آج : 12 February , 2010

افغانستان پر ہونے والی کانفرنس کی ناکامی

افغانستان پر ہونے والی کانفرنس کی ناکامی
afganistan-conference8سال کی طویل اور خونریز جنگ جس میں ہزاروں افغان شہری جاں بحق ہوئے، ملک تباہی و بربادی کا شکار ہوا،سینکڑوں امریکی اور نیٹو کے فوجی مارے گئے۔ امریکہ کی معیشت تباہی سے دوچار ہوئی۔ ان 8 برس کی سرتوڑ جدوجہد کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادی افغان طالبان کی کمر توڑنے میں ناکام رہے۔ نوشتہ دیوار پڑھ کر امریکہ کو اب یہ احساس ہوا ہے کہ افغانستان میں جنگ جیتنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ طالبان کو کچلنے میں کامیاب ہوسکے گا۔ اس لئے امریکہ افغانستان سے باعزت واپسی کا راستہ تلاش کررہا ہے۔ گزشتہ دنوں لندن میں افغانستان پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ اس کانفرنس میں طالبان کے حوالے سے ایک نئی حکمت عملی سامنے آئی ہے جس کے تحت اگر طالبان القاعدہ سے اپنا تعلق ختم کرلیں، نیٹو اور امریکی افواج پر حملے کرنے ترک کردیں تو انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ایسے طالبان کو نوکریوں اور مالی امداد کی بھی لالچ دی گئی ہے۔ اس طرح طالبان کو دو دھڑوں اچھے اور برے طالبان میں تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کرزئی حکومت نے اس کانفرنس میں طالبان کے کچھ رہنماؤں کے ہمراہ شرکت کرکے اس قسم کا عندیہ دیا کہ کرزئی حکومت طالبان میں دھڑے بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے اوراس کانفرنس میں شرکت کرنے والے طالبان رہنما ہی طالبان کے اصل نمائندے ہیں اور وہ ہتھیار پھینک کر حکومت کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور کرزئی حکومت اس کانفرنس کی نام نہاد کامیابی پر خوش فہمی کا شکار ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور ا مریکہ شکست اور شرمندگی سے بچنے کے لئے راہ فرار تلاش کررہا ہے۔ طالبان کو دی گئی یہ لالچ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے طالبان نے مسترد کردیا ہے اس بناء پر اس کانفرنس کو کامیاب قرار نہیں دیا جاسکتا۔طالبان کا کہنا ہے کہ طالبان پیسے کی لالچ میں نہیں آئیں گے۔
اس انٹرنیشنل کانفرنس کی خاص بات افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں بھارت کے کردار کو خارج کرنا ہے جسے پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔ افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں پاکستان کا کردار بھی واضح نظر نہیں آتا کیونکہ طالبان اپنے ملک پر امریکی قبضے اور اپنی حکومت کے گرانے کا مورد الزام پاکستان کو بھی ٹھہراتے ہیں جس نے امریکہ کو افغانستان پر حملے کے لئے تمام لاجسٹک سپورٹ فراہم کی تھی۔ افغانستان پر فضائی حملوں کے لئے پاکستان کی سرزمین کو استعمال کیا گیا اور امریکی طیاروں نے پاکستان کے ایئر پورٹس اور سرزمین سے افغانستان پر 5600 فضائی حملے کئے۔ اسی طرح طالبان کے اہم رہنماؤں کو بھی مشرف حکومت نے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا اور جنہیں بدنام زمانہ گوانتاناموبے جیل میں قید کردیا گیا جس کی ایک مثال طالبان دور حکومت کے پاکستان میں متعین افغان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف ہیں جنہیں امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ عبدالسلام ضعیف اپنی کتاب میں درد بھری داستان اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ”مجھے جب امریکی فورسز کے حوالے کیا گیا تو برہنہ کرکے مجھ پر تشدد کیا گیا۔ اس موقع پروہاں موجود پاکستانی اہلکاروں سے میں نے کہا کہ آپ اپنا منہ دوسری طرف پھیرلیں تاکہ آپ لوگوں کو شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔“ عبدالسلام ضعیف4 سال تک گوانتاناموبے جیل میں قید رہے اور 4 سال بعد انہیں بے گناہ ثابت ہونے پر رہا کردیا گیا۔ اسی طرح طالبان کے دوسرے سینئر رہنماؤں کو بھی مشرف حکومت نے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا۔جن سب کے ساتھ بھی اسی طرح بہیمانہ سلوک کیا گیا۔
تاریخ ایک بار پھر آج اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ طالبان کو دی جانے والی امریکی پیشکش بھی روس کی طرف سے دی جانے والی پیشکش سے مختلف نہیں۔ واضح ہو کہ افغانستان پر روسی قبضے کے آخری دنوں میں شرمندگی اور شکست سے بچنے کے لئے روس نے بھی مجاہدین کو اسی طرح کی پیشکشیں کی تھیں اور مجاہدین کو ساتھ ملاکر افغانستان میں ایک اتحادی حکومت بنانے کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہ ہوسکی اور روسی فوجوں کو بالآخر شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا اور انہیں اپنا جنگی ساز و سامان چھوڑ کر افغانستان سے نکلنا پڑا۔ آج امریکہ کو بھی افغانستان میں کچھ اسی طرح کی صورتحال درپیش ہے ۔ امریکہ اپنی حکمت عملی میں طالبان سے مذاکرات کرنے کی تبدیلی طاقت کے باعث نہیں بلکہ اپنی کمزوری کی وجہ سے کررہا ہے۔
امریکہ کو اس جنگ میں اپنی شکست صاف نظر آرہی ہے، ایسے وقت میں طالبان امریکی شرائط ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ امریکہ کو اس امریکی محاورے پر عمل کرنا چاہئے۔ “Loser can’t be chooser” یعنی (ہارنے والے کی مرضی نہیں چلتی) ۔آج طالبان کا یہ مطالبہ ہے کہ امریکہ اور اس کی اتحادی افواج افغانستان سے چلی جائیں اور طالبان امریکہ کو محفوظ راستہ دینے کے لئے تیار ہے۔ ممکن ہے کہ کل یہی طالبان اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ کو ہتھیار ڈالنے کا کہیں۔
افغانستان کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم ہونے جارہی ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کے لئے امریکہ اور طالبان کے درمیان پل کا کردار ادا کرے اور حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے ایسے لوگوں کی خدمات حاصل کرے جن کی طالبان میں آج بھی اچھی ساکھ ہو اور وہ ان پر اعتماد کرتے ہوں۔ میرے نزدیک اس سلسلے میں جنرل حمید گل ایک پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔جنرل حمید گل کو نہ صرف طالبان بلکہ افغانستان کے شمالی اتحاد میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ایسی شخصیت امن مذاکرات کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ میں نے اس سلسلے میں جب جنرل حمید گل سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میں اپنے ملک کی بھلائی اور افغانستان سے امریکی قبضے کے خاتمے کے سلسلے میں جوکچھ ہوسکا ،اس کے لئے تیار ہوں۔
اب جبکہ فتح قریب ہے طالبان کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ کٹھ پتلی کرزئی حکومت کا حصہ بنیں ، اسی طرح وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں بھی کرزئی حکومت کا اشتراک قبول نہیں کریں گے۔ افغان مسئلے کے دو بڑے فریق ایک ملا عمر کی قیادت میں لڑنے والے طالبان اور دوسرا فریق افغانستان پر قابض امریکی و نیٹو افواج ہیں۔ جن لوگوں کو امریکہ اور کرزئی حکومت طالبان کے نمائندے بتارہے ہیں وہ ان کے حقیقی نمائندے نہیں بلکہ ان کے اصل نمائندے گزشتہ 8 سالوں سے قابض امریکی و نیٹو فورسز کے خلاف برسرپیکار ملاعمر اور ان کے ساتھی ہیں۔ امریکی اور نیٹو فورسز پر حملہ نہ کرنے کی گارنٹی صرف طالبان سربراہ ملا عمر ہی دے سکتے ہیں اور انہیں مذاکرات میں شامل کئے بغیر افغانستان میں قیام امن کی امریکی خواہش پوری نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا ملا عمر کے ساتھ براہ راست اور برابری کی سطح پر بات چیت ہی افغان قضئے کا واحد حل ہے۔

اشتیاق بیگ “جنگ”


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں