اسلام میں خواتین کے حقوق

اسلام میں خواتین کے حقوق
neqabدنیا کی معلوم تاریخ پر نظر ڈالیں یا دوسرے مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس میں عورت کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ ہر دور میں خواتین کی حیثیت مردوں کے مقابلے میں بہت ہی کم تر نظر آتی ہے ۔ ان کو معاشرے میں نہایت گھٹیا مقام دیا جاتا تھا۔ اہل مذہب ان کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیتے تھے اور ان سے دور رہنے میں عافیت محسوس کرتے تھے ۔ اور اگران سے کچھ رابطہ یا تعلق ہوتا بھی تو ایک ناپاک او ر دوسرے درجے کی مخلوق کی حیثیت سے ہوتا جوصرف مردوں کی ضروریات کو پورا کرنے لیے پیدا کی گئی تھی۔ یونانی اساطیر میں ایک خیالی عورت پانڈورا کو تمام انسانی مصائب کا ذمہ دار ٹھرایا گیا تھا۔ اسی طرح یہود و نصاریٰ کی مذہبی خرافات میں حضرت حوا علیہا السلام کوحضرت آدم علیہ السلام کے جنت سے نکالے جانے کا باعث قرار دیا گیا تھا۔چنانچہ عورت پر بہت طویل عرصہ ایسا گزرا کہ وہ کوئی قابل لحاظ مخلوق نہ تھی۔ یہ اسلام ہی کا کارنامہ ہے کہ حواء کی بیٹی کو عزت و احترام کے قابل تسلیم کیا گیا اور اس کومرد کے برابر حقوق دیے گئے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کی ابتدا ہی عورت کے عظیم الشان کردار سے ہوتی ہے۔

اسلا م کا آغاز حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی لازوال اور بے مثل قربانیوں سے ہوتا ہے ۔اس وقت ضعیف و ناتواں سمجھی جانے والی صنف نازک عزم و ہمت کا کوہ گراں اورحوصلہ افزائی کا سرچشمہ بن کرنبوت محمدی کا سہارا بن جاتی ہے۔ جب پہلی وحی نازل ہوئی اور غار حراء سے نکل کر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لائے تو گھبراہٹ اور پریشانی کے سائے آپ کا پیچھا کر رہے تھے مگرسیدہ خدیجہ اپنے شوہر کی پاکبازی، بلند اخلاق اور انسان دوست کردار کی گواہ بن کر نبوت پر سب سے پہلے ایمان لے آئیں اور فرمایا کہ ’’اے مجسمہ صدق و امانت! اللہ تعالیٰ آپ جیسے بلند کردار کو کبھی پریشانی اور گھبراہٹ کے سایوں کے سپرد نہیں کرے گا۔ انہوں نے اپنا وقت ،مال اور جان، سب کچھ اسلام پر نچھاور کردیا۔یہاں تک کہ اسلام کے راستے میں پہلے شہید حضرت حارث بن ابی ہالہ نے حضرت خدیجہ کی کوکھ سے جنم لیا تھا۔وہ آپ کے سابق شوہرسے تھے اور نبی مہربان کی گود میں پلے تھے۔
ایک عورت کا مقام دیکھنا ہے تو پھر اللہ کے فرمانبردار بندے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فرمانبردار بیوی حضرت حاجرہ کو دیکھیں ۔ انھوں نے اللہ اور اپنے خاوند کے حکم کی تعمیل میں بے آب وگیاہ وادی میں رہنا قبول کرلیا تھا۔پھر جب وہ اسماعیل علیہ السلام کے لیے ،پانی کی تلاش میں دیوانہ وار صفا اور مروہ کے درمیان دوڑیں تو اللہ نے ان کی فرمانبرداری اور خلوص کی قدر کرتے ہوئے، ان کے اس عمل کی تقلید قیامت تک کے لیے تمام مردوں اور عورتوں پر لازم کردی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں مسلم خواتین نے زندگی کے ہر شعبہ میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ علم سیکھنے سکھلانے کا میدان ہو یا معاشرتی خدمات کا میدان، اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع ہو یا سیاست و حکومت کے معاملات ہوں، سب میں خواتین کا واضح، روشن اور اہم کردار ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں صحابہ کرام اور صحابیات سب ایک ساتھ شریک ہوتے تھے اور دین کی باتیں پوچھتے اور سمجھتے تھے۔ جب خواتین نےنبی کریم سے شکایت کی کہ خواتین سے متعلق کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہم اپنے باپ دادا اور بھائیوں کی موجودگی میں نہیں کرسکتیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین کے لئے ایک دن الگ سے مخصوص کردیا جس میں مرد شریک نہیں ہوتے تھے۔ اس طرح خواتین ہفتے میں چھ دن مردوں کے ساتھ اور ایک دن الگ سے حاضر ہو کر اپنے مسائل کا حل پوچھتی تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم کے نزدیک خواتین کی تعلیم و تربیت مردوں سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔
خصوصی حالات ،مثلا،میدان جنگ میں مسلم خواتین، مجاہدین کو پانی پلاتی تھیں، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور اس کار خیر میں کسی بڑے یا چھوٹے کی تفریق نہیں تھی ۔حتی کہ غزوہ احد میں حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ بھی اس کار خیر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے موجود تھیں۔ اسی طرح علم کی تدریس، تعلیم کے فروغ اور حدیث کی روایت میں ابتدائی دور کی مسلم خواتین نے سرگرم کردار ادا کیا۔
اسلام نے عورت اور مرد کے دائرہ کا ر کو الگ الگ کر کے عورت کو گھر کے اندر عزت و احترام کا مرتبہ دیا ہے۔ چونکہ مرد تخلیقی اعتبار سے مشکلات اور صعوبتیں برداشت کرنے کے قابل ہے اس لیے اسلام نے معاشی مسائل کی تمام ذمہ داری مرد پر عائد کرکے گھریلو معاملات کو عورت کے سپرد کیا ہے۔اللہ نے مرد کو فیصلے کی قوت عطا فرمائی ہے۔کیونکہ کوئی نظام بھی کسی صاحب امر ،منتظم یا امیر کے بغیر نہیں چل سکتا ،اس لیے خاندان کے معاملات میں مرد کو امیر یا حاکم بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ باقی تمام معاملات میں عورت کو مرد کے مساوی حقوق دیے گئے ہیں۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:
لَہُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوف
دستور کے مطابق عورتوں کے تم پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے تمہارے ان پر ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن جزا اور سزا کے معاملے میں بھی عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔ ارشاد ہے:
”من عمل صالحاً من ذکر اوانثیٰ وھو مومن فلنحیینّہ حیاۃ طیّبۃ ولنجزینّھم اجرھم باحسن ما کانوا یعملون ”
جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو ہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے اور انھیں ان اعمال سے بہتر جزا دیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے تھے ”۔
اسلام بغیر کسی رکاوٹ کے عورت کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ ہر قسم کے مالی معاملات انجام دے اور عورت کو اس کے سرمایہ کا مالک شمار کرتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے
لِلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ
“مردوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے کمایا ہے اور عورتوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے کمایا ہے“۔
اہل مغرب نے عورت کو مادر پدر آزادی دے کر اس کا استحصال کیا ہے۔اس پر گھر اور گھر کے باہر دوہری ذمہ داریاں ڈال دی ہیں۔ اس کے برعکس اسلام نے عورت کو عزت اور احترام کا مقام دیا ہے۔ اس کو ماں بنا کر جنت کا سرچشمہ،بہن بنا کر ایثار و قربانی ،محبت اور الفت کا پیکر،بیٹی بنا کراللہ کی رحمت کا عملی اظہاراوربیوی بنا کر راحت و سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے۔اسلام نے گھر کے اندر رہ کر آنے والی نسلوں کے کردار و اخلاق کی تعمیر عورت کے سپرد کی ہے۔یہ ایک ایسی عظیم ذمہ داری ہے جو کسی قوم کی بقا اور استحکام کی پہلی شرط ہے۔ دنیا میں وہی قوم اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے جس کی خواتین کردار و اخلاق کی بلندیوں پر ہوں اور علم و اخلاق کے زیور سے آراستہ ،ایک بلند کردار نسل وجود میں لائیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں