آج : 21 January , 2010

حضرت شیخ الاسلام کا دورہ ایرانشہر

حضرت شیخ الاسلام کا دورہ ایرانشہر
molanaقابل ذکر آبادی رکھنے والا دامن Damen ضلع ایرانشہر کا ایک اہم قصبہ ہے جو صوبہ سیستان وبلوچستان کے وسط میں واقع ہے۔ اس بابرکت علاقے نے وقت کے ممتاز علمائے کرام کو تربیت دیکر معاشرے کو قائد و رہنما مہیا کیا ہے۔ جیسا کہ مولانا شمس الدین اور مولانا قمرالدین رحمہمااللہ جن کا عوام الناس میں دینی شعور پیدا کرنے اور انہیں عزم نو دینے میں کلیدی کردار حاصل رہاہے۔

چند سال پہلے اس علاقے کے علمائے کرام دیندار لوگوں کی مدد واعانت سے بچیوں کے لیے مدرسۃ البنات قائم کرنے میں کامیاب ہوئے جس کا نام “مکتب خدیجۃ الکبریٰ” رکھاگیا۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد خواتین میں دین کے حوالے سے اسلامی بیداری اور جذبہ پیدا کرنا تھا جو ان کی دینی معلومات بڑھانے سے ممکن ہے۔
مدرسۃ البنات خدیجۃ الکبریٰ کی تاسیس مقامی علماء خاص طور پر مولانا نظرمحمددیدگاہ دامت برکاتہم کی ہمت اور شب وروز محنت سے میسر ہوسکی جو اب ایک معتبر اور قابل ذکر تعلیمی ادارہ بن چکاہے اور علاقے کی بنات اس کے چشمے سے اپنی علمی پیاس بجھارہی ہیں۔
گزشتہ دنوں اس ادارے کی پہلی فارغ التحصیل کلاس کی تقریب دستاربندی منعقد ہوئی جس میں صوبے بھرسے ممتاز اسکالرز، پروفیسرز، علمائے کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مدعوین میں حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم بھی شامل تھے جو ایک وفد کے ساتھ اس بابرکت تقریب میں شریک ہوئے۔
تقریب کا انعقاد ۱۵ جنوری بروز جمعہ اعلان ہواتھا۔ حضرت شیخ الاسلام نے ایک دن قبل زاہدان سے ایرانشہر کا رخ کیا۔
راستے میں ظہر کی نماز اور کھانے کے لیے وفد نے خاش کے شہر میں دو گھنٹے کا قیام کیا۔ پروگرام کے مطابق ایرانشہرکے تبلیغی مرکز میں شب جمعہ کا بیان حضرت شیخ الاسلام کو کرناتھا اس لیے مغرب سے تھوڑی دیر پہلے آپ تبلیغی مرکز پہنچ گئے جہاں لوگوں کے ایک جم غفیرنے آپ کا پرجوش استقبال کیا۔ ضلع بھر کے مختلف علاقوں سے عوام کی بڑی تعداد کسب فیض اور حضرت شیخ الاسلام سے ملنے کے لیے ایرانشہر کے تبلیغی مرکز میں امڈ آئی تھی۔
حاضرین نے مغرب کی نماز آپ کے اقتدا میں ادا کی جس کے بعد بیان شروع ہوا۔

ایرانشہر کے تبلیغی مرکز حضرت شیخ الاسلام کا ایمان افروز بیان
حضرت مولانا عبدالحمید حفظہ اللہ نے اپنی تقریر کا آغاز سورت والعصر کی تلاوت سے کیا اور فرمایا اقوام عالم کی ترقی کا راز احکام الہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہے جبکہ ذلت وخواری لانے والی چیز اللہ سے بغاوت اور اس کے احکام کو ماننے کے بجائے انکار کرنے اور سرکشی ہے۔ آپ نے اصول دین توحید، نبوت اور معاد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا یہ چیزیں انتہائی اہم ہیں اور پچھلی امتوں نے ان تین اصولوں میں اپنے پیغمبروں کی مخالفت کی تھی۔ جنہوں نے ان اصول کو مان کر ان کی حقانیت تسلیم کی وہ ہدایت کی راہ پر چلنے والے بن گئے اور مخالفت کرنے والوں کو دنیا وآخرت کی رسوائی وناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ نمرود، فرعون، قارون اور دیگر سرکش ظالموں کا عبرتناک انجام اس دعویٰ کی واضح دلیل ہے۔
آگے چل کر خطیب اہل سنت نے قوموں کی رسوائی، ناکامی اور شکست کے اسباب کا تذکرہ کیا اور گویا ہوئے: اگر کوئی قوم غرور اور تکبر کا شکار ہوجائے، اپنی تھذیب، صنعت اور ٹیکنالوجی پر ناز کرنے لگے اور اس کے نتیجہ میں تمرد اور سرکشی کا مظاہرہ کرے تو یہ اس قوم کی تباہی و بربادی کا نقطہ آغاز ہوگا۔ ایسی ہی قومیں انبیاء علیہم السلام اور ان کی تعلیمات سے مخالفت کرتی تھیں اور علوم نبوت کو اپنا دشمن سمجھتی تھیں حالانکہ علوم نبوت اور عصری علوم میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے عصری علوم کے ساتھ دینی علوم حاصل کرنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا آج کل عصری علوم کا شمار ہماری زندگی کی ضروریات میں ہوتاہے مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے حضرات علوم دینی سے غافل ہوجائیں۔ ایسی صورت میں شاید چند دن کی ظاہری ترقی انہیں مل جائے مگر ان کا انجام انتہائی برا ہوگا، ایسے لوگوں کی منزل جہنم ہوگی اور وہ عذاب الہی سے نہیں بچ سکیں گے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سورت “والعصر” کی تشریح کے ضمن میں فرمایا اعمال صالحات اور نیک کاموں سے ہرگز غافل مت ہوجائیے، کامل ایمان کے ساتھ روزہ، زکات، نماز، حج، والدین کی خدمت، حقوق العباد کی ادائیگی، بیماروں کی عیادت اور دعوت الی اللہ کو اپنا مشغلہ بنائیے اور راہ حق میں صبر وتحمل سے کام لیجیے جو حق وحقیقت اور کامیابی چاہنے والوں کی خصوصیت ہے۔
حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم کے بیان کے بعد عشاء کی نماز مولاناعبدالصمد دامنی کی امامت میں پڑھی گئی۔ نماز کے بعد سرپرست دارالافتاء جامعہ دارالعلوم زاہدان مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی صاحب نے “حکایات صحابہ” سے ایک حکایت سنائی اور اس کی تشریح میں مختصر سی تقریر فرمائی۔
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد حضرت شیخ الاسلام اپنے وفد کے ساتھ آرام کے لیے شہر کے ایک دیندار شخص کے گھر تشریف لے گئے۔
جمعہ کی صبح آپ “دامن” کی طرف روانہ ہوئے جہاں تقریب دستاربندی منعقد ہوئی تھی اور آپ کے دورے کی اصل وجہ یہی تھی۔ مقامی وقت کے مطابق دس بجے آپ دامن پہنچ گئے۔ ہزاروں افراد آپ کے استقبال کے لیے کئی گھنٹوں سے منتظر کھڑے تھے جنہوں نے جلسہ گاہ تک آپ کے وفد کو ساتھ دیا۔
پروگرام آٹھ بجے شروع ہواتھا۔ اس نورانی وقرآنی تقریب میں صوبے کی چنیدہ شخصیات موجود تھیں جن کا تعلق مختلف شہروں کے مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تھا۔ حضرت شیخ الاسلام کی موجودگی نے تقریب کی نورانیت میں مزید اضافہ کردیاتھا۔
”دامن” کے عوام کی گرمجوشی قابل دید اور مثالی نظم وضبط قابل تحسین تھا حالانکہ اس قصبہ میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی تقریب تھی جو سولہ فاضلات کے اعزاز میں منعقد ہو رہی تھی۔
اس تقریب میں سیستان وبلوچستان کی ممتاز سماجی، سیاسی شخصیات اور علمائے کرام نے تقریر کی جن کی تقاریر کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
مولوی محمدحسین قاسم زائی نے اپنی تقریر کا موضوع قرآن پاک اور انسانیت کی ترقی میں اس کے کردار کو بنایا اور اس حوالے سے ایک تحقیقی لیکچر پیش کیا۔
ایک اور مقرر پارلیمنٹ میں ایرانشہرکی نمایندگی کرنے والے شخص تھے۔مسٹردہقان نے ایرانی پارلیمنٹ میں اہل سنت کمیونٹی کے ممبران کی سرگمیوں اور اہل سنت کیلیے ان کی کاوشوں کی مختصر کارگزاری سنائی۔
رکن پارلیمنٹ کی تقریر کے بعد “دامن” کے نوجوانوں کے ایک گروپ نے قرآن کے بارے میں نظم پیش کیا۔

مولوی نذیراحمد سلامی کا بیان
خوبصورت نظم سے محظوظ ہونے کے بعد شرکائے تقریب نے سپریم لیڈر کو مانیٹر کرنے والے ٹاپ اسکالرز کے رکن مولوی نذیر احمد سلامی کی باتوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ موصوف نے قرآنی آیت «ان هذا القرآن یهدی للتی هی اقوم» کی تلاوت کرتے ہوئے کہا بغیر کسی جبر کے لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کا یہاں جمع ہوناقرآن کی حقانیت کی دلیل ہے اور یہ ایک قرآنی معجزہ ہے۔ مولوی سلامی نے کہا مسلم امہ کو سوچناچاہیے اس کی کیا مشکلات ومسائل ہیں اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ مسلانوں کو کیسے سوچنا چاہیے اور کس طرح اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے؟
صوبہ سیستان وبلوچستان کی طرف سے منتخب ہونے والے “مجلس خبرگان” کے رکن نے مسلمانوں کے بعض مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا عالم اسلام کو چیلنج کرنے والا ایک خطرہ تبشیر اور تبلیغ عیسائیت ہے۔ عیسائی مشنریاں دھوکہ دہی ومکاری سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ علمائے کرام اور مسلم دانشوروں کو ایسی سرگرمیوں کامقابلہ کرنے کیلیے پلاننگ کرنی چاہیے۔ اگرچہ اب تک اہل علم محدود وسائل کے باوجود قابل ذکر خدمات سرانجام دے رہے ہیں مگر مسلمان معاشرے کی ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔
اسلام اور مسلمانوں کو چیلنج کرنے والی ایک دوسری بلا سکولاریسم (علمانیت) ہے جس کی مختصر تعریف یہ ہے کہ دین کا کاروبار مملکت اور سیاست سے کسی قسم کا تعلق نہیں ہے اور اس کی حدود خالق اور اس کے بندے کے درمیان رابطے تک محدود ہے اور دین مساجد وخانقاہوں تک محدود کوئی چیز ہے۔
انہوں نے کہا اس باطل نظریہ کی تردید میں متعدد آیات قرآنی اور احادیث نبوی موجود ہیں۔ مثلاً یہ کہ اسلام عہد رسالت کے دوسرے حصے میں اور مدنی زندگی کے دوران سیاست میں دخل انداز ہوا اور تمام تر مشکلات کے باوجود پہلی اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی گئی۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اسلام کو سیاست کے میدان میں اتارا۔ فرمان الہی ہے: «ولکم فی رسول الله اسوة حسنة».
ایک اور مقولہ جس کا بڑا چرچا ہے وہ عولمۃ (گلوبلائزیشن) ہے۔ اگرچہ شروع میں اس اصطلاح کا استعمال تجارت کے لیے ہوتاتھا مگر اس کا اصل مقصد عالمی تجارت نہیں عالمی سامراجیت ہے۔ گلوبلائزیشن کا مقصد اپنے عقائد ودیگر اغراض ومقاصد کو عالمی بناناہے۔ لیکن یہ قوتیں اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ اسلام ابتداء ہی سے عالمی رہا ہے جیساکہ قرآن پاک میں آتا ہے: «وما ارسلناک الا کافة للناس…» آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب ہے کہ ہم نے پوری انسانیت کے لیے آپ کو بھیجا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری پیامبر ہیں اور پوری انسانیت کی طرف آپ مبعوث کیے گئے ہیں۔ امت اجابت (مسلمان) اور امت دعوت (غیرمسلم) سب کو آپ کی دعوت شامل ہے۔
تیسری اصطلاح جو آج کل بہت زبانوں پر ہے وہ ڈیموکریسی اور جمہوریت ہے۔ عراق، افغانستان اور اب پاکستان میں جمہوریت نے کیا کارنامے سرانجام دیے وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ جمہوریت بظاہر انتہائی خوش نما اور پرکشش نظر آتی ہے مگر شریعت کی رو سے مغربی جمہوریت مردود اور ناقابل قبول ہے۔اسلام کے نقطہ نظر سے اکثریت اتنا قابل بھروسہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرمایا ہے: «وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللّهِ إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ يَخْرُصُونَ »  اسلام کی رو سے خدا کی حاکمیت لوگوں پر ہونی چاہیے۔
ہماری تاریخ میں بعض اوقات کس قدر افسوسناک واقعات رونما ہوتے ہیں۔ دشمن اختلاف پیدا کرنے اور دوریاں پیدا کرنے میں لگ جاتاہے۔ مثلاً ماضی میں دنیا کے ایک کونے میں خلافت عثمانی قائم تھی جو ایک اسلامی حکومت اور خلافت تھی تو دوسری طرف صفویوں کی حکومت تھی جو خود کو مسلمان کہتے تھے اور ان کا شمار صوفیوں میں ہوتاتھا۔ اہل یورپ نے تفرقہ ڈال کر عثمانی ترکوں اور عربوں کو لڑایا دوسری طرف صفویوں اور عثمانیوں کو ایک دوسرے کے مقابل میں لاکھڑا کیا تا کہ اپنے تیئں اسلام کا نام ونشان مٹاسکیں۔
آخر میں مولوی سلامی نے مذکورہ خطرات سے نمٹنے کا طریقہ بھی بتادیا۔ انہوں نے کہا اسلامی امت کے پاس قرآن وحدیث کے دو عظیم خزانے ہیں۔ پہلی ہجری صدی کے مسلمانوں نے قرآن کی رہنمائیوں پر عمل کرکے دو بڑی طاقتوں کو شکست سے دوچار کردیا۔ آج بھی قرآن اپنی پوری قوت سمیت موجود ہے اگر مسلمان اس پر پوری طرح عمل کرنے والے بن جائیں۔
انہوں نے مزید کہا مسلمانوں کے پاس ایک ظاہری دولت بھی ہے۔ خام تیل مسلمانوں کا سرمایہ ہے۔ اگر مناسب پلاننگ کے ساتھ مسلمان ممالک اس نعمت کو اپنے استعمال میں لائیں تو بہت سارے خطرات کا بآسانی مقابلہ کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔
مولوی سلامی کے بعد دامن سے تعلق رکھنے والے ایک ثقافتی کارکن نے اپنا مقالہ پیش کیا۔
مختصر تاریخ ڈمن اور اس خوبصورت علاقے کے رسم ورواج کا تعارف اور ممکنہ صلاحیتوں کا تذکرہ مقالے کی بنیادی باتیں تھیں۔
انجینئر فروزش کی باتیں
صوبائی دارالحکومت زاہدان سے منتخب رکن پارلیمنٹ انجینئر پیمان فروزش نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تکامل اور کمال تک پہنچنے کیلیے ہمیشہ تلاش وکوشش کرنی چاہیے۔ فروزش نے زور دیتے ہوئے کہا امتیازی سلوک، عہدوں اور ملازمتوں کی تقسیم میں مخصوص قومیت کے لوگوں کو نظرانداز کرنا ایک گونہ آمریت ہے۔ جب مسند اقتدار پر قابض لوگ قومی مفادات پر اپنی ذاتی مفادات کو ترجیح دیں تو یکجہتی کی امید رکھنا ایک فضول آرزو ہے۔
زاہدان سے منتخب رکن قومی اسمبلی نے کہا دینی اور عصری علوم ایک سکہ کے دو رخ کی طرح ہیں، دونوں کی ذمہ داری معاشرے کی اصلاح ہے۔ ہرگز دشمن کو ان دو شعبوں میں تفرقہ پیدا کرنے اور ان کو ایک دوسرے کے مدمقابل کرانے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔
سامراجی طاقتیں مسلمانوں کو دست وگریبان کرانے کیلیے مختلف طور طریقے استعمال کرتی ہیں جیسا کہ شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دیکر فرقہ واریت کو تقویت دیتی چلی آرہی ہیں۔
انہوں نے کہا ہم (اہل سنت) خود کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ کسی کے دین ومذہب کی توہین کریں نہ ہی ہمیں ایسی حرکتیں پسند ہیں۔ نیز کسی اور شخص کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ ہمارے مذہب ومسلک کو نشانہ بناکر زبان درازی کرے۔
انجینئر فروزش نے “ریفارم ایکٹ برائے مساجد ومدارس اہل سنت” کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ ایکٹ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔ اس ایکٹ کا اجراء ملکی آئین کی خلاف ورزی ہے اور ہمارے مذہبی امور میں ناجائز مداخلت کی بدترین مثال ہے۔
آخر میں انجینئر فروزش نے خود اعتمادی،قول وعمل میں سچائی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے محنت کرنا، ہر شعبہ میں عدل وانصاف سے کام لینا اور قانون پر عملدار آمد یقینی بنانے سے امتیازی سلوک کا خاتمہ کرکے معاشرے کو ترقی یافتہ بنایا جاسکتاہے۔

تقریب فارغ التحصیلی میں حضرت شیخ الاسلام کا بیان
تقریب کے مہمان خاص حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم تھے جنہوں نے اپنی تقریر کا آغاز اس قرآنی آیت سے کیا «وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى*قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا*قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسَى» اتنے بڑے مجمع کا اس پہاڑ کے دامن پر اکٹھا ہونا جو صوبے کے کونے کونے سے لیکر پڑوس صوبوں تک کے علاقوں سے یہاں آکر جمع ہوئے ہیں ہماری توقع کے برعکس ہے۔ یقیناًیہ آپ حضرات کی دین دوستی اور علم وعلماء سے محبت کی علامت ہے۔
شروع میں تلاوت کی گئی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے انہوں نے کہا دنیا اپنی ترقی کے عروج پر ہے اس سے پہلے کبھی بھی مادی اور ظاہری اعتبار سے دنیا نے اتنی ترقی نہیں کی ہے مگر دوسری جانب تمام تر ترقی کے باوجود دن بہ دن پریشانیوں اور مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ مسلم اور غیرمسلم، مشرقی ومغربی غرض سارے لوگ عجیب وغریب پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔
ان پریشانیوں کی بنیادی وجہ انسانیت کا انسان ساز کتاب قرآن پاک سے دوری، قرآن کی تعلیمات اور ارشادات کو پس پشت ڈالنا اور اس بابرکت دسترخوان سے فیض نہ لینا ہے۔ لوگ اللہ تعالیٰ سے غافل ہیں۔ اپنے خالق کے حقوق ادا نہیں کررہے ہیں۔ مسلمانوں میں بے نمازی، زکات ودیگر واجبات کی ادائیگی نہ کرنے کی بیماری پھیل چکی ہے۔ گناہ کرنا اور محرمات سے اجتناب نہ کرنا عام ہوچکاہے۔ منشیات کا کاروبار اور استعمال جو معاشرے کیلیے ایک سنگین خطرہ ہے ایک بحران کی شکل اختیار کرچکاہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مغربی ممالک اور قوتوں کی ثقافتی یلغار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا مغرب سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کے ذریعہ غیرت، حیا اور دینداری کا خاتمہ کرنا چایتاہے، حیا سوزمناظر دکھا کر گھرانوں کو اجاڑنا ان کا مقصد ہے۔
حقوق العباد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہر انسان کا حق جس کا وہ مستحق ہے اسے دینا چاہیے۔ میاں بیوی، والدین اور اولاد ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں، غریب ونادار لوگوں کے حقوق بھی پامال نہیں ہونے چاہیے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا حق ادا کرنا اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے اگر ان کا خیال رکھا جائے تو پوری انسانیت سکھ کا سانس لے سکے گی اور آرام وراحت سب کے پاؤں کو چومے گی۔اگر خدا نخواستہ کام الٹا ہوجائے، خدا اور اس کے بندوں کا حق پامال کیا جائے تو زندگی ایک مصیبت بن جائے گی لیکن اچھے اعمال اور اللہ کو یاد کرنے سے عافیت کی زندگی ملے گی۔
ایرانی اہل سنت کے مذہبی رہ نما نے اپنے بیان کے دوسرے حصہ میں شیعہ سنی اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اسلام ایک وسیع دامن دین ہے ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کا دامن تنگ دکھا کر اہل قبلہ فرقوں کو دین کے دائرے سے نکال دیں۔ آپ نے قومی سلامتی کو انتہائی اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کی رعایت پر زور دیا۔
ایرانی اہل سنت والجماعت برادری کے مطالبات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم اصرار کے ساتھ کہتے چلے آرہے ہیں کہ ہمارے قانونی حقوق ہمیں ملنے چاہیے۔ سنی برادری امتیازی سلوک کا نشانہ بنتی چلی آرہی ہے۔ ہمارا جائز مقام ہمیں نہیں دیا گیا ہے۔ ان تیس سالوں کے دوران بڑے ملکی عہدوں کو اہل سنت کے لیے شجرہ ممنوعہ قرار دیاگیا ہے جبکہ لوکل اور مقامی مناصب میں ہمارا حصہ انتہائی محدود رکھا گیاہے۔ اہل سنت کے ایرانی ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ ایران کے سنی مسلمانوں سے بڑھ کر کوئی ایرانی نہیں ہوسکتا۔ یہی اہل سنت کے جاں نثار ہی تو تھے جنہوں نے اپنے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انگریز سمیت ہر سامراجی اور اجنبی قوت کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک کو دراندازیوں سے بچالیا اس لیے ان کے باصلاحیت افراد کو ہرگز نظراندازنہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنا مستقبل روشن دکھائی دینا چاہیے، اس سوچ اور رجحان کہ ہمارے بچے جتنی محنت کریں، کتنے ہی ٹیلنٹ کیوں نہ ہوں پھر بھی سنی ہونے کی وجہ سے ان کا کوئی مستقبل نہیں اور ان سے کام نہیں لیا جائے گا کو ختم کرنا چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا شمار دنیا کے بہترین آئین اور یہ قوانین میں ہوتاہے۔ جنہوں نے یہ آئین مرتب کیا ہے شیعہ سنی کی تفریق سے بالاتر ہوکر یہ کام سرانجام دیا ہے مگر جو بات ہمارے لیے پریشانی اور ربخش کا باعث ہے وہ اس آئین کی ناقص تنفید ہے۔ آئین کو پوری طرح نافذ نہیں ہونے دیا جارہاہے۔ سنی مسلمانوں کے آئینی وقانونی حقوق کو مسلسل نظرانداز کیا جارہاہے۔ یہ شکوہ صرف میرا نہیں بلکہ اہل سنت کا فرد فرد اس امتیازی سلوک سے نالان ہے۔ ہم اس سسٹم کے خیرخواہ ہیں، شیعہ، سنی اور حکام سمیت سب کی بھلائی کو چاہتے ہیں اور اسی نیت سے ہماری نصیب ہے کہ لوگوں کی شخص وقانونی آزادیوں کو سلب نہ کیا جائے۔ خواہ مخواہ دباؤ نہ ڈالا جائے۔ اسلام اور ملکی آئین کے دائرہ میں رہ کر ذرائع ابلاغ، اخبارات ودیگر نشریاتی ادارے جتنے آزادہوں گے اتناہی ملک مضبوط ہوگا اور ترقی پالے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران میں جائز تنفید کو برداشت کرنی چاہیے۔ تنفید کرنے والوں کی آواز دبانے کے بجائے ان کی بات سنی جائے اور اشکالات دور کیے جائیں۔ حکومت کو جوابدہ ہوناچاہیے۔
گفت وشنید اور مذاکرات کے ذریعہ مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔ ہمارے خیال میں حکومت اور اسلامی جمہوریہ کی بعض پالیسیاں ناکامی سے دچار ہوچکی ہیں اور ان پر نظر ثانی کرکے ان میں تبدیلی لانی چاہیے۔ جیسا کہ اہل سنت کے حوالے سے تنگ نظری سے کام لیا جاتاہے اور کلیدی عہدوں پر انہیں فائز نہیں ہونے دیاجارہاہے۔ اسی طرح صدارتی انتخابات کے بعد رونما ہونے والے واقعات حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیش آئے۔ ان واقعات وحادثات کے رونما ہونے کے بعد اصحاب حل وعقد کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا مسلح اداروں میں بھی اہل سنت کے باصلاحیت افراد کو بھرتی کرنا چاہیے۔ اس نظام حکومت سے پہلے شاہ کے دور حکومت میں سیکورٹی اور مسلح اداروں میں سنی برادری کی بڑی تعداد بڑے عہدوں پر فائز تھی اس سسٹم میں بھی سنی مسلمانوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں بیدخل کرکے ملک کے دفاع کرنے والے اداروں سے نہ نکالا جائے۔ ہم بھی اپنے وطن کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔
اس لیے حکام بالا سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اہل سنت کے حوالے سے اپنی امتیازی سلوک پر مبنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ اگر ہماری سڑکیں سونا چاندی سے پختہ بنائی جائیں ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ امتیازی سلوک کا خاتمہ ہی واحد حل ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مذہبی آزادی کو اہل سنت والجماعت ایران کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہم بغیر کسی رکاوٹ کی اپنے بچوں کو ایران کے کسی بھی علاقے میں دینی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ پنج وقتہ نمازیں، عیدیں اور جمعہ کی نماز آزادانہ طور پر ہمیں اداء کرنے دیا جائے۔ ہمارے دینی مدارس خود مختار اور مستقل رہنے چاہیے۔ کسی بھی سرکاری ادرے یا تنظیم کو ہمارے مدارس اور مساجد کے داخلی مسائل اور طریقہ کار میں مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ سب ہمارے قانونی حقوق ہیں اور کسی بھی صورت میں ہم اپنے قانونی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
چند رکن پارلیمنٹ کے سوا مرکز میں اہل سنت کا کوئی نمایندہ نہیں ہے جس کے ذریعہ ہم حکام بالا کو اپنے مسائل سے آگاہ کریں۔ مقامی حکام کے اختیارات بالکل محدود ہیں ہمارے خیال میں تہران میں ہمارے نمایندے اگر موجود ہوں تو ان کے ذریعہ براہ راست ہم اپنی بات آگے پہنچاسکتے ہیں اور مسائل کے حل میں آسانی ہوگی۔ امید ہے اللہ تعالیٰ اسلامی وطن کی حفاظت فرمائے اور قانون کی بالا دستی اور عدل وانصاف کی فراہمی سے ملک مزید مستحکم ہو۔
آخر میں حضرت شیخ الاسلام نے حاضرین مجلس خاص طور پر دامن کے باشندوں کو طلب علم اور علمی میدانوں میں مزید ترقی حاصل کرنے کی ترغیب دی۔
حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم کی تقریر اس قرآنی ومعنوی تقریب کا اختتامی بیان تھاجو شاندار پروگرام ثابت ہوا۔
اس کے بعد فاضلہ بنات کے نام سنائے گئے۔ جمعہ کا خطبہ حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے پڑھ کر جمعہ کی امامت کی۔ جمعہ کی نماز کے بعد اس نورانی وروحانی تقریب کا اختتام حضرت شیخ الاسلام کی دعا سے ہوئی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں