آج : 11 January , 2010

ایران: شورائے مدارس اہل سنت کا اجلاس منعقد ہوا

ایران: شورائے مدارس اہل سنت کا اجلاس منعقد ہوا
shoraزاہدان (سنی آن لائن): شورائے ہم آہنگی مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان سے منسلک دینی مدارس کے منتظمین کا اجلاس دارالعلوم عین العلوم گشت، سراوان میں منعقد ہوا۔

تعلیمی سال 31۔1430 کا پہلا اجلاس صوبے کے ممتاز علمائے کرام اور مساجد کے خطباء کی موجودگی میں منعقد ہوا۔ اس فورم کا سالانہ تین اجلاس بلایا جاتاہے جو شورائے مدارس سے منسلک کسی دینی مدرسے میں منعقد ہوتاہے۔
اس سال کا پہلا اجلاس عین العلوم گشت ضلع سراوان میں بلایا گیاہے جہان علمائے کرام اور اہل مدارس نے عین العلوم کے شیخ الحدیث ومہتمم مولانا سیدمحمدیوسف حسین پور دامت برکاتہم کی عیادت بھی کی۔ مولانا حسین پور علاج کے غرض سے باہر ملک تشریف لے گئے تھے جو کئی دنوں کے بعد واپس وطن تشریف لاچکے ہیں۔
6 جنوری بروز بدھ کو منعقد ہونے والے اجلاس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا جس کے بعد صدر شورائے مدارس شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کے بیان سے اجلاس کی پہلی نشست کا آغاز ہوا۔ شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے قرآن پاک کی آیت {انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء} اور ارشاد نبوی {العلماء ورثۃ الانبیاء} کو مدنظر رکھ کر علمائے امت اور مذہبی رہ نماؤں کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے علمائے کرام کی ذمہ داریوں کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا علمائے کرام کی ذمہ داری اور انبیاء علیہم السلام کی ذمہ داریوں میں مماثلت ہے۔ اس لیے علمائے کرام کرام أعبد الناس، اخشی الناس اور اتقی الناس ہونا چاہیے۔ خوف خدا، خشیت الہی اور تقوا کے آثار ان کے چہروں پر نمایاں نظر آنے چاہییں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور درد امت ہمیشہ ان کے دلوں میں ہونا چاہیے۔ اہل علم کا سب سے خوبصورت لباس اور دستار تقوا، پرہیزکاری اور خداترسی ہے۔ علمائے کرام انبیاء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور ان کی دنیا وآخرت کا خیرخواہ بنیں۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا علما اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاشرے کے تمام طبقوں اور حلقوں سے رابطے میں رہیں اور ان کے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کریں۔ اصلاح وتزکیہ علمائے کرام کی اہم ذمہ داریوں میں سے ہے۔
آخر میں صدر شورائے مدارس اہل سنت نے علمائے کرام خاص طور پر دینی مدارس کے منتظمین ومہتممین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ اپنے مدرسوں کو چلانے کے لیے سخت مالی مشکلات ومسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، جب اس حوالے آپ اتنی تکالیف برداشت کرتے اور مشکلات جھیلتے ہیں تو آپ کو چاہیے اس سے کہیں زیادہ طلبہ کی صحیح تربیت، اصلاح اور تزکیہ پر توجہ دیں تاکہ مستقبل میں یہ طلبہ اسلامی معاشرے کے خیرخواہ داعی اور مصلح عالم دین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری پوری کرسکیں۔
اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث مولانا محمدیوسف حسین پور نے علمائے کرام اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جو سفر کی مشکلات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دوردراز علاقوں سے سراوان آئے ہوئے تھے۔
عین العلوم گشت کے مہتمم نے کہا مسلمانوں کی ابتر صورتحال کا تقاضا ہے علمائے کرام پہلے سے زیادہ اتحاد و یکسوئی کے ساتھ مختلف علمی، تبلیغی واصلاحی میدانوں میں کردار ادا کریں اور عوام کی اصلاح و ارشاد پر خصوصی توجہ دیں۔
اجلاس کے دوران دینی مدارس کے مہتممین اور علمائے کرام نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ علمائے کرام نے بالاتفاق حکومتی ایکٹ برائے اصلاح مدارس ومساجد اہل سنت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اہل مدارس اور مساجد کے خطباء نے اس مشکوک ایکٹ کے نفاذ کو مذہبی امور میں واضح مداخلت اور ایران کے آئین کے متعدد آرٹیکلز کے خلاف قرار دیا۔
علمائے کرام نے نام نہاد ریفارم ایکٹ کے نفاذ کو مسلمان فرقوں میں اختلاف ڈالنے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کا نقطہ آغاز قرار دیا۔
اجلاس کے اختتام حکومت کے نام ایک مشترکہ خط پر دستخط کرنے سے ہوا جس میں ایرانی حکام سے مطالبہ کیا گیا مذکورہ ایکٹ کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔ ایک سو سے زائد علمائے کرام نے حکام بالا سے مطالبہ کیا اہل سنت کے مدارس ومساجد کو اپنی تحویل میں لینے کی کوشش نہ کریں، یہ ادارے مستقل ہی رہیں گے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں