آج : 9 January , 2010

یمن کے ڈپٹی وزیر اعظم: امریکا کی براه راست مداخلت سے القاعدہ نیٹ ورک مزید مضبوط ہوسکتا ہے

یمن کے ڈپٹی وزیر اعظم: امریکا کی براه راست مداخلت سے القاعدہ نیٹ ورک مزید مضبوط ہوسکتا ہے
alimiیمن کے ڈپٹی وزیر اعظم راشد العلیمی نے خبردار کیا ہے کہ القاعدہ نیٹ ورک کے خلاف براہ راست امریکی کارروائی سے القاعدہ کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہو گی۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یمن کو امریکہ اوردیگر مغربی ممالک کا تعاون درکار تو ہے، لیکن ٹیکنالوجی، اسلحہ اور خفیہ معلومات کی صورت میں۔ اس وزیرنے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ یمن کی افواج کو ہرحال میں تنہا ہی لڑنا ہے۔ اگر امریکہ مداخلت کرتا ہے تو عسکریت پسندوں کی مزاحمت میں اضافہ ہو گا اور القاعدہ نیٹ ورک مزید مظبوط بھی ہو سکتا ہے۔
مسٹر العلیمی نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یمن کو امریکہ اوردیگر مغربی ممالک کا تعاون درکار تو ہے، لیکن ٹیکنالوجی، اسلحہ اور خفیہ معلومات کی صورت میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ یمن کی افواج کو ہرحال میں تنہا ہی لڑنا ہے۔ اگر امریکا مداخلت کرتا ہے تو عسکریت پسندوں کی مزاحمت میں اضافہ ہو گا اور القاعدہ نیٹ ورک مزید مضبوط بھی ہو سکتا ہے۔
یمن میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے دوران خصوصی دستوں نے جمعرات کو مزید سات مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ان میں سے تین کا تعلق مبینہ طور پر القاعدہ سے بتایا جا رہا ہے۔ چار جنوری کو ایک جھڑپ میں زخمی ہونے کے بعد یہ مبینہ دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ تاہم بعد ازاں سیکیورٹی حکام نے ان میں تین کو زخمی حالت میں ایک ہسپتال سے گرفتار کر لیا۔ ان زخمی عسکریت پسندوں کے چار ساتھی ایک خفیہ مقام پر چھپے ہوئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ان چار گرفتار شدگان کا تعلق القاعدہ سے نہیں ہے اور انہوں نے صرف زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا تھا۔
ایک اعلیٰ پولیس اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یمن میں القاعدہ کے مزید تین ارکان نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ اس پولیس اہلکار کے مطابق سیکیورٹی اداروں کے ارکان مختلف مقامات پر چھاپے مار رہے ہیں جن میں چند روز پہلے کے مقابلے میں اب کافی تیزی آ چکی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ان کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گرد بہت زیادہ دباؤ میں ہیں اور انہیں فرار ہونے یا اپنے خفیہ ٹھکانوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں