آج : 6 February , 2010

طالبان کے ساتھ مذاکرات میں حائل رکاوٹیں

طالبان کے ساتھ مذاکرات میں حائل رکاوٹیں
taliban_2افغان مجاہدین اس وقت ہٹ ٹرک پر دکھائی دے رہے ہیں اس سے پہلے وہ دو سپر پاورز برطانیہ اور روس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرچکے ہیں۔ آج دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ اپنے درجنوں اتحادیوں کے ہمراہ ان کے ہاتھوں بدترین شکست سے دوچار ہے۔

افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر جنرل اسٹینلے میک کرسٹل کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کی صورت حال میں پیش رفت کیلئے طالبان سے بات چیت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”بس لڑائی بہت ہوچکی اب اس جنگ کا سیاسی حل ہونا چاہئے۔“ اس سیاسی حل کو ڈھونڈنے کیلئے جنوری کے آخر میں لندن میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں ستر ممالک کے مندوبین نے شرکت کی کانفرنس سے ایک روز قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی نے سابق افغان وزیر خارجہ وکیل احمد متوکل ، صوبہ اورزگان کے گورنر عبدالحکیم ، فضل محمد فیضان، شمس الصفا امین زئی اور محمد موسیٰ پر عائد پابندیاں اٹھالی ہیں۔ طالبان کے خلاف یہ پابندیاں اس وقت عائد کی گئی تھیں جب 1998ء میں افریقہ میں دو امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے حملوں کے الزام میں امریکا نے طالبان سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا جسے طالبان نے مسترد کردیا تھا اس وقت سے طالبان پر اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ 2001ء میں نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ نے طالبان اور القاعدہ سے تعلق کے شبے میں 500 افراد پر پابندیاں عائد کی تھیں۔اس سے پہلے افغان صدر حامد کرزئی بارہا طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے کی تجاویز پیش کرتے رہے ہیں جسے امریکہ مسترد کرتا رہا یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اس بات کا ادراک ہوگیا کہ طالبان کو جنگ کے میدان میں شکست دینا آسان نہیں ہے اور افغان مسئلے کا کوئی اور حل نکالنا ہوگا امریکہ اور مغرب کے رویے میں یہ واضح تبدیلی ان کی یقینی شکست کا پتہ دے رہی ہے۔ طالبان اگرچہ لندن کانفرنس کی سفارشات کو مسترد کرچکے ہیں تاہم ایک سپر پاور کی بات چیت پر آمادگی نے طالبان کو ایک نیا حوصلہ بخشا ہے۔ اس نئے منظرنامے میں افغان طالبان کے ساتھ ساتھ پاکستانی طالبان کا مورال بھی بلند ہوا ہے۔ امن کیلئے ترسے ہوئے بارڈر کے دونوں طرف کے عوام بالخصوص پاکستان میں پناہ گزین 30 لاکھ افغان مہاجرین میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ قیام امن کی بحالی کے سلسلے میں ہنوز دلی دور است ، ڈائیلاگ اور اعتماد کی بحالی کے راستے بہت ساری کاوٹیں اور غلط فہمیاں ہیں جنہیں رفع کئے بغیر پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔ سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ جن جنگجو طالبان نے عالمی طاقتوں کو ڈائیلاگ کی میز پر لانے پر مجبور کیا ہے، ان کے خلاف کارروائیاں کسی نہ کسی صورت جاری رکھنے کا پروگرام ہے صرف ایسے طالبان کے ساتھ معاملات طے کرکے انہیں حامد کرزئی کے زیر قیادت شریک اقتدار کیا جائیگا جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نہ رہے ہوں گویا یہ ایک طرح سے طالبان کی مضبوط صفوں میں دراڑیں ڈالنے کی دانستہ کوشش ہے اس کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ طالبان کی صفوں میں دراڑیں ڈالنے والی بات اعلانیہ کی جارہی ہے مثلاً برطانیہ کے وزیراعظم گورڈن براؤن نے لندن کی عالمی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ افغانستان کیلئے فیصلے کی گھڑی ہے۔ اگلے سال کے وسط تک شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں پانسہ پلٹنا ہے۔“ اسی روز بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے گورڈن براؤں نے کہا کہ ”پہلا کام افغان فورسز کو مضبوط کرنا ہے اور پھر طالبان کی صفوں میں دراڑیں ڈال کر ا نہیں کمزور کرنا ہے۔“اسی طرح لندن کانفرنس سے چند روز قبل ترکی کے شہر استنبول میں افغانی صدر حامد کرزئی اور ان کے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری نے میزبان صدر عبداللہ گل کے ساتھ مشاورت کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسے طالبان جو دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں اور وہ شدت پسندی کے ”اپنے طور طریقے“ ترک کرنے کیلئے آمادہ ہیں ان کے ساتھ خطے میں دیرپا امن کے لئے دونوں ملکوں کی قیادت کوششیں کررہی ہے۔ ان دونوں بیانات سے جو بات عیاں ہے وہ یہ ہے کہ طالبان کو اچھے اور برے طالبان میں تقسیم کرکے انہیں لڑوایا جائے اور کسی نہ کسی طرح (مصنوعی ہی سہی) فتح کا تاثر قائم کیا جائے تاکہ افغانستان کی دلدل سے امریکہ اور اس کے اتحادی ”باعزت“ نکلنے میں کامیاب ہوسکیں۔
اس کے علاوہ ایران جو ایک اہم پڑوسی ملک ہے اس نے اپنے کچھ تحفظات کی بناء پر لندن کانفرنس میں شرکت سے معذوری ظاہر کی ہے۔ سعودی عرب نے بھی افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے حالیہ بین الاقوامی کوششوں میں کردار ادا کرنے کیلئے شرائط پیش کی ہیں۔ پاکستان جو افغانستان کا انتہائی اہم پڑوسی ملک ہے اور امن کیلئے بات چیت کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتا تھا، بدقسمتی سے وہ اس قابل نہیں رہا ہے کہ افغان طالبان اس کے اوپر ماضی کی طرح اندھا اعتماد کرسکیں۔ بات چیت کے عمل میں پاکستان کی شرکت پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک سابق طالبان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا ہے کہ ”افغان طالبان سے بات چیت میں اگر پاکستان کو شامل کیا گیا تو اس سے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ پاکستان کو پڑوس میں صلح کے عمل میں شریک ہونے سے پہلے اپنے گھر کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ پاکستان اس حالت میں نہیں ہے کہ اس پر اعتبار کیا جائے اسے بات چیت میں شامل کرنا احمقانہ سوچ ہوگی۔“ملا عبدالسلام ضعیف پاکستان میں طالبان دور حکومت کے آخری افغان سفیر تھے جنہیں جنوری 2002ء میں پاکستانی حکام نے اسلام آباد سے حراست میں لے کر امریکی حکام کے حوالے کیا تھا وہ چار سال تک بگرام ، قندھار اور گوانتانا موبے جیلوں میں قید رہے جہاں ان کے بقول انہیں بھوکا پیاسا رکھا جاتا رہا اور برہنہ کرکے تصاویر بنائی جاتی رہیں۔ 2005ء میں انہوں نے رہائی پانے کے بعد کتاب ”گوانتانا موبے کی کہانی ملا ضعیف کی زبانی“ لکھی۔ پاکستانی سرزمین پر گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا ، اس کی منظر کشی وہ اپنی کتاب میں اس طرح کرتے ہیں۔ ”امریکیوں نے مجھے مارا پیٹا اور بے لباس کردیا مگر اسلام کے یہ محافظ میرے سابق دوست (پاکستانی حکام) یہ تماشہ دیکھتے رہے ان کی زبانوں پر لگے تالے میرے لئے ناقابل فراموش ہیں۔ یہ وہ لمحات ہیں جن کو میں قبر میں بھی نہیں بھول سکوں گا۔ پاکستانی حکام امریکیوں کو اتنا تو کہہ سکتے تھے کہ یہ ہمارے مہمان ہیں، ہماری موجودگی میں ان کے ساتھ یہ سلوک نہ کرو۔“قصہ مختصر یہ کہ اس جنگ کے کئی فریق ہیں۔ اعتماد کا فقدان ہے۔ امریکہ کو پاکستان پر اعتبار نہیں ہے۔ پاکستان کو امریکہ پر بھروسہ نہیں ہے۔ افغان مجاہدین کی نظروں میں دونوں بے وفا اور ”نااعتبارے“ ہیں۔ ایسے ماحول میں بات چیت کی (امریکہ کے حسب منشا) کامیابی معجزے سے کم نہیں ہوگی۔ مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی ہو مگر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان مذاکرات کیلئے میز سجانا (230 ارب ڈالر ڈبو دینے کے بعد) امریکہ اور اس کے اتحادی کی شکست کے مترادف ہے۔ 80ء میں مجاہدین کے ہاتھوں سوویت یونین کی شکست پر ہمارے یہاں بعض لوگ بڑی شدومد کے ساتھ یہ راگ الاپتے رہے ہیں کہ یہ مجاہدین کے جہاد کے سبب نہیں بلکہ امریکی مدد اور حمایت کے زور پر روس کی شکست ممکن ہوسکی ہے۔
ایسے لوگوں سے پوچھا جاسکتا ہے کہ آج جبکہ تقریباً پوری دنیا ایک طرف ہے اور ایسے بے یارومددگا افغان مجاہدین دوسری طرف ہیں جنہیں اپنے ملک کے اندر بھی بے شمار غداروں کا سامنا ہے، ایسے میں مذاکرات کی صدائیں تو افغان مجاہدین کو بلند کرنی چاہئیں تھیں ایک سپر پاور اور پوری مغربی دنیا کیسے مذاکرات پر مجبور ہوئی، معلوم نہیں یہ لوگ مجاہدین اور افغان عوام کی لازوال قربانیوں کا ثمر پھر کسی ملک کی جھولی میں ڈالنا پسند کریں گے۔ اس دفعہ تو افغان کی پشت پر پاک فوج بھی نہیں ہے۔

اجمل خان آفریدی


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں