آج : 21 January , 2010

امداد بھی لیتے اور احتجاج بھی کرتے ہیں!

امداد بھی لیتے اور احتجاج بھی کرتے ہیں!
emdad-pakistanسامراج کوئی بھی ہو، کسی بھی شکل میں ہو، کسی بھی زمانے میں ہو، اس کی نفسیات کم و بیش ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ ان سامراجی قوتوں کی دوسرے ملکوں اور افراد کے ساتھ تعلقات کی نوعیت آقا اور غلام کی ہوتی ہے۔ برابری کے تعلقات جیسا لفظ ان کی لغت میں ناپید ہوتا ہے۔ ان کی محبت ، نفرت ، تعاون ، سرمایہ کاری ، گہرے روابط، اسٹرٹیجک، پارٹنر شپ ، معاشی، ثقافتی ، تجارتی اور دفاعی تعلقات اور معاہدوں کے پیچھے صرف اور صرف ایک جذبہ ہی کارفر ما ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے دوسری قوموں کو اپنی غلامی کے شکنجے میں جکڑ لیا جائے اور پھر ان کو اپنے مفاد کے تحت ہر کام کرنے پر مجبور کردیا جائے۔ سامراجی ممالک اپنے ان مقاصد کے حصول کے لئے سب سے پہلے تو طاقت اور دھمکی سے کام لیتے ہیں، معاشی امداد دیتے ہیں، دفاعی اور فوجی معاہدے کرتے ہیں، مارکیٹ پر قبضہ کرتے ہیں۔ اپنی اشیاء خریدنے اور برآمد کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

دوسرے ممالک میں ترقی اور مدد کے نام پر منصوبے شروع کرتے ہیں اور ان منصوبوں کے ساتھ اپنے اہم لوگوں کو وہاں تعینات کردیتے ہیں جو ان منصوبوں کے لئے دی جانے والی امداد کا 60، 70 فیصد اپنے اوپر خرچ کرکے واپس بھجوادیتے ہیں۔ یہ لوگ اس ملک کا دماغ خریدتے ہیں، اہم لوگوں کی قیمت کھاتے ہیں لیکن جب یہ قوتیں اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول میں حائل رکاوٹیں دیتی ہے تو ان کا غصہ اور ردعمل دیدنی ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک دوسرے غلام ممالک اور قوموں کی کوئی خود داری ، خودمختاری ، غیرت ، انا ، عزت اور آزادی نہیں ہوتی۔ وہ معاشی امداد بظاہر تو ترقی کے لئے دے رہے ہوتے ہیں لیکن اصل میں وہ اس کے عوض خودداری ، آزادی اور غیرت خرید رہے ہوتے ہیں۔
رچرڈ ہالبروک ایسے ہی غصے میں نہیں آئے۔ یہ ردعمل دراصل سامراج کی اس نفسیات کا مظہر ہے جو تاریخ میں مسلسل تباہی ہے۔ ہالبروک صاحب حیران ہے کہ ایک طرف تو یہ لوگ ہم سے امداد لے رہے ہیں دوسری طرف ڈرون حملوں اور پاکستانیوں کے لئے اسکریننگ کے امتیازی قوانین بنائے ہیں اور ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے بھی رو رہے ہیں۔ ان کی یہ جرأت ، اگر ایسا ہے تو امداد کیوں لے رہے ہیں، امداد نہیں لینی تو نہ لیں۔ ان کو سخت حیرانی ہو رہی ہے کہ امداد لینے کا مطلب تو خودداری، عزت، خودمختاری اور غیرت کو گروی رکھ دینا ہوتا ہے پھر یہ قوم امریکہ کے خلاف کیوں ہے اور ڈرون حملوں ، امریکی ایئرپورٹس پر اسکریننگ کے امتیازی قوانین کے خاتمے اور ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے مطالبے کیوں کررہی ہے۔ یہ قوم امریکی ایجنسیوں کے افراد اور امداد کے ساتھ پاکستان میں آنے والے امریکی افراد کی تلاشی اور پاکستانی قوانین کی پاسداری کرنے پر مصر کیوں ہے؟ وہ اسی حیرانی میں اور پاکستانی قیادت کو بغیر کوئی یقین دہانی کرائے افغانستان سدھارگئے۔
ہمیں اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ ہالبروک ڈرون حملے ختم کرادیں گے یا پاکستانیوں کے لئے تلاشی کا امتیازی قانون ختم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وہ اپنی اس پالیسی پر گامزن ہیں جو انہوں نے ”نائن الیون“ کے فوراً بعد شروع کردی تھی اور اپنے ایک ایجنٹ کے ذریعے اس ملک میں تباہی کے کھیل کا آغاز کردیا تھا۔
اصولی طور پر تو پاکستانی سیاستدانوں کو امریکی سفارت خانے میں جاکر ہالبروک سے ملنا ہی نہیں چاہئے تھا۔ انہیں اس طرح کی ملاقات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے تھا جس طرح مولانا فضل الرحمٰن نے کیا ہے۔ مولانا نے شاید پہلی دفعہ ایک ایسا کام کیا ہے جس پر بے اختیار ان کی تحسین کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔ انہوں نے یہ کام کرکے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ ہالبروک سے اس طرح کی ملاقاتوں کا سلسلہ فوری بند کردینا چاہئے اور ہمیں اب اپنے جذبات کو فوری طور پر عملی شکل دینی چاہئے۔ انہیں جرأت اور غیرت کا لباس پہنا کر امداد کے طعنے کو اسی کے منہ پر مار دینا چاہئے بالکل اسی طرح جس طرح لیبیا کے صدر معمر قذافی نے کیا ہے اس نے اپنی تمام تر کمزوریوں اور مرعوبیت کے باوجود امریکی سفیر کو طلب کرکے اس پر واضح کردیا ہے کہ اگر امریکی ایئرپورٹس پر لیبیا کے شہریوں کی جامہ تلاشی لی گئی تو لیبیا میں بھی امریکی مسافروں کے ساتھ ایسا کیا جائے گا۔ اس نے امریکی سفیر کے سامنے مطالبہ نہیں کیا بلکہ اسے اپنا فیصلہ سنایا ہے اور اس فیصلے پر اب عملدرآمد بھی ہوگا۔ ہماری پارلیمینٹ نے بھی 22/اکتوبر 2008ء کو ایک زبردست قرار داد منظور کی تھی جس میں عہد کیا گیا تھا کہ امریکہ کو پاکستان کی سلامتی کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس قرارداد میں تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر یہ حملے بند کرائے لیکن پاکستان کے سب سے نڈر اور طاقتور ادارے پارلیمینٹ کی قرارداد پر حکومت کی جانب سے عملدرآمد نہ کیا جاسکا۔ ہماری حکومت اسی طرح امریکہ کی باجگزار بنی رہی جیسے مشرف حکومت تھی۔ یہ حکومت اسی طرح امریکی اہلکاروں کی خوشنودی اور چند ٹکوں کی امداد کے عوض اپنی خودداری، خودمختاری اور غیرت کو گروی رکھنے پر مجبور رہی جس طرح مشرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے سب کچھ کرتا رہا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اکتوبر 2006ء میں قومی سلامتی سے متعلق ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کی جس نے ایک سال تین مہینوں کے بعد اپنی سفارشات پیش کی ہیں۔ اس ایک سال اور تین مہینے کے دوران کیا کچھ نہیں ہوا۔ 20 سے زیادہ ڈرون حملے ہوئے جس میں دو ہزار سے زائد بے گناہ افراد مارے جاچکے ہیں۔ ان ڈرون حملوں کے ردعمل کے طور پر پاکستان کے مختلف شہروں میں ایک سو زائد بم دھماکے ہوچکے ہیں جن میں تین ہزار سے زائد بے گناہ افراد شہید ہوچکے ہیں۔ کتنے گھر تباہ اور کاروبار ختم ہوچکے ہیں۔ انفراسٹرکچر، صنعت اور روزگار تباہی کے دہانے پر ہے۔ پاکستان کی معیشت کو گزشتہ دو سالوں میں مجموعی طور 35/ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں۔ ہم نے اس عرصے میں محض چند سفارشات کے ٹکڑے تیار کئے ہیں جن کا امریکی حکومت کوئی نوٹس لے رہی ہے اور نہ پاکستانی حکومت میں کوئی مصمم ارادہ اور عمل نظر آرہا ہے۔ یہی وہ وجہ ہے جو امریکی اہلکاروں کے ایسے رویّے کی بنیاد بن رہی ہے وہ یونہی ہمیں اور ہمارے مطالبات اور امنگوں کو غیرسنجیدہ نہیں لے رہے۔ وہ یہاں آتے ہیں ملتے ہیں، باتیں سنتے ہیں، ہوں ہاں کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ عملی طور پر وہی کچھ ہو رہا ہے جو وہ چاہ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی حکومت ایسے مطالبات محض اپنے عوام کو خوش کرنے کے لئے کرتی ہے جبکہ خفیہ طور پر اس نے امریکہ کو ڈرون حملوں وغیرہ کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس بات کا انکشاف ان کے سینٹرز اور میڈیا متعدد بار کر بھی چکا ہے۔
کاش کوئی میرے ملک کے حکمرانوں کو جاکر یہ بھی بتادے کہ ملکوں کی سلامتی ، خودمختاری اور غیرت کا تحفظ محض لفظوں ،قراردادوں ، بیانات اور تقریروں سے نہیں ہوتا۔ اس کیلئے جرأت اورعزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ عملی طور پر کچھ کرنا ہوتا ہے۔ چند ٹکوں اور خوشنودی سے یہ کام نہیں ہوتے۔ اس کیلئے جرأت رندانہ چاہئے، وہی جرأت جو معمر قذافی جیسا کمزور حکمران دکھا رہا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ گومگو کی پالیسی سے نکل کر سچ بولنا ہوگا۔ اپنے آپ کیساتھ بھی اور قوم کے ساتھ بھی خواہ اس کے لئے چند روز اقتدار اور دو ٹکوں کی خیرات کو ٹھکرانا ہی کیوں نہ پڑجائے۔
غضنفر ہاشمی

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں