آج : 16 April , 2010

مختلف ملکوں کی کرنسی آپس میں خریدو فروخت

مختلف ملکوں کی کرنسی آپس میں خریدو فروخت
currencyمختلف ملکوں کی کرنسی آپس میں خریدو فروخت ہوتی ہے اس کو فاریکس ٹریڈنگ کہتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟

مختلف ملکوں کی کرنسیوں کا آپس میں تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے بہ شرطیکہ مجلسِ عقد میں احد العوضین پر قبضہ کرلیا جائے، اگر مجلس عقد میں عوضین میں سے کسی ایک پر بھی قبضہ نہ کیا اور متعاقدین جدا ہوگئے تو یہ سود ہوجائے گا، اور وہ حرام ہے.
قال شارح الصحیح لمسلم: وأما إذا وقع تبادل الفلوس بغیر جنسہا فیجوز التفاضل في قولہم جمیعا وتحرم النسیئة في قول مالک -رحمہ اللہ- لکون ذلک صرفا عندہ، ولا تحرم علی قیاس قول الحنفیة، لأنہ لا قدر فیہا ولا جنس، نعم یشترط قبض أحد البدلین في المجلس لئلا یکون افتراقًا عن دین بدین ․ (تکملة فتح الملہم: ۱/۵۸۹، اشرفیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں