آج : 3 February , 2010

5 زیر حراست امریکیوں کا جیل میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا الزام

5 زیر حراست امریکیوں کا جیل میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا الزام
jeailسرگودھا(العربیہ.ایجنسیاں) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر سرگودھا میں انٹرنیٹ پر طالبان جنگجوٶں سے روابط کے الزام میں گرفتار پانچ امریکیوں نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر کہا ہے کہ انہیں پاکستانی پولیس اور امریکی ایف بی آئی کے اہلکار دوران حراست تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، تاکہ ان پر لگائے گئے الزامات کو درست ثابت کیا جا سکے.

ملزمان کے وکیل طارق اسد نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”امریکیوں نے بجلی کے جھٹکے دینے کی بھی شکایت کی ہے”.
وکیل طارق اسد نے اپنے موکلین کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکام نے انہیں یہ دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے خود سے ناروا سلوک کے بارے میں میڈیا کو بتایا تو ان کے پاسپورٹ ضائع کر دئیے جائیں گے اور انہیں سینے پر چاقو مارے جائیں گے”.
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان پانچوں افراد نے افغانستان جانے کی منصوبہ بندی کی تھی جہاں طالبان کے ساتھ مل کر وہ امریکی فوج کے خلاف لڑنا چاہتے تھے.انہوں نے القاعدہ کے ساتھ کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک خیراتی کام کے سلسلہ میں افغانستان جانا چاہتے تھے.
پولیس نے گذشتہ سماعت کے موقع پر ان پانچوں افراد کے خلاف چالان پیش کیا تھا،جس میں ان پر تعزیرات پاکستان کی متعدد دفعات اور انسداد دہشت گردی قانون کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا گیا ہے.ان میں سب سے سنگین دہشت گردی کی کسی کارروائی کی سازش کا الزام ہے جس پر انہیں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے.چالان کی بنیاد پر اب استغاثہ ان کے خلاف فرد جرم عاید کرنے کا فیصلہ کرے گا جس کے بعد مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہو گی. واضح رہے کہ پاکستان کی ایک عدالت انہیں امریکا بدر کرنے پر پابندی عاید کر چکی ہے.
واپس اوپر

”ہم بے گناہ”
امریکیوں نے عدالت میں پیشی کے موقع پولیس کی وین سے ایک ٹشو پیپر صحافیوں کی جانب پھینکا جس میں انہوں نے لکھا تھا:”ہماری گرفتاری کے بعد سے امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور پاکستانی پولیس کے اہلکار ہمیں تشدد کانشانہ بنا رہے ہیں.
انہوں نے مزید لکھا کہ ”وہ ہمیں ملزم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم بے گناہ ہیں. وہ ہمیں میڈیا، ہمارے خاندانوں اور ہمارے وکیل سے بھی چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لئے ہماری مدد کیجئے”.
ان پانچوں امریکیوں کو دسمبر میں القاعدہ سے وابستہ گروپوں سے تعلق کے الزام میں سرگودھا سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان پر دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا تھا. ان پانچوں افراد کی عمریں انیس سے پچیس سال کے درمیان ہیں اور ان کا ورجینیا سے تعلق ہے.
ان میں سے دو پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں. ایک مصری، ایک یمنی اور ایک اری ٹیرین نژاد امریکی ہے.اگر وہ عدالت میں مجرم ثابت ہو گئے تو انہیں لمبی قید کا سامنا ہو سکتا ہے.
سرگودھا جیل کے سپرنٹنڈینٹ انجم شاہ نے امریکیوں کے خود سے ناروا سلوک کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ان مشتبہ افراد نے جیل حکام سے ناروا سلوک کی کوئی شکایت نہیں کی. انہوں نے کہا کہ ان ملزمان پر جیل میں کوئی تشدد نہیں کیا جا رہا بلکہ ہم ان کے ساتھ قواعد وضوابط کے مطابق سلوک کر رہے ہیں.
اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ترجمان رک سنلسئیر نے ایک بیان میں ملزمان کی جانب سے ایف بی آئی پر تشدد کرنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں قونصلر کی رسائی اور خدمات بھی مہیا کی گئی ہیں.
پاکستانی پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے ای میل پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے طالبان سے رابطہ کیا تھا اور جنگجو گروپ نے انہیں پاکستان میں حملوں کے لئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی.
وکیل صفائی نے تئیس سالہ مصری نژاد امریکی رامی زم زم کا ایک خط بھی صحافیوں میں تقسیم کیا ہے جو انہوں نے اپنے والدین کے نام لکھا ہے.اس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ ”پیارے اماں اور ابا.صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے اور دعا کا سلسلہ جاری رکھیں.ہمیں گرفتاری کے بعد سے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے”.
”آپ ہم سے براہ راست رابطے کے لئے کوششیں جاری رکھئے اور ہم سے ذاتی طور پر بات کرنے کی کوشش کیجئے.میں آپ سب سے محبت کرتا ہوں .صبروتحمل کا مظاہرہ کریں اور ہمارے لئے دعاکا سلسلہ جاری رکھیں”.
واضح رہے کہ ان پانچوں امریکیوں نےسرگودھا میں انسداددہشت گردی کی عدالت میں گذشتہ پیشی کے بعد قیدیوں کی گاڑی پر واپسی جاتے ہوئے چلا کرخود پرتشدد کی شکایت کی تھی لیکن پولیس اورجیل حکام نے ان سے کسی ناروا سلوک کی تردید کی تھی اورکہا تھاکہ انہوں نے عدالت میں ایسی کوئی شکایت نہیں کی.


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں