حکومت کی بقا کا راز قومی حکومت بنانے میں ہے، مولاناعبدالحمید

حکومت کی بقا کا راز قومی حکومت بنانے میں ہے، مولاناعبدالحمید
molana-hamayeshزاہدان(سنی آن لائن) سرپرست دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالحمید نے عصری تعلیمی اداروں کے سنی طلباء کی چھٹی بین الصوبائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی سیرت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا ان عظیم ہستیوں کی درخشان اور خیر وبرکت والی زندگی ہر مسلمان کے لیے نمونہ ہونی چاہیے۔ کوئی بھی شخص اب تک ایسے کامل اسوہ حیات اور آئیڈیل پیش کرسکا نہ اب کرسکتا ہے نہ ہی مستقبل میں ایسے سیمبل پیش کر سکے گا۔

مولانا عبدالحمید نے مزید کہا کس قدر افسوسناک بات ہے کہ رواں سال میں صدارتی انتخابات کے بعد رو نما ہونے والے بعض لوگوں نے سیاسی اختلافات کو جنگ جمل اور صفین سے تشبیہ دی، حالانکہ کوئی بھی معاصر شیعہ یا سنی عالم دین حضرات طلحہ وزبیر، خلفائے راشدین اور اہل بیت سے قابل مقایسہ نہیں اور اس باطل قیاس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اگر تشبیہ دینا ہی ہے تو اس زمانے کے اختلافات کو اسی دور کے سیاسی اختلافات سے تشبیہ دی جائے نہ کہ ان نیک اور عظیم شخصیتوں کے اختلافات سے جو اسلامی تہذیب کے سب سے پہلے شاگرد اور تربیت یافتہ تھے۔ جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت ومحبت کا شرف حاصل تھا اور وہ بے مثال انسان دین وہدایت اور علم کے روشن مینار تھے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے دین اور سائنس کو ناقابل تفکیک اور لازم وملزم قرار دیتے ہوئے کہا ہمارے سٹوڈنٹس کو بی ایس یا ماسٹر کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ عصری تعلیمی اداروں کے طلباء کو چاہیے مختلف شعبوں میں مہارت اور تخصص حاصل کرنے کی کوشش کریں، اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نت نئی ایجادات اور خیالات سے اپنی قوم اور ملک کی خدمت کریں۔
یہ بات تجربہ سے ثابت ہوچکی ہے کہ جتنی غربت اور پسماندگی زیادہ ہوا اتنی ہی فکری ترقی بھی بڑھ جاتی ہے۔ اکثر مفکرین کی جائے پیدائش بستیاں اور ان کا بنیادی تعلق چھوٹے علاقوں سے رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا تعلیم کے حصول کیلیے ہمیں سختی وتکلیف برداشت کرنی چاہیے، آرام وراحت چھوڑنی پڑتی ہے مگر ساتھ ہی اپنی بنیاد دین اور ہدایت سے بھی غافل نہیں ہونا چاہیے، اس طرح ہم ہر قسم کی خوبیوں کے محافظ بن جائیں گے، ہمیں علم دین، شریعت اور سنت کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی آگے ہونا چاہیے تا کہ اگلی نسلوں کی خدمت کر سکیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا ہم سب ایرانی ہیں اور ایران ہمارا وطن ہے۔ میں یہ واضح کرنا چاہتاہوں کہ اہل سنت ایران سے بڑھ کر کوئی بھی شخص خالص ایرانی نہیں ہوسکتا۔
ہم دیگر ایرانیوں کے ساتھ برادرانہ زندگی کے خواہاں ہیں اور یہ ہمارا ملی اور اسلامی جذبہ ہے۔ ہم پوری انسانیت کے لیے فلاح وبہبود کی امید رکھتے ہیں۔ مگر وہ قوم جو باقاعدہ طور پر ہم سے حالت جنگ اور محاربہ میں ہو۔ محارب کون ہے؟ اس بارے میں علمی بحث کی جاسکتی ہے۔ میں اپنے خیالات کا اظہار کسی اور موقع پر کروں گا۔
انہوں نے کہا قرآن وسنت نے انسان اپنی جگہ بلکہ جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔ یہاں تک بعض جگہوں پر درختوں اور گھاس وغیرہ کے حقوق کا تذکرہ بھی دینی کتابوں میں ملتا ہے۔ اسلام ہر تہذیب ومذہب سے بڑھ انسانی حقوق کی رعایت پر زور دیتا ہے، اتنی سی بات ہے کہ اسلامی معاشروں میں ان حقوق کا خیال رکھا جائے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا شیعہ بھائیوں کے ساتھ ہمارے خیرخواہانہ جذبے ہمیشہ قائم رہیں گے اور ایرانی عیسائیوں، یہودیوں ودیگر اقلیتوں کے ساتھ انسان ہونے کے ناطے قومی وملی جذبات اس ملک کے مفادات وممکنہ خطرات کے پیش نظر ثابت رہیں گے۔
ملکی آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کی روسے جن پر ایران نے بھی دستخط کردیا ہے اسی طرح اسلامی شریعت اور عرف عام کے مطابق ہمیں پوری طرح دینی اور سماجی آزادی حاصل ہے۔ ملک میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا جتنی اقوام ایران میں آباد ہیں سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہیے۔ اسلام نے علاقائی تہذیبوں، ثقافتوں اور لوگوں کی رسم ورواج کا خاتمہ نہیں کیا ہے۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی رسم ورواج کا احترام کرتے تھے اور صرف ان کی اصلاح فرماتے تھے۔ اسلام نے لوگوں کی تہذیبوں، زبانوں، طرز لباس اور ثقافتوں کی محافظت کی ہے۔ قومی وعلاقائی زبانیں اور ثقافتوں کو نہیں مٹانا چاہیے۔ کردی، بلوچی، فارسی، عربی، ترکی ودیگر زبانیں جس طرح اسلامی تاریخ کے دوران محفوظ رکھی گئیں اب بھی قومی ورثہ کی طرح ان کی حفاظت کرنی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا اسلام میں جبر وزبردستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہر مذہب ومسلک کے ماننے والے پوری طرح آزاد ہیں کہ اپنی فقہ کے مطابق تعلیم حاصل کریں اور اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلوائیں۔
ایرانی آئین میں سنی مسلمانوں کے لیے جو مذہبی آزادی مقرر کی گئی اسے جامہ عمل پہنانا چاہیے۔
ہمارے پاس کوئی اختیار اور طاقت نہیں البتہ ہم قانون کے حوالے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہر شہر، تعلیمی ادارہ، ملٹری ڈپارٹمنٹس وغیرہ میں اہل سنت کو تعلیم وتبلیغ کی مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ مذہبی معاملات میں ہمارے سامنے کسی کو رکاوٹ ڈالنے کا حق نہیں ہے۔
ایک اہم مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہمارے ملک (ایران) میں ایک خاص پارٹی یا حلقہ فکر کے لوگ حکومت نہیں کر سکتے، ہمارے خیال میں وہ حکومت کامیاب حکومت قرار پائے گی جو ساری قومیتیوں اور مذاہب کو اقتدار میں شریک کرتی ہے اور صلاحیت کے حامل افراد کو نظر انداز کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ بعض عناصر کو میری یہ خیرخواہانہ گزارشات کیوں بری لگتی ہیں حالانکہ میرا مقصد ان باتوں سے ملک اور حکام کے لیے خیرخواہی ہے۔ بادشاہی نظام ختم ہوچکاہے، ہم “اسلامی جمہوریہ” کے دور حکومت میں ہیں۔ اسلام اور جمہوریت دونوں آزادی پر زور دیتے ہیں۔ اس لیے اہل سنت برادری جو 31 سالوں سے طرح طرح کے مسائل اور پابندیوں کا سامنا کررہی ہے ان رکاوٹوں کو ختم کرنا چاہیے۔ بھائی چارے کا تقاضا یہی ہے کہ حکام بالا اس حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھائیں اور وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیرقانونی اقدامات کا خاتمہ کریں جو اہل سنت کو وفاقی مناصب اور ملٹری اداروں سے دور رکھنے کے لیے کیے جارہے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ شیعہ بھائیوں کی طرح اپنے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ سنی برادری ملک کی عزت وترقی اور ملّی اتحاد کے لیے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گی اور اس حوالے سے شیعہ ایرانیوں سے پیچھے نہیں ہوں گے۔
کسی بھی صورت میں ہم اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے اور قانونی راستوں سے اپنے حقوق حاصل کرنے کی جد وجہد جاری رکھیں گے، اس ملک میں ہمارا مستقبل تاریک ومبہم نہیں ہونا چاہیے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا اہل سنت والجماعت ایران ایک سے زائد مرتبہ افراط وتفریط سے اپنی بیزاری کا اعلان کر چکی ہے۔ ہم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف ہیں اور ہمیشہ اس کی مذمت کرتے چلے آرہے ہیں۔ ہمارا راستہ اور طریق قانون کا راستہ ہے۔ اب تک حکام سے اپنی ملاقاتوں کے دوران، خطوط کے ذریعہ نیز انٹرویوز اور خطبوں میں ہم نے بلا غرض اپنے قانونی حقوق پر زور دیا ہے کہ ہمارے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ہم حکومت یا شیعہ برادری کے دشمن نہیں ہیں، ہماری ڈکشنری میں تشدد اور موقع پرستی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
ہم پورے ملک اور ہر ایرانی کی عزت وترقی کے خواہشمند ہیں۔ حکام بالا خاص طور پر رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ہماری مشکلات کے خاتمہ کے لیے اقدامات اٹھائیں اور ملازمتوں کی تقسیم کے حوالے سے حائل رکاوٹوں کی بیخ کنی کریں۔
حکام کو انتہا پسندوں کے اقدامات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے، انہیں وسعت ظرفی اور دور اندیشی کے ساتھ اتحاد قائم کرنے اور امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا جس طرح شروع میں آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ علاقائی اور قبائلی رسم ورواج اور زبانیں ہماری پہچان ہیں، ایرانی خواتین کی چادر ایران کی قومی پہچان ہے جو اسلامی تہذیب سے یہاں آیا ہے۔ بلوچ خواتین کے کپڑے اور علاقائی لباس کی حفاظت ہونی چاہیے۔ سرکاری ٹی وی، وزارت تعلیم، کالجوں اور یونیورسٹیوں نیز حکومت کو تمام ثقافتوں کی حفاظت کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
خطیب اہل سنت زاہدان اور شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا ہم سپر پاور ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتے، ہم میں بہت ساری خامیاں ہیں چونکہ ہم سارے ایرانیوں کو اقتدار میں حصہ نہیں دلواسکے ۔ عوام نعروں سے تھک چکے ہیں۔ صحیح سوچ وفکر کے ساتھ اتحاد ویکجہتی اور بھائی چارے کے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے تا کہ ہمارا ملک آزاد، خوشحال اور اسلامی فلاحی ریاست بن جائے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں