Olson)  کو قتل، زنا بالجبر اور غیر فطری عمل کے الزام میں گرفتار کیا گیا. یہ شخص نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں کو روزگار دلانے کے بہانے اپنے ساتهـ لے جاتا، ان کو نشہ آور گولیاں کهلاتا، ان کے ساتهـ زبردستی جنسی عمل کرتا، اور بالآخر انہیں قتل کرکے ان کی لاشیں دور و دراز کے مقامات پر دفن کردیتا تها. گرفتاری کے بعد اس شخص نے یہ اعتراف کیا کہ اس نے گیارہ نوعمر بچوں اور بچیوں کے ساتهـ زیادتی کرکے انہیں قتل کیا ہے، اور انکی لاشیں مختلف مقامات پر چهپادی ہیں. اور قتل بهی اس بربریت کے ساتهـ کہ جب ایک بچے کی لاش برآمد ہوئی تو اس کے سر میں لوہے کی ایک میخ ٹهکی ہوئی پائی گئی!
جب یہ اقبالی مجرم گرفتار ہوا تو پولیس نے اس سے مطالبہ کیا کہ جن گیارہ بچوں کو اس نے بربریت کا نشانہ بنایا ہے، ان کی لاشوں  کی نشان دہی کرے، اس ستم ظریف نے اس مطالبے کا جو جواب دیا، شاید اُس سے پہلے وه کسی کے خواب و خیال میں بهی نہ آیا ہو. اس نے کہا کہ “مجهے وه سارے مقامات یاد ہیں جہاں میں نے ان بچوں کی لاشیں دفن کی ہیں، لیکن میں ان مقامات کا پتہ مفت نہیں بتا سکتا، میری شرط یہ ہیں کہ آپ مجهے فی لاش دس ہزار ڈالر معاوضہ ادا کریں”.
ایک مجرم کی طرف سے یہ ریکارڈ مطالبہ تو جیسا کچهـ بهی تها، دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس نے بهی اُس کا یہ مطالبہ تسلیم کرلیا.  اخبار کا کہنا ہے کہ کوئی ایسا قانون نہیں تها جس کی بناپر اسے لاشیں برآمد کرنے پر مجبور کیا جاسکے، اس لئے پولیس کو اس کے آگے ہتیار ڈالنے پڑے، البتہ پولیس نے ملزم کی خوشامد درآمد کے بعد زیاده سے زیاده جو “رعایت” اس مجرم سے حاصل کی وه یہ تهی کہ “اگر دس لاشوں کی برآمدگی کا معاوضہ یعنی ایک لاکهـ ڈالر پولیس مجهے ادا کرے تو گیارهویں بچے کی لاش میں رعایة مفت برآمد کردونگا”!
پولیس نے اس “رعایت” سے فائده اٹهاتے ہوے اولسن کو ایک لاکهـ ڈالر معاوضہ ادا کیا، اس کے بعد اس نے کینڈا کے مختلف شہروں سے گیارہ بچوں کی لاشیں پولیس کے حوالے کیں. ان گیارہ بچوں کی تصویریں بهی اخبار نے شائع کی تهی، اور ان سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ بچے بارہ سے اٹهارہ سال تک کی عمر کے ہونگے.
اس “تفتیش”، “اعتراف” اور ایک لاکهـ ڈالر کے نفع بخش سودے کے بعد مجرم پر مقدمہ چلاگیا. چونکہ کینڈا میں سزاۓ موت “وحشیانہ” قرار دیکر ختم کردی گئی ہے، اس لۓ عدالت کلفرڈ اولسن کو جو زیاده سے زیادہ سزا دے سکی وه عمر قید کی سزا تهی. البتہ عدالت نے جرم کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوے یہ “سفارش” ضرور کردی کہ اس مجرم کو کبهی پیرول پر رہا نہیں کیا جاسکےگا. اخبار نے “سفارش” کا لفظ استعمال کیا ہے جس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ شاید عدالت کو ایسا “حکم” دینے کا اختیار نہیں تها، وه صرف “سفارش” ہی کرسکتی تهی.
ان گیاره بچوں کے ستم رسیده ماں باپ کو جب یہ پتہ چلا کہ جس درندے نے ان کے کمسن بچوں کی عزت لوٹ کر انہیں موت کے گهاٹ اتارا، اسے ایک لاکهـ ڈالر کا معاوضه ادا کیا گیا ہے، تو قدرتی طور پر ان میں اضطراب اور اشتعال کی لہر دوڑ گئی، اور انہوں نے اولسن پر ایک ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا، جس میں یہ مطالبہ کیاگیا تها کہ کینڈا کے ٹیکس دهندگان کے جو ایک لاکهـ ڈالر اس درنده صفت مجرم کی جیب میں گۓ ہے، کم از کم وه اس سے واپس لےکرمرنے والے بچوں کے ورثاء کو دلواۓ جائیں. لیکن ان کو اس مقدمے میں شکست ہوگئی، اپیل کورٹ نے بهی ان کا مقدمہ خارج کردیا، اور سپریم کورٹ نے یہ کیس سننے سے انکار کردیا.
دوسری طرف مجرم اولسن نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دی ہے جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسے جیل میں بہتر رہائشی سہولیات (Better Prison accommodation)  فراہم کی جائیں، ہائی کورٹ نے یہ درخواست سماعت کے لئے منظور کرلی.
جن لوگوں کے بچے اس بربریت کا نشانہ بنے، انہوں نے اس صورت حال کے نتیجے میں ایک انجمن بنائی جس کا نام “نشانہ ہاۓ تشدد” (Victims of violence) ہے، اس انجمن نے پارلمنٹ کے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ کینڈا میں سزاۓ موت کا قانون واپس لایا جاۓ. اس انجمن کے ایک ترجمان نے اخبار کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ:
“ہم نے ہار نہیں مانی ہے. ہم نے ایک گروپ بنایا ہے، اور ہم نے کینڈا کی پارلیمنٹ کے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ کینڈا میں سزاۓ موت کو واپس لایاجاۓ. اولسن جیسے جنسی درندوں کو سیدهے جہنم میں بهیجنا چاہۓ جہاں کے وه واقعة مستحق ہے.”
اس واقعہ پر کسی لمبے چوڑے تبصرے کی ضرورت نہیں ہے. جب کبهی انسان مسئلے کے صرف کسی ایک پہلو پر زور دیکر یک رخے پن کا مظاہره کریگا، اس قسم کے ستم ظریفانہ لطیفے وجود میں آتے رہیں گے. انسان کی عظمت (Dignity) اپنی جگہ، لیکن جس شخص نے اپنی انسانی عظمت کا لباده خود ہی نوچ کر پهینک دیا ہو، اس کے گلے سڑے وجود کو کب تک معاشرے میں شیطنت کا کوڑهـ پهیلانے کی اجازت دی جائیگی؟ اور سینکڑوں حقیقی انسانی عظمتوں کو کب تک اس کی متعفن خواہشات کی بهینٹ چڑهایا جاۓ گا؟
رحمدلی بہت اچهی صفت ہے، لیکن ہر صفت کے اظہار کا ایک موقع اور محل ہوتاہے، اور اگر اس صفت کو بےموقع استعمال کیاجاۓ تو اسکا نتیجہ کسی نہ کسی پر ظلم کی صورت میں ظاہر ہوتاہے. چنانچہ سانپوں اور بچهوں پر رحم کرنے کا مطلب ان معصوم جانوں پر ظلم ہے جنہیں وه ڈس چکے ہوں، یا ڈسنے والے ہوں، اور ان موذی افراد کے ساتهـ سختی کا مطلب ان بےگناہوں کی انسانی عظمت کا تحفظ ہے جو ان کے ظلم کا شکار چوسکتے ہیں. کلفرڈ اولسن کا مذکوره بالا واقعہ پڑهۓ، اور قرآن کریم کے اس بلیغ ارشاد پر غور فرمایۓ کہ:
«ولکم فی القصاص حیوة یا اولی الالباب».
اور اے عقل والو! تمہارے لۓ قصاص (کے قانون) میں زندگی کا سامان ہے.
یہ درست ہے کہ تنہا سزائیں معاشرے کو جرم سے پاک کرنے کے لۓ کافی نہیں. یہ بهی درست ہے کہ جرائم کے انسداد کا پہلا قدم تعلیم و تربیت اور خوف خدا اور فکر آخرت کی آبیاری ہے، لیکن یہ حقیقت بهی ناقابل انکار ہے کہ بہت سے افراد کے لۓ تعلیم و تربیت سے لیکر وعظ و نصیحت تک کوئی چیز کارگر نہیں ہوتی. ایسے ہی لوگوں کے لۓ عربی زبان کے مشہور شاعر متنبی نے کہاتها کہ:
والسیف أبلغ وعاظ علی أمم
بہت سے لوگوں کے لۓ سب سے فصیح و بلیغ واعظ تلوار ہوتی ہے.

جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی حفظه الله
9 / رمضان / 1414
30 / فروری / 1994
(ذکر و فکر ص 40 – 36)



آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں