آج : 14, February 2010

عوام نے آزادی وانصاف کے حصول کیلیے انقلاب کاساتھ دیا: مولاناعبدالحمید

عوام نے آزادی وانصاف کے حصول کیلیے انقلاب کاساتھ دیا: مولاناعبدالحمید
molana25خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اس جمعہ کے خطبے میں اسلامی انقلاب ایران کی سالگرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا1979ء میں رونما ہونے والا انقلاب دور حاضر میں ایک بے مثال انقلاب ہے جس نے پوری دنیا کو ہلا کررکھ دیا۔

آج سے31 سال پہلے ان دنوں میں عوام نے عظیم مقاصد کے حصول کے لیے آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اس انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
انہوں نے کہا استقلال اور خود مختاری کا مطلب ہے ہر طرح کی غلامی سے نجات حاصل کرکے آزادانہ زندگی اختیار کیا جائے جو ہر آزاد قوم کی تمنا ہے۔ آزادی حاصل کرنے کیلیے جو زندگی کی ضرورت اور بنیاد ہے عوام نے انقلاب لایا۔ اگر آزادانہ طور پر آدمی بات نہ کرسکے، دل کی بات لکھ سکے نہ زبان پر لاسکے تو خود کو غلام اور ذلیل محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے عوام نے انقلاب کی کامیابی کیلیے سرتوڑ کوششیں کیں۔ آزادی کا حصول ایک مخصوص مسلک، فرقہ یا طبقے کے لیے نہیں تھا بلکہ شیعہ، سنی سمیت دیگر مذاہب ومکاتب فکر کے لوگوں کے لیے بھی تھا جو اسلامی شریعت اور قانون کے دائرے میں رہ کر آزادی کے خواہاں تھے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے انصاف کی فراہمی کو انقلاب کا ایک اہم مقصد قرار دیتے ہوئے کہا انصاف کی اہمیت اس سے واضح ہوتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام اس کی فراہمی کے لیے مبعوث ہوئے، آسمانی کتابیں نازل ہوئیں اور پیمانہ عدل اس کے لیے مختص ہوئے تو معلوم ہوا فراہمی عدل وانصاف مقاصد بعثت کا حصہ ہے جو انسان کو خدائے تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ 1979ء کے عوامی انقلاب کا ایک اہم مقصد اور ہدف بھی سستا اور آسان انصاف کا حصول تھا۔ امتیازی سلوک اور نابرابری کا خاتمہ کرکے پوری قوم کو مساوات وبرابری کی چادر میں لپیٹنا انقلاب کا مقصد تھا۔ ایرانی قوم نے اپنی عظیم تاریخ وتہذیب کو مدنظر رکھ کر آزادی، انصاف، خود مختاری اور حق حاکمیت کو یقینی بنانے کے لیے انقلاب لایا۔
مولانا عبدالحمید نے کہا سابق رہبر انقلاب کے اہم مقاصد “آزادی وانصاف” کو آج عوام ترس رہے ہیں اور بیجا پابندیوں اور نا انصافیوں سے شکوہ کررہے ہیں۔ امید ہے وہی مقاصد بغیر کمی یا زیادتی کے پورے ہوں اور ملک میں تمام مذاہب اور اقوام کو آزادی وانصاف فراہم کیا جائے۔(عوام کا نعرہ تکبیر)
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزید کہا ہونا یہ چاہیے کہ اہل سنت والجماعت بغیر کسی قسم کی رکاوٹ کے اپنے بچوں کو جس علاقے میں چاہیں تعلیم دلوا سکیں اور پنج وقتہ نمازوں سمیت جمعہ وعیدین کی نمازوں کو بآسانی ادا کر سکیں۔ شیعہ وسنی کی آزادی برابر ہونی چاہیے۔ حکمرانوں کے موافقین و مخالفین دونوں کو آزادی وانصاف ملنا چاہیے۔ مخالفین اور تحفظات رکھنے والوں کی بات سن کر انہیں تشفی بخش جواب دینا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا اسلامیت اور جمہوریت کا مطلب ہے عوام کی آزادی اور حق حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔ اسلام کی رو سے آپ کا مخالف اور موافق دونوں کھل کر اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔ مخالف کی شکایت دور کی جاتی ہے۔ اس سے اگر کوئی غلط فہمی ہو تو دور ہوتی ہے اگر واقعی کوئی کمزوری پائی جاتی ہو تو اس کی اصلاح کردی جاتی ہے۔ فراہمی انصاف سب کیلیے تھی۔ صرف مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتاتھا۔ ہر وہ شخص جو اسلامی سرزمین میں رہتا تھا چاہے یہودی تھا یا مسلمان یا کسی اور مذہب کا، اس کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہوتاتھا اور قانون سب کے لیے مساوات پر مبنی تھا۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان کو قصاصاً قتل کیا چونکہ اس مسلمان نے ایک یہودی کو قتل کیاتھا۔ پھر آپ رضى الله عنه نے کہا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی یہودی کا حق پامال کرے یا اسے بلاوجہ قتل کرے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزید کہا اسلامی تعلیمات کے مطابق آزادی مسلمان وغیرمسلمان، موافق اور مخالف سب کے لیے ہے مگر وہ شخص یا گروہ جو بندوق اٹھا کر لڑنا شروع کرے۔ لیکن جو فرد یا جماعت اپنی آراء کو بیان کرتا ہے اور شکایت کرتا ہے اس کی بات سننی چاہیے۔
انہوں نے کہا ایرانی قوم نے اس امید کے ساتھ انقلاب کا ساتھ دیا کہ ان کے مقاصد پورے ہوجائیں اور اب عوام کا مطالبہ یہی ہے کہ انہیں ان کے جائز حقوق دیے جائیں۔ انقلاب کی بدولت جو کچھ انہیں ملا وہ اس کی قدر کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی ان کا مطالبہ ہے قانون اور آئین پر ایک نظر ڈالی جائے اور اس کی تمام شقوں کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ ہم نے اس انقلاب کے لیے بڑی قربانیاں دی ہے۔ ایران عراق جنگ کے دوران مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں ایرانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک کا دفاع کیا اور مساوات وانصاف کے حصول کیلیے اپنا لہو بہایا۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے خطیب اہل سنت نے کہا 11 فروری کویوم انقلاب کے موقع پر نکالی گئی ریلی میں موافقین ومخالفین اور مختلف نظریات کے حامل لوگوں نے شرکت کی۔ میں نے بھی اس قومی دن کی یاد میں نکالی گئی ریلی میں شرکت کی۔ وجہ یہ ہے کہ گیارہ فروری ہر ایرانی کا دن ہے یہ قومی دن کسی خاص برادری یا رجحان کے حامیوں کی اجارہ داری میں نہیں ہے۔ اسی لیے اس دن کے نعرے، بیانات اور تقاریر عام ہونے چاہیں اور ہر گروہ، پارٹی اور مسلک سے بالاترہونے چاہیں۔ اگر ایک مخصوص رجحان اور ٹولے کے نعرہ جو ان کے ذاتی مفادات پر مبنی ہوں سامنے آئیں تو دیگر گروہوں اور جماعتوں کی دل شکنی ہوتی ہے جس سے عوام میں مایوسی پھیلتی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا زاہدان میں قومی دن کے اختتام پر ایک مقرر نے تقریر کی جو اپنی کم علمی کے باعث ایسی باتیں زبان پر لائیں جن سے اہل سنت برادری میں اشتعال پھیل گیا۔ اگرچہ تقریب کے احترام میں ہم نے واک آوٹ نہیں کیا البتہ اپنی شکایت اور تحفظات کا پیغام ان تک پہنچایا۔
مذکورہ شخص نے جو باتیں عوامی تقریب میں کہیں ان کا تعلق چودہ سو صدی قبل کے ایک واقعہ سے ہے۔ مقرر نے جنگ جمل اور حضرت علی رضى الله عنه اور حضرت طلحہ و زبیر رضى الله عنهما کے اختلافات کو ذکر کرکے ملکی حالات کو ان واقعات سے تشبیہ دینے کی کوشش کی۔ جب کوئی مقرر اور رہنما ہمارے علاقہ میں آتاہے چاہے شیعہ ہو یا سنی، اسے اتحاد واسلامی بھائی چارے کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر بات کرنی چاہیے۔ ایسے لوگوں کو اختلافی مسائل بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔(عوام کا نعرہ تکبیر)
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا ایسے واقعات ومسائل کے تذکرے سے اجتناب کرنا چاہیے جو اہل سنت اور شیعہ برادری کیلیے رنجش خاطر کا باعث ہو۔ دور حاضر کے اختلافات کو 14 سو صدی قبل کے اختلافات سے تشبیہ دینا اور اس زمانے کے لوگوں کو نبی کریم صلى الله عليه و سلم کے تربیت یافتہ شاگردوں سے تشبیہ دینا انتہائی غلط کام ہے۔ حضرت علی، طلحہ، زبیر ودیگر صحابہ کرام واہل بیت سید المرسلین اور امام الانبیاء کے براہ راست شاگرد وتربیت یافتہ افراد ہیں قم اور زاہدان کے مدارس کے تربیت یافتہ نہیں تھے۔ ہم ہرگز اس لائق نہیں ہیں کہ خود کو ان عظیم ہستیوں سے تشبیہ دے سکیں۔(نعرہ تکبیر) اگر شیعہ وسنی کے سارے علماء اکٹھے ہوجائیں تو صحابہ کرام کے پاؤں کے خاک کے برابر بھی نہیں ہوسکتے۔(نعرہ تکبیر)
صحابہ کرام پاک اور مقدس انسان تھے ان کے اختلافات حق وباطل کا اختلاف ہی نہیں تھے۔
اس لیے کہ صحابہ حق کے معیار ہیں اور وہ سب حق پرتھے۔ ان کے اختلافات کی بنیاد خطا اور صواب (صحیح) پر ہے کہ کون صواب پرتھا اور کس سے اجتہادی خطا سرزدہوئی۔
لیکن ہر صورت میں سب کا مقصد رضائے الہی کاحصول ہواکرتاتھا۔ اگر کوئی اپنے مخالفین کو ان عظیم انسانوں سے تشبیہ دیتا ہے جن کے دل پاک تھے اور ان کا مقام ائمہ کرام امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل سے بھی اونچا ہے تو وہ سراسر غلطی پر ہے۔ ہم سب کو خاص طور پر سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کو چاہیے ایسی باتوں سے پرہیز کریں۔ سرکاری ٹی وی کے ذمہ داراں ایسے لوگوں کو بات کرنے کا موقع نہ دیں جو صحابہ کرام کا نام گستاخی سے زبان پر لاتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔ اگر کوئی یزید کے بارے میں سخت زبان استعمال کرتاہے اس پر کوئی اعتراض نہیں چونکہ یزید ایک ظالم اور خائن شخص تھا جس نے نواسہ رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کو شہید کیا۔ لیکن ہم خود کو حضرت امام حسین رضى الله عنه سے تشبیہ نہیں دے سکتے البتہ ان پاکباز ہستیوں کی اتباع وپیروی ہماری ذمہ داری ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں