آج : 12 April , 2010

پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے 2 طالبان کمانڈر رہا کردیئے‘ امریکی اخبار

پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے 2 طالبان کمانڈر رہا کردیئے‘ امریکی اخبار
taliban-commanderواشنگٹن (نیوز ایجنسیاں) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی نے اپنے طور پر گرفتار کئے جانے والے 2اہم طالبان کمانڈروں کو دوبارہ رہا کر دیا ہے جبکہ پاکستانی انٹیلی جنس حکام نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

اخبار کے مطابق آئی ایس آئی کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاون کے حالیہ سگنلز کے باوجود امریکی حکام کو یقین ہے کہ وہ ابھی تک طالبان کی مدد کر رہی ہے۔ افغانستان میں طالبان رہنما ملاعمر کے دست راست ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری پاکستان میں ایک ٹرننگ پوائنٹ نظرآتی ہے۔ امریکی فوجی اور انٹیلی جنس حکام نے نام نہ ظاہرکرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ اگرچہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ملابرادر اور دوسرے عسکریت پسندوں کی گرفتاری کےلئے امریکیوں کے ساتھ مل کرکام کیاگیا لیکن اس کے باوجود پاکستانی خفیہ ایجنسی نے دو سینئر افغان طالبان رہنماوں کو رہا کر دیا۔ انہوں نے بتایاکہ ان سینئر طالبان رہنماﺅں کی رہائی کے بارے میں سی آئی اے نے پتہ لگایا ہے تاہم اس معاملے کو عوامی سطح پر نہیں لایا گیا۔ حکام کاکہنا ہے کہ افغان طالبان کے سنیئر رہنماوں کی رہائی اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ حصے افغان طالبان کی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم امریکی حکام نے رہا کیے جانے والے طالبان رہنماوں کے نام بتانے سے گریز کیا۔
انسداد دہشت گردی سے متعلق ایک امریکی عہدیدار نے ملا برادر کی گرفتاری کو مثبت قد م قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس گرفتاری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آئی ایس آئی نے کسی گروپ کے ساتھ کسی بھی سطح کے رابطے ختم کردئیے ہیں ۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان طالبان اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے دوغلی پالیسی اپنا رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی انٹیلی جنس حکام نے امریکی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کیلئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی طالبان رہنما کو رہا نہیں کیاگیا ۔انہوںنے کہاکہ ہماری پالیسی ہے کہ ہم ان لوگوں کیخلاف جائیں ۔سی آئی اے اور آئی ایس آئی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ امریکی اخبار نے رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ افغان حکام نے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان میں 2 طالبان رہنماﺅں کی گرفتاری امن مذاکرات کو خطرے میں ڈالنا ہے جبکہ پاکستان نے ملا برادر اور دوسرے طالبان رہنماﺅں کی واپسی کی افغانستان کی درخواست ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں