آج : 5 January , 2010

خاندانی منصوبہ بندی کا مسئلہ

خاندانی منصوبہ بندی کا مسئلہ

naslاس مسئلے کی کئی صورتیں ہیں جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
۱۔ خاندانی منصوبہ بندی (فیملی پلاننگ) ذاتی طور پر اگر ہو تو میاں بیوی کے اختیار واجازت سے جائز ہے۔ احادیث کے نصوص اس امر کیخلاف نہیں چونکہ عورتوں سے عزل، رسول اللہ صلیٰ الله علیہ وسلم کے دور میں رائج تھا۔

۲۔مانع حمل کے جدید آلات کا استعمال عارضی طور پر جائز ہے۔ جیسا کہ مانع حمل کی گولیاں، ڈائفریگم و غیرہ۔ ان کا استعمال اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ زوجین میں بچہ پیدا کرنے اور جننے کی صلاحیت باقی رہے کلیۃً یہ صلاحیت ختم نہ ہو۔ جیسا کہ مانع حمل اشیاء کا عارضی استعمال ماں کی صحت کے پیش نظر اور دو پیدائشوں کے درمیاں فاصلہ رکھنے کے لیے ہوا کرتاہے۔
۳۔ فیملی پلاننگ کے جبری نفاذ اور غربت و افلاس کے خوف سے اس حوالے سے قانون سازی کرنا شریعت کی منافی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:<< وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا>> ، << وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُم إنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْءًا كَبِيرًا>>
۔ نیز قانون، افراد اور خاندانوں کے ذاتی ارادوں پر نافذالعمل نہیں ہوتا۔
۴۔ میاں بیوی میں سے کسی ایک کا خود کو عقیم کرنا اور بچہ جننے اور پیدا کرنے کی صلاحیت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا حرام ہے۔ (الفتاویٰ للشعراوی: 3/30)
۵۔جب چار مہینہ جنین کی عمر سے گزر جائے شریعت کی رو سے اس کا اسقاط حرام اور ناجائز ہے۔مگر شدید ضرورت کی صورت میں جیسا کہ ماں کی جان خطرے میں ہو تو اس کی جان بچابے کے لیے اسقاط کا حکم اباحت و کراہت کے درمیان ہے۔ (الفتاویٰ الاسلامیۃ: 9/3087فتوا نمبر 11990)

محمود الفتاوی 4/244 کتاب الحظر و الاباحۃ
دارالافتاء دارالعلوم زاهدان


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں