آج : 21 January , 2010

علماء کرام کی یمنی فوج اور حوثیوں کے درمیان لڑائی ختم کرانے کی کوشش

علماء کرام کی یمنی فوج اور حوثیوں کے درمیان لڑائی ختم کرانے کی کوشش
olama-yemenدبئی – العربية.نیٹ: بین الاقوامی علماء لیگ نے یمن میں حکومتی فوج، حوثیوں اور جنوبی یمن میں حکومت مخالف تحریک ختم کرانے کے لئے ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ علماء لیگ کی انتظامی کونسل کے اجلاس میں پیش کئے جانے والے اس منصوبے کا مقصد یمن کی وحدت، مسلمانوں کو خون خرابے سے بچاتے ہوئے علاقے میں بیرونی عمل دخل کے آگے بند باندھنا ہے۔

علماء کی اس کوشش کے رابطہ کار ڈاکٹر محی الدین قرہ داغی نے العربیۃ۔نیٹ سے بات کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ کوارڈینشن کے بعد علماء لیگ کا ایک وفد ان تینوں فریقوں سے ملاقات کے لئے آئندہ چند روز میں یمن کا دورے کرے گا۔
وفد کی صدارت عالم اسلام کے نامور اسکالر علامہ شیخ یوسف قرضاوی کریں گے جبکہ شیخ عبداللہ بن بیہ، شیخ سلمان العودۃ، شیخ احمد بن حمد الخلیلی، شیخ محمد علی التسخیری اور ڈاکٹر علی القرہ داغی بطور رکن مصالحتی وفد میں شامل ہوں گے۔
العربیۃ سے خصوصی بات کرتے ہوئے ڈاکٹر القرہ داغی نے کہا کہ “مسلم علماء کی بین الاقوامی لیگ عربوں کو متحد دیکھنا چاہتی ہے۔ ہمارا مقصد ہے کہ مسلمانوں کا خون ناحق بہنے سے بچایا جائے۔ تنظیم نے بہت سے ملکوں کے داخلی تنازعات کے حل کی خاطر ایسے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔ یمن میں مسلم خون کی ارزانی دیکھ کر کوئی بھی خوش نہیں ہے۔ ہم نے خون ریزی روکنے کے لئے باہم دست و گریبان فریقوں کے درمیان تنازعات ختم کرانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے اس اقدام کو”علمائے دین کی عوامی کوشش” کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ ہمارا مصالحتی اقدام دراصل مصر، عراق اور دوسرے مختلف ممالک کی جانب سے پہلے سے کی جانی سیاسی کوششوں کا تتمہ ہو گا۔ پہلے کی جانے والی ان سیاسی کوششوں میں ناکامی ہمارے راستے کی دیوار نہیں بن سکتی۔ ہماری تحریک کا منتہی و مقصود یہ ہے کہ کسی طرح فریقین کے درمیان لڑائی بند کرا کے اسے مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
یمنی حکومت کی جانب سے علماء لیگ کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر داغی نے کہا کہ “ہم نے اپنے مصالحتی منصوبے کے اعلان سے پہلے تنظیم کا ایک وفد یمن بھجوایا تھا جس نے نائب صدر سے ملاقات کر کے اس پلان کی قبولیت کے لئے راہ ہموار کی تھی۔ اس وقت ہمارا وفد یمنی حکومت، حوثیوں، اور جنوبی یمن میں جاری تحریک کے ذمہ داروں سے مجوزہ منصوبے کی سرکاری سطح پر توثیق حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔”
سعودی حکومت کے اپنے سرحدی علاقے میں حوثیوں کے خلاف آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر داغی کا کہنا تھا کہ وہاں کی صورتحال مکمل طور پر مختلف ہے۔ سعودی عرب اپنی سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر دراندازوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے تا کہ اس کی حاکمیت کا تحفظ کیا جا سکے لیکن یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ وہاں کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس لئے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جانا چاہیئے تاکہ مسلسل جاری لڑائی کا خاتمہ ہو سکے۔
حوثی، شمالی یمن کے ضلع صعدہ میں سرگرم، باغی تحریک ہے۔ اس کے سربراہ بدر الدین الحوثی ہیں، تنظیم کو حوثی جماعت یا الشباب المومن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ عملی طور پر یہ تنظیم حکومتی افواج کے ساتھ سنہ 2004ء کے ساتھ پہلے پہل ہونے والی جھڑپوں کے بعد منظر عام پر دکھائی دی تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی تحریک 80 کی دھائی سے ملک میں موجود ہے۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کا باغیانہ طرز فکر دراصل یمنی حکومت کے نسل پرستانہ اور ظالمانہ اقدامات کا ردعمل ہے جبکہ حکومت کا الزام ہے کہ حوثی گروپ حکومت کا تختہ الٹ کر اس کی جگہ امامت کی بنیاد پر شیعہ حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔
گذشتہ برس دسمبر کے مہینے میں حوثیوں اور سعودی عرب کی مسلح افواج میں جھڑپیں ہوئیں کیونکہ بہ قول سعودی عرب حوثیوں نے لائن آف کنٹرول پار کر کے سعودی حاکمیت اعلی کی خلاف ورزی کی۔ اس کے بعد سعودی حکومت نے حوثیوں کے خلاف کھلی جنگ کا آغاز کیا جس کا مقصد انہیں سعودی سرزمین سے بیدخل کرنا تھا۔ سعودی عرب نے اپنی سرحد میں حوثی گھس بیٹھیوں کے خلاف جنگ بندی کے لئے شرط عائد کی ہے کہ حوثی باغی یمنی سرحد میں دسیوں کلومیٹر اندر واپس چلے جائیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں