تہران: سنی اراکین پارلیمنٹ کو نظرانداز کیاجارہاہے

تہران: سنی اراکین پارلیمنٹ کو نظرانداز کیاجارہاہے
muhammadiتہران (سنی آن لائن، فارس نیوز) ایرانی کردستان کے شہر مریوان سے منتخب رکن پارلیمنٹ نے آئینی نوٹس پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے اہل سنت کے باصلاحیت افراد سے استفادہ کیا جائے اور انہیں وزارتوں میں شامل کیا جائے۔

“مجلس شورائے اسلامی” کے رکن اور مریوان و سروآباد کے عوام کی نمایندگی کرنے والے اقبال محمدی نے آئین کے آرٹیکل 9کی شق 11 سے استدلال کرتے ہوئے کہا اس سلسلے میں صدرمملکت سے کئی مرتبہ ہم نے رابطہ کیا ہے۔ ملاقاتوں اور خطوط کی صورت میں انہیں یاد دلایا جاچکاہے کہ اپنا یہ نعرہ “سات کروڑ کی کابینہ” اور “عدل وانصاف” کو ہر حال میں یقینی بنانے کے دعوے کو مدنظر رکھتے ہوئے لاکھوں سنی مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق دلوائیں۔ گزشتہ تیس سالوں میں اہل سنت برادری ملکی اعلیٰ عہدوں سے دور رکھی جاچکی ہے حالانکہ اس انقلاب کی کامیابی، استحکام، تعمیرنو اور ہر طرح کی مدد میں اہل سنت کا اہم اور کلیدی کردار رہاہے۔
گزشتہ سالوں میں جتنے انتخابات ملک میں منعقد ہوئے سب میں ایرانی سنیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا خاص طور پر حالیہ صدارتی انتخابات میں اہل سنت کی اکثریت نے انتخابات میں اپنا ووٹ استعمال کرکے نظام حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ دوسری طرف صدر احمدی نژاد نے وعدہ کیا تھا اہل سنت کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا اس کے باوجود کوئی تبدیلی نظر نہيں آرہی ہے۔
اسی حوالے سے اقبال محمدی نے مزید کہا اس وقت پارلیمنٹ میں سنی نمایندے اعلیٰ علمی مدارج پر فائز ہونے اور طویل تجربہ رکھنے کے باوجود وزارتخانوں میں بغیر کسی ذمہ داری کے گھوم پھر رہے ہیں اور ان سے استفادہ نہیں کیا جاتاہے۔
سنی رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا پارلمان کے ایگزیکٹیوبورڈ کو اس مسئلے پر غور کرنا چاہیے۔
ہمیں امید ہے وہ ایسی پالیسی ترتیب دیں گے کہ باصلاحیت اور اعلیٰ علمی پایے کے ارکان کو بيوروکريسي میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع مل جائے گا۔ کم از کم وزارت خانوں میں جنرل ڈائریکٹر کی حیثیت سے انہیں ملک و ملت کی خدمت کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
اپنے دوسرے نوٹس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا پارلیمنٹ کے قواعد وضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے آرٹیکل 192 کے تحت کئی مرتبہ ہم نے تحریری اور تقریری طورپر، نیز اپنے بیانات میں وفاقی وزارتخانوں سے درخواست کی ہے ہمارے علاقائی، صوبائی اور قومی مسائل حل کیے جائیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ایک سوال اور خط کو بھی جواب دینے کے لائق نہیں سمجھا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا تحریری و تقریری طور پر اپنے مسائل کو بیان کرنا ہمارا حق ہے یا نہیں؟ کیا متعلقہ اداروں کے پاس ہمارے سوالوں کا کوئی جواب ہے؟ انہوں نے پارلیمنٹ کے ایگزیکٹیوبورڈ سے درخواست کی کہ اس مسئلے پر توجہ دے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں