انسداد عسکریت پسندی کیلئے فضائی طاقت کا استعمال

انسداد عسکریت پسندی کیلئے فضائی طاقت کا استعمال
jetویتنام کی جنگ کے بعد فوجی منصوبہ سازوں کے پاس عسکریتی غیر ریاستی عناصر سے نمٹنے کا آخری حربہ صرف فضائی طاقت کا استعمال رہ گیا ۔آج بھی نیپام بم کی وہ تباہ کاریوں کے مناظر اسکرین پر دیکھ کر انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، ایک منظر میں ایک معصوم بچہ برہنہ حالت میں بم کے شعلوں سے بچنے کے لئے بھاگتا ہوا صاف نظر آتا ہے جس کا چہرہ خوف سے مسک ہوگیا ہے۔ان مناظر کو دیکھ کر جو الفاظ ذہن میںآ تے ہیں وہ یہ ہیں،indiscriminate” ” , and “disproportionate, ineffective” ” اس عمل کو سادہ الفاظ میں اس طرح بیان کیاجاسکتا ہے،counter-productive ، فضائی حملے کا مطلب یہ ہوا کہ حملہ کے راستے میں جو کوئی بھی آئے اسے ہلاک کردیا جائے اس طرح کے حملے میں زیادہ تر مرنے والوں کی تعداد معصوم شہریوں کی ہوتی ہے ، جو ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

اس طرح کے حملوں سے لوگوں کے دل و دماغ نہیں جیتے جا سکتے،عسکریت پسندوں کے خلاف فضائی طاقت کے استعمال میں یہ سب سے بڑی خامی ہے ۔سوات میں فوجی آپریشن مجبوری بن چکا تھا جس میں فوجی منصوبہ بندی کے کچھ منفی پہلو بھی کارفرما تھے جن میں نمبر1عسکریت پسندشہری آبادیوں کو ڈھال کے طورپراستعمال کرکے مضبوط پوزیشن بنارہے تھے، نمبر2 سویلین اور عسکریت پسندوں کی عددی نسبت میں بہت بڑا فرق تھا، نمبر3 عسکریت پسند ان دشوار گزار پہاڑی علاقوں کے نقشے نہ ہونے کے باعث لوکیشن کا بھرپور فائدہ اٹھارہے تھے اور لمبی لمبی زیر زمین سرنگ بناتے رہتے تھے،نمبر4عسکریت پسندوں کی درست لوکیشن کا صحیح اندازہ کرنے میں دشواری بھی بہت تھی۔ان تمام زمینی حقائق کی روشنی میں فوج کے پاس ماسوائے محتاط خطرہ مول لینے کے کوئی چارہ نہیں تھا، فضائی قوت کو استعمال کرنے میں سوال یہ تھا کہ کس طرح کم سے کم وسیع پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع سے بچاجائے لہٰذا آپریشن کا اعلان کیاگیاجس کو سن کر لوگ انخلا پر مجبور ہوئے، اس طرح وسیع پیمانے پر انسانی جان کے ضیاع سے بچ گئے اور آپریشن کی رفتار بھی تیز رہی اور مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کرنے میں کامیابی بھی ملی۔ اس تیز آپریشن کے باعث لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جانے میں آسانی ہوگئی ۔تقریباً 20 لاکھ افراد ان علاقوں سے نکلنے پر مجبور ہوئے،ایک اور مسئلہ یہ بھی تھا کہ آرمی کے پاس گن شپ ہیلی کاپڑ کی کمی تھی اور آج بھی ہے ۔
سوال یہ تھا کہ کیا پاک فضائیہ ان ہیلی کاپٹرز کی کمی کو پورا کرسکے گی ؟ لیکن پاک فضائیہ نے یہ ذمہ داری چیلج سمجھ کر قبول کی اور اسی مقصد کے لئے saffron bandit ,2009-2010 کی مشق بھی کی گئی، بھارت کے ساتھ دو جنگوں میں کلوز ائیر سپورٹ کی تاریخ میں ابہام پیدا کیا گیا، 1970ء کی جنگ کی ابتداء میں ترکی شوٹ کے مقام پر صحرائی علاقوں میں ہم جیسے فوجی بھارتی فوج کے ائیر اٹک کے نرغے میں رہتے تھے لیکن جیسے ہی ہمیں پاک فضائیہ کی ہوائی مدد حاصل ہوئی ، ہماری فضائیہ نے ہوائی میدان میں اپنی برتری قائم کرلی اور تھل کے مقام پر اس نے بہترین فضائی فائر پاور مہارت کا مظاہرہ بھی کیا ۔
میدان جنگ میں جس مقام پر میں تھا اس سے تقریباً ایک ہزار میٹر دور بم اور میزائل اپنے نشانے پر گرائے جا رہے تھے، میں سوچ رہا تھا کہ ہم خوش نصیب تھے کہ چالیس سال قبل جب بھارت بلاامتیاز نیپام بم استعمال کررہا تھا تو اس کی نشانہ بازی کی صلاحیت بھی کمزور تھی جبکہ پاک فضائیہ کی یہ صلاحیت بہت عمدہ تھی، ہم نے بھی عمر کوٹ اور چھور کے مقام پر کئی بھارتی جنگی جہاز مار گرائے۔ خفیہ اداروں اور آئی ایس پی آر کی شب و روز کی محنت کے بعد جو معلومات اکٹھی ہوئیں وہ کچھ اس طرح ہیں نمبر۱:پہاڑی علاقوں کی نقشہ بندی،نمبر۲:تمام متاثرہ علاقوں، سوات، جنوبی وزیرستان اور فاٹا کی دیگر ایجنسیوں پر محتاط ٹارگٹ سیٹ کردیئے گئے، آپریشن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے فضائیہ کے اسپیشل سروسز ونگ اور آرمی کے ایس ایس جی کے گروپ میدانی جنگ کی معاونت کیلئے متعین کردیئے گئے تھے۔
پاک فضائیہ اور آرمی کے اسپیشل لڑاکا ونگ کی مدد سے نتائج کے حصول میں شاندار حکمت عملی کار گر ثابت ہوئی ، ٹارگٹ پر فائٹر ٹائم زمینی آپریشن بہت کامیاب رہا ، وسیع فضائی نقشہ بندی اور رئیل ٹائم کوآرڈینیشن کی بدولت پاک فضائیہ اس قابل ہوئی کہ ایس آر او ای(Special Rules of Engagement) وضع کرنے میں کامیاب ہوئی جس سے کو لیٹرل ڈیمج سے محفوظ رہے،عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں پی اے ایف کے اسپیشل ونگ اور آرمی کے ایس ایس جی نے مل کر میدانی جنگ کو کامیابی سے ہمکنار کیا، انہی کے کوآرڈینیشن کے ذریعے میدانی فوج رئیل ٹائم رات اور دن میں اپنے متعینہ ٹارگٹ کو درستی کے ساتھ ہٹ کرنے میں کامیاب ہوگئی ، سی ۔۰۳۱کی سپورٹ کے ساتھ ساتھ ہائی کمانڈ نے اچھی طرح ایک ممبر کو جو اس جنگ میں حصہ لے رہا تھا آپریشن کی تمام الف ب سے اچھی طرح آگاہ کردیا تھا، سابقہ تمام آپریشن سے سبق حاصل کرکے اور پی اے ایف کی High Mark -2010 تربیتی مشق بہت کام آئی جسے مزید دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے بھی تیار کرلیا گیا۔فضائی نقشے کی بالکل درست منصونہ بندی نے فضا سے بمبارڈمنٹ اصل ٹھکانوں پر کرنے کے عمل کو یقینی بنا دیا۔
عسکریت پسند جنہوں نے شہری علاقوں کو ڈھال بنارکھا تھا ماہر فوٹوگرافی تیکنیک کی مدد سے ان کے مضبوط ڈھکانے بے نقاب کردیئے گئے ، اسی کی وجہ سے آرمی کے گن شپ ہیلی کاپڑ اور آرٹلری نے براہ راست ان کے درست ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ،پی اے ایف کی فضائی ٹارگیٹنگ اور ان کے خفیہ ٹھکانوں کی درست نشاندہی کی وجہ سے آرمی کا ا پناجانی نقصان کم ہوااور عسکریت پسند بڑی تعداد میں اس طرح ہلاک ہوئے،یہ عمل اور حکمت عملی اور بھی زیادہ انمول اس لئے ہوگئی کہ اس پورے عمل میں شہری ہلاکت خطرے سے باہر رہی ، پیچر ویلی میں ایس ایس جی کے دستوں اور آرمی کے گن شپ ہیلی کاپڑ کے حملے سے قبل پاک فضائیہ نے عسکریت پسندوں کے سرنگوں میں محفوظ پناہ گاہوں کو فضا سے نشانہ بناکر عسکریت پسندوں کی کمر توڑ دی تاکہ ایس ایس جی اور فضائیہ کے اسپیشل ونگ بغیر نقصانات کے بھرپور حملہ کرسکیں، آرمی کو عسکریت پسندوں کے خلاف مطلوبہ فضائی کور اپ کی تکمیل کو پاک فضائیہ نے شاندار طریقے سے نبھایا اور یہ اس لئے کامیاب بھی ہوا کہ آرمی چیف اور ائیر چیف کی ٹارگٹ کے حصول میں کمسٹری میں ایک سنجیدہ اور اہمیت کی حامل ایکویشن پائی جاتی تھی، ویسے بھی بھارت کی ممکنہ جارحیت سے نمٹنے کیلئے پاک فضائیہ اور آرمی نے ایک دوسرے کے ساتھ کولڈ اسٹارٹ کی غرض سے کوآرڈینیشن کی نئی حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔
جنگی صورتحال میں جب دو ریاستی عسکری قوتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ حسب ضرورت کو آرڈینیشن کی ضرورت ہوتی ہے تو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی ذمہ داری میں اضافہ ہوجاتاہے، JCSC کو عسکری قیادت کے مابین ایک ادارہ کے طور پر فرائض انجام دیناچاہے، ہمارے فور اسٹارطارق مجید کیا اپنی ذمہ داری ادا کررہے ہیں ؟یا محض تیس ماہ سے بیرون ملک دورو ں سے فرصت نہیں،جے سی ایس سی کو زمانہ امن وجنگ، خاص کر زمانہ جنگ میں سفید ہاتھی کے بجائے ایک ادارہ کے طور پر عملی کردار ادا کرنا چاہئے۔

سہگل
(بشکریہ روزنامہ جنگ)

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں