آج : 13 April , 2010

اسرائیل فلسطینی قیدیوں کے خلاف سفاکانہ کارروائیوں سے باز رہے: رشق

اسرائیل فلسطینی قیدیوں کے خلاف سفاکانہ کارروائیوں سے باز رہے: رشق
rashaqدمشق (مرکز اطلاعات فلسطین) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سیاسی شعبے کے رکن عزت رشق نے  اسرائیلی حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ صہیونی عقوبت حانوں میں قید عرب اور فلسطینی قیدیوں پر اپنی  ظالمانہ کارروائیاں جاری رکھنے سے باز رہیں۔

انہوں نے متنبہ کیا قیدیوں کے ساتھ برتا جانے والا حالیہ ظالمانہ سلوک عالمی قوانین، جنیوا کنونشن سوم اور 1949 کے  جینیوا کنونشن چہارم کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے اسرائیلی کارروائیاں ’’جنگی جرائم‘‘ میں شامل ہوتی ہیں۔
فلسطین سے موصولہ اطلاعات کے مطابق رشق نے بروز پیر اپنے بیان میں کہا ہے کہ  صہیونی عقوبت خانوں میں موجود فلسطینی اور عرب اسیران کی تعداد 8200 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 800 غزہ کی پٹی، 500 قدس اور 1948 کے مقبوضہ علاقوں اور باقی مغربی کنارے سے گرفتار کیے گئے ہیں۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ ان قیدیوں میں 400 بچے اور 33 خواتین اور 15 ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔  
انہوں نے اسیران کے معاملے میں حماس کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسیران کو چھڑانے کے لیے قیادت کا خلوص قابل تحسین ہے انہوں نے جیلر اور قابض اسرائیلی جلاد کی ریشہ دوانیوں کے باوجود انپے حقوق سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا اس طرح اندرون جیل حماس کی قیادت کے ایک موقف پر متحد رہنے سے صہیونیوں کی جانب سے ان کو تقسیم کرنے کی تمام کوششیں بری طرح ناکام ہوئیں۔ اسی طرح بھوک ہڑتال ختم کرانے کی صہیونی سازشیں بھی کار گر ثابت نہ ہو سکیں۔  
عزت رشق نے کہا ہے کہ حماس بر صورت اور ہر حال میں پابند سلاسل فلسطینیوں کی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ کوئی عارضی المیہ حماس کے تحریک آزادی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ حماس فلسطینی قیدیوں کی مدد اور ان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے تمام ملکی اور بین الاقوامی کوششوں کو متحرک کرنے کے جامع  پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گیلاد شالیت کی رہائی فلسطینی قیدیوں کی بڑی تعداد کی رہائی کی صورت میں ہی ممکن ہے، اس کے علاوہ کوئی چیز شالیت کی رہائی کا متبادل نہیں ہوسکتی۔  
رشق نے عرب اور اسلامی قوموں سے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی قید اسرائیلی سفاکیت سے آزادی کے لیے صدا بلند کرنے کا مطالبہ کیا،  ساتھ ہی انہوں نے قیدیوں کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کی اپیل بھی کی۔
انہوں نے تمام عالمی تنظیموں، اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھی قابض
اسرائیلی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں