آج : 22 January , 2010

حكومت اپنی پالیسیوں پرنظرثانی کرے،جائز تنقیدکوبرداشت کرنی چاہیے: شیخ الاسلام

حكومت اپنی پالیسیوں پرنظرثانی کرے،جائز تنقیدکوبرداشت کرنی چاہیے: شیخ الاسلام
molana-damenایرانی اہل سنت کے مذہبی رہ نما مولانا عبدالحمید نے کہا ہے ايرانی حکومت کی بعض پالیسیاں ناکامی سے دچار ہوچکی ہیں اور ان پر نظر ثانی کرکے ان میں تبدیلی لانی چاہیے۔ حکام بالا سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اہل سنت کے حوالے سے اپنی امتیازی سلوک پر مبنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں.

ايراني بلوچستان کے شہر” ایرانشہر” کے علاقے دامن Damen  میں ايک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا اگر ہماری سڑکیں سونا چاندی سے پختہ بنائی جائیں ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ امتیازی سلوک کا خاتمہ ہی واحد حل ہے۔
انہوں نے مزید کہا مسلح اداروں میں بھی اہل سنت کے باصلاحیت افراد کو بھرتی کرنا چاہیے۔ اس نظام حکومت سے پہلے شاہ کے دور حکومت میں سیکورٹی اور مسلح اداروں میں سنی برادری کی بڑی تعداد بڑے عہدوں پر فائز تھی اس سسٹم میں بھی سنی مسلمانوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں بیدخل کرکے ملک کے دفاع کرنے والے اداروں سے نہ نکالا جائے۔ ہم بھی اپنے وطن کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔
ایرانی اہل سنت کے اعلی رہنما نے کہا سنی مسلمانوں کے آئینی وقانونی حقوق کو مسلسل نظرانداز کیا جارہاہے۔ یہ شکوہ صرف میرا نہیں بلکہ اہل سنت کا فرد فرد اس امتیازی سلوک سے نالان ہے۔ ہم اس سسٹم کے خیرخواہ ہیں، شیعہ، سنی اور حکام سمیت سب کی بھلائی کو چاہتے ہیں اور اسی نیت سے ہماری نصیب ہے کہ لوگوں کی شخص وقانونی آزادیوں کو سلب نہ کیا جائے۔ خواہ مخواہ دباؤ نہ ڈالا جائے۔ اسلام اور ملکی آئین کے دائرہ میں رہ کر ذرائع ابلاغ، اخبارات ودیگر نشریاتی ادارے جتنے آزادہوں گے اتناہی ملک مضبوط ہوگا اور ترقی پالے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران میں جائز تنقید کو برداشت کرنی چاہیے۔ تنقید کرنے والوں کی آواز دبانے کے بجائے ان کی بات سنی جائے اور اشکالات دور کیے جائیں۔ حکومت کو جوابدہ ہوناچاہیے۔
صدارتی انتخابات کے بعد رونما ہونے والے واقعات حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیش آئے۔ ان واقعات وحادثات کے رونما ہونے کے بعد اصحاب حل وعقد کو چاہیے فراخدلی کا مظاہره کر کے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مذہبی آزادی کو اہل سنت والجماعت ایران کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہم بغیر کسی رکاوٹ کی اپنے بچوں کو ایران کے کسی بھی علاقے میں دینی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ پنج وقتہ نمازیں، عیدیں اور جمعہ کی نماز آزادانہ طور پر ہمیں اداء کرنے دیا جائے۔ ہمارے دینی مدارس خود مختار اور مستقل رہنے چاہیے۔ کسی بھی سرکاری ادرے یا تنظیم کو ہمارے مدارس اور مساجد کے داخلی مسائل اور طریقہ کار میں مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ سب ہمارے قانونی حقوق ہیں اور کسی بھی صورت میں ہم اپنے قانونی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
چند رکن پارلیمنٹ کے سوا مرکز میں اہل سنت کا کوئی نمایندہ نہیں ہے جس کے ذریعہ ہم حکام بالا کو اپنے مسائل سے آگاہ کریں۔ مقامی حکام کے اختیارات بالکل محدود ہیں ہمارے خیال میں تہران میں ہمارے نمایندے اگر موجود ہوں تو ان کے ذریعہ براہ راست ہم اپنی بات آگے پہنچاسکتے ہیں اور مسائل کے حل میں آسانی ہوگی۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں