آج : 9 January , 2010

افغانستان میں القاعدہ نے سی آئی اے بیس پر حملے کوانتقامی کارروائی قرار دیا ہے

افغانستان میں القاعدہ نے سی آئی اے بیس پر حملے کوانتقامی کارروائی قرار دیا ہے
al-balawiکابل(مانیٹرنگ ڈیسک): افغانستان کے صوبہ خوست میں القاعدہ نے سی آئی اے بیس پر کئے گئے حملے کو اپنے اہم جنگجوؤں کی شہادت کا بدلہ قرار دیا ہے. القاعدہ نے خوست میں سی آئی اے مرکز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی امریکی ڈرون حملوں میں متعدد طالبان رہنماؤں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی تھی۔ یہ بات انٹرنیٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہی گئی ہے جسے بظاہر افغانستان میں القاعدہ کے سربراہ مصطفٰی ابویزید نے جاری کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے ایجنٹوں پر حملہ ’حق پرست شہیدوں‘ کی ہلاکت کے بدلے میں کیا گیا ہے۔ بیان میں جن رہنماؤں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں ابو صالح الصومالی کے علاوہ بیت اللہ محسود کا نام بھی شامل ہے۔
خیال رہے کہ چھتیس سالہ ہمام خلیل ابوملال البلاوی نے گزشتہ بدھ کو امریکی سی آئی اے کے سات ایجنٹوں کو افغان صوبے خوست میں ایک خودکش بم حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔
یہ حملہ امریکی فوجی اڈے کی ورزش گاہ میں ہوا تھا جہاں تک ہمام خلیل نے بطور سی آئی اے مخبر رسائی حاصل کی تھی۔ خوست سی آئی اے مرکز میں پاکستان اور افغانستان میں حملے کرنے والے ڈرون طیاروں کو کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں