آج : 6 February , 2010

“مبحوح کے قتل میں موساد ملوث ہوئی تو نیتن یاہو کو طلب کر سکتے ہیں”

“مبحوح کے قتل میں موساد ملوث ہوئی تو نیتن یاہو کو طلب کر سکتے ہیں”
netaniaho2دبئی (العربية.نیٹ، ایجنسیاں) دبئی پولیس کے جنرل کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ جنرل ضاحی خلفان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ گذشتہ دنوں ایک مقامی ہوٹل میں اسلامی تحریک مزاحمت – حماس کے عسکری ونگ کے اہم کمانڈر محمود مبحوح کے قتل کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ادارے “موساد” کا ہاتھ ہے تو دبئی پولیس مزید تحقیقات کے لئے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو طلب کر سکتی ہے۔

حماس نے محمود مبحوح کے قتل کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی ہے جبکہ تل ابیب اس الزام کی تردید کرتا چلا آ رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی پولیس اس سے قبل بین الاقوامی مجرموں کے ایک گروہ کے بارے میں شبہ ظاہر کر چکی ہے کہ وہ مبحوح کو ہوٹل کے کمرے میں قتل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ دبئی پولیس اس قتل میں موساد کے ملوث ہونے کے بارے میں بھی تحقیق کر رہی ہے۔
دبئی پولیس سربراہ نے انگریزی میں شائع ہونے والے ایک مقامی انگریزی روزنامے “دی نیشنل” کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے موساد کے اس قتل میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت ملنے پر یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ اسرائیلی وزیر اعظم اس قتل کے ذاتی طور پر ذمہ دار ہیں۔
اخبار نے مسٹر تمیم سے یہ بیان منسوب کیا ہے کہ “اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو عدلیہ کو مطلوب پہلے فرد ہوں گے کیونکہ وہی ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جو مبحوح کے دبئی میں قتل کی منظوری دے سکتے ہیں۔ ایسا ثابت ہونے پر ہم ان کے خلاف ورانٹ گرفتاری جاری کر سکتے ہیں۔”
اگرچہ دبئی پولیس کے سربراہ نے اس اندھے قتل میں موساد کے ملوث ہونے کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا تاہم ان کا بیان اسلامی دنیا میں پانے جانے والے اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیل نے اسی کی دہائی میں بپا ہونے والی فلسطینی انتفاضہ کے دوران دو اسرائیلی فوجیوں کے اغوا کا منصوبہ بنانے والے فلسطینی مجاہد محمود مبحوح کو قتل کرایا۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم نہیں۔ یو اے ای عموی طور پر اسرائیلیوں کو دبئی داخلے کا ویزہ جاری نہیں کرتی۔ اس سے قبل یو اے ای کی حکومت اسرائیل کی ایک ٹینس کھلاڑی کو دبئی میں ہونے والے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر چکی ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں