حرکت میں برکت

حرکت میں برکت
gillette30 مارچ کو رات کے نو بج رہے تھے اور کسی کو خبر ہی نہ تھی کہ کل “ایکسپوسینٹر کراچی” میں کیا ستم ڈھایاجانے والا ہے۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ سڑکوں پر گاڑیاں رواں دواں تھیں۔ بازاروں میں کھوے سے کھوا اُچھل رہاتھا۔ مارکیٹوں میں ہزاروں اور لاکھوں بلکہ شاید کروڑوں کے سودے ہورہے تھے۔ میڈیا کے ہاتھ ایسی خبر آگئی جس کی جزئیات سے فوری طور پر پوری قوم کو باخبر رکھنا ضروری تھا۔ ایک پاکستانی کھلاڑی کی انڈین خاتون کھلاڑی سے نسبت طے پاگئی تھی۔ بتایا جارہاتھا کہ ان کی پہلی ملاقات کب، کیسے اور کہاں ہوئی تھی؟ ان کا شجرہ نسب کیا ہے؟ اس سے قبل وہ کتنی معاشقے کرچکے ہیں؟ نکاح کہاں ہوگا؟ ولیمے کا میلہ کہاں لگے گا؟ اس شادی کے پاکستانی اور ہندوستانی تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ دلہا اور دلہن کون سا لباس پہنیں گے؟ شلوار قمیص جچے گی یا پتلون اور بش شرٹ؟ اس شادی کے بارے میں کھلاڑیوں اور فنکاروں کے تاثرات کیا ہیں؟ پنڈت اور نجومی کیا کہتے ہیں؟ یہ رشتہ ہوگا بھی یا نہیں؟ ہوگیا تو کامیاب ہوگا یا ناکام؟

مہنگائی کے طوفان، انتظامیہ کی زیادتیوں، ڈاکوؤں اور اغوا کاروں کے تسلط، وڈیروں کی لاقانونیت اور حکمرانوں کی شہ خرچیوں اور کرپشن کے ہاتوں ستائی ہوئی قوم کے ذہن کو بڑی مہارت سے اصل مسائل سے ہٹا کر فحاشی اور عریانیت میں اْلجھایا جارہاتھا۔ وہی کام جو نضر بن حارث کرتا تھا اور بدنام تھا، آج کا میڈیا کرتا ہے اور نیک نام ہے۔ نضر ساری تگ ودوکے باوجود ایک یادو گانے والی لونڈیوں کا انتظام کرپایاتھا۔
چوپال میں دھماچوکڑی کرکے سو پچاس دماغوں میں غلاظت انڈیلتی تھیں۔ آج ایک دو نہیں دسیوں، بیسیوں بلکہ سیکڑوں فنکار اور گلو کار ہیں جو نجاست کی بدبو گھر گھر میں پہنچاتے ہیں۔ ان لونڈیوں کو صرف رستم اور اسفندیار اور دوسرے شاہانِ فارس کے قصے یادتھے۔ آج کی لونڈیاں خود درجنوں اسٹوریوں کا سرعنوان ہوتی ہیں۔ وہ صرف چوپالوں کی رونق بنی تھیں۔ انہوں نے ہر گھر کو رقص گاہ میں تبدیل کردیاہے۔
بات ہو رہی تھی 30 مارچ کی شام کی جب نو بجے تک کسی کو خبر نہ تھی کہ کل ایک شیونگ ریزنگ کے تعارف کے نام پر کیا طوفان بدتمیزی اْٹھایا جانے والاہے۔ منصوبہ یہ تھا کہ ایک ہی مقام پر 2500 افراد سنت رسول منڈواکر عالمی ریکارڈ قائم کریں گے۔ اس سے قبل انڈیا میں اسی طرح کی ایک تقریب ہوچکی تھی جس میں 1800 افراد نے یہ حرکت کی تھی۔ یقیناً ان میں سے مسلمان بھی ہوں گے اور غیر مسلم بھی، مگر اب ایک اسلامی ملک کے نوجوانوں کی رنگ برنگے فنکاروں کے ہجوم میں پْر کشش انعامات کا لالچ دے کر آمادہ کیا گیا تھا کہ وہ ڈاڑھیاں منڈواکر ایک نیا ریکارڈ قائم کریں۔ شب نو بجے کے بعد یہ خبر افواہ کی طرح پھیلنا شروع ہوئی۔ دس بجے تک اس کی تصدیق ہوگئی۔ یہ خبر حساس دلوں کے لیے دھماکے سے کم نہ تھی۔ ایسے بھی تھے جن کی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں۔ یارب! کیا اب یہ ملک بے ہودہ مقابلوں کے لیے رہ گیا ہے۔ دشمن کے حوصلے اتنے بڑھ گئے کہ وہ اس ملک کے باسیوں کو سنت رسول سے نفرت کے اظہار میں پہلے نمبر پر دکھانا چاہتاہے۔ دکھی دلوں نے فون پر ایک دوسرے سے رابطہ کیا۔ مشورہ ہوا کیا کیا جائے؟
وقت کم تھا اور ہدف مشکل۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے پروگرام بہت سوچ سمجھ کر تیار کرتی ہیں۔کروڑوں کا گیم ہوتا ہے۔ حکومتی اور کاروباری ادارے ان کی پشت پر ہوتے ہیں۔ میڈیا ان کے ماتھے کے تیور دیکھ کر پالیسی بناتا ہے۔ اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہوتا کہ وہ کوئی ایسی خبر یا اشتہار نشر کرے جس کی زد ان کمپنیوں کے مفادات پر پڑتی ہو۔ اسے کروڑوں کا بزنس ان کی جنبش لب سے حاصل ہوتا ہے۔ حضرت اقبال کے بقول اگر فرنگ کی جان پنجۂ یہود میں ہے تو میڈیا کی جان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پنجے میں ہے۔ ٹیلی فونک مشورے میں تین باتیں طے ہوئیں۔
ایک یہ کہ متوقع سانحہ علماء کے علم میں لایا جائے۔ اکابر علماء کا اپنا اپنا نظم اوقات ہے۔ کئی ایک اپنے علمی، تدریسی، تالیفی اور خانگی معمولات میں بے طرح مصروف ہوتے ہیں۔ “شکستہ دلوں”و کی جہاں تک رسائی ہوسکی انہوں نے اطلاع پہنچادی۔ ہر طرف سے انہیں حوصلہ افزا جواب ملا۔ کسی نے اظہارِ رنج پر اکتفا کیا، کسی نے عملی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
دوسرے بات یہ طے ہوئی کہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے احتجاج کیا جائے۔ ہنگامی طور پر پریس ریلیز تیار ہوئے مگر ایک “غریب جریدہ” کے سوا کوئی اسے شائع کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ ہر ایک کو اندیشہ تھا اشتہارات سے محرومی اور عالمی ساہوکاری کے زیر عتاب آنے کا سراسر “زیان” پر مشتمل اس سودے کے لیے کوئی بھی تیار نہ تھا۔ “غریب” کے پاس اللہ اور کے پسندیدہ دین اسلام کے سواہی کیا کہ اسے اس سے محرومی کا ڈر ہو۔ اس بیچارے کا حال تو یہ ہے کہ غیر اپنے بھی اسے اشتہار نہیں دیتے کہ مبادا ان کا شمار دقیانوسوں اور قدامت پسندوں میں ہونے لگے۔ قوم کے جذبات کی ترجمانی کا دعویٰ کرنے والے دسیوں روزناموں میں سے یہ واحد روزنامہ تھا جس کے صفحہ اول پر 31 مارچ کی صبح چار کالمی احتجاجی بیانات جگمگارہے تھے۔
تیسری بات یہ طے ہوئی کہ انتظامیہ سے ملاقات کرکے انہیں مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔ چنانچہ چند دوستوں نے ڈی آئی جی سے ملاقات کرکے انہیں خاموش عوام کے جذبات سے مطلع کیا۔ اس دوران ایس ایم ایس تحریک بھی زور وشور سے جاری رہی۔
اس تحریک کے نتیجے میں ظہر کے بعد ٹولیوں کی شکل میں نوجوان ایکسپوسینٹر کے سامنے جمع ہونا شروع ہوگئے۔ اشتہاری کمپنیوں کے کارندے اپنے انتظامات کو آخری شکل دینے میں مصروف تھے اور خوش تھے کہ بائیس سو کے قریب افراد رجسٹریشن کرواچکے ہیں۔ انہیں اپنا ہدف بہت آسان لگ رہاتھا۔ اس یادگار لمحے کی عکس بندی کے لیے انہوں نے نیوز چینلز اور اخبارات کے کیمرہ مینوں کو دعوت دے رکھی تھی۔ جب بیک وقت پچیس سو نوجوان اپنے چہروں پر جرمنی ساختہ ریزر چلا کر نئی تاریخ رقم کریں گے۔
کیمرے سیٹ کیے جاچکے تھے اور کچھ ہی دیر میں ان کی تیز لائٹوں سے چکا چوند ہونے والی تھی کہ “اللہ اکبر” کے فلک شگاف نعروں نے کھلبلی سی مچادی۔ اشتہاری کمپنی کا منیجر حیران تھا کہ ریکارڈ تو ابھی قائم ہوا نہیں۔ یہ کون لوگ ہیں جو تاریخ ساز لمحے کی آمد سے پہلے نعرے لگارہے ہیں۔ پھر موقع تو “شیطان زندہ باد” کا ہے “سنت رسول زندہ باد” کے نعرے کی کیا تگ ہے؟ جب اس کی حواس بحال ہوئے تو اسے پتا چلا کہ یہ نعرے شیطانی تقریب کے حق میں نہیں۔ اس کے خلاف لگائے جارہے ہیں۔ ایکسپوسینٹر کے باہر سیکڑوں شیدائیوں پر مشتمل ایک ہجوم تھا جس کے ہاتھوں میں درجنوں بینر تھے اور زبانوں پر پْر جوش نعرے۔ تب ایک رپورٹر کے بقول وہ بڑبڑانے لگا: “یہ قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ان کے ایشوز دیکھو۔ بھلایہ بھی کوئی بات ہے۔ یہ جو مولوی ہیں ناں، یہ اس ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اب دیکھو ناں آج یہ ورلڈ ریکارڈ قائم ہوجاتا تو پوری دنیا کے بڑے بڑے اخبارات میں اسٹوریز چھپتیں۔ تصویریں لگتیں۔۔۔۔۔۔ وہ لوگ ان چیزوں کو بہت ویلیودیتے ہیں۔ وہ ہماری طرح بیمار ذہن کے لوگ نہیں۔ زندہ دل ہیں۔ زندگی انجوائے کرتے ہیں۔ بہت افسوس ہوا۔ کاش! آج مشرف ہوتا۔ ان مولویوں کے لیے مشرف ہی ٹھیک تھا۔”
زندہ دلی پر اس “مرد / دل” انسان کا لیکچر جاری تھا کہ احتجاجی نعروں کی گونج تیز ہوگئی۔ “بند کرو، سنت کا استہزا بند کرو۔” “نہیں چلے گی، نہیں چلے گی، مغرب کی غلامی نہیں چلے گی!” “آقا کی سنت زندہ باد” باریش تو نعرے لگاہی رہے تھے حیرت اس بات پر تھی کہ بعض بے ریش بھی یہی نعرے لگارہے تھے۔
اس ہجوم کو نہ کسی سیاسی لیڈر نے جمع کیا تھا نی کسی دینی جماعت نے۔ یہ سب کشتگانِ عشق تھے جو سنت نبوی کی تحقیر کی خبر سن کر جمع ہوگئے تھے۔ تعجب انگیز امر یہ تھا کہ نعتوں اور قوالیوں پر دھمال ڈالنے والے دوستوں میں سے کوئی دوست دکھائی نہیں دے رہاتھا۔ شیطانی تقریب کی انتظامیہ نے جب دیکھا کہ معاملہ کنٹرول سے باہر ہونے کو ہے تو وہ لاکھوں روپے کا سامان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان کے فرار نے ثابت کردیا کہ حرکت میں برکت ہے اور اخلاص کے ساتھ کی گئی جد وجہد ناکام نہیں ہوتی۔ اگر بالفرض یہ تقریب ہوبھی جاتی تو بھی اس کے انسدادی کی کوشش کرنے والے ساتھی قیامت کے دن کی مسؤلیت سے ضرور بچ جاتے اور یہ مقصد ان کے پیش نظر تھا۔ ہاتھ کی ایک دو انگلیوں پر گنے والے چند ساتھی تھے جو یہ خبر سنتے ہی متحرک ہوگئے تھے اور ان کی حرکت نے قوم کو عذاب الہی کو دعوت دینے سے بچالیاتھا۔

مولانا اسلم شیخپوری
بشکریہ “ضرب مومن”

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں