آج : 7 January , 2010

ملک کو حالیہ بحران سے نکالنے کیلیے جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا چاہیے

ملک کو حالیہ بحران سے نکالنے کیلیے جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا چاہیے
molana3اہل سنت زاہدان کے خطیب مولانا عبدالحمید مدظلہم نے ملک کی بحرانی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاسب کو معلوم ہے انقلاب(۱۹۷۹ء) کے بعد یہ پہلی دفعہ ہے کہ ایران اتنے خطرناک بحرانوں میں پھنسا ہوا ہے۔ یہ بات ملحوظ ر ہے ہم سب ایرانی ہیں اور ہمارا مستقبل اس ملک سے وابستہ ہے جو ہمارا وطن اور گھرہے تو علمائے کرام، دانشوروں اور اہل فکر ودرد کو ملک کے مستقبل کے بارے میں غور وفکر کرنا چاہیے۔ جب صورتحال بحرانی شکل اختیار کرجائے تو سب سے بڑی ذمہ داری حکام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ بحران پر قابو پائیں۔ ایسے بحرانوں اور سیاسی چیلنجوں سے صرف صحیح سوچ اور ادراک کے حامل حکمران ہی نمٹ سکتے ہیں۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزید کہا ایسے حالات میں حکومت اور مقتدرحلقوں کو ملک کے خیرخواہ اہل فکر دانشوروں کی آراء پر توجہ دینی چاہیے۔ دور اندیشی اور حقیقت پسندی ہی سے معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہوسکیں گے۔ جوش وخروش اور جذباتیت کا مظاہرہ حکومت کی طرف سے ہو یااس کے مخالفین کی جانب سے یہ مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گا۔ ہم حکمران طبقہ، حکومت کے مخالفین اور سارے عوام کو دعوت فکر دیتے ہیں کہ وہ غوروخوض اور حسن تدبیر سے موجودہ بحران کا خاتمہ کریں۔ حالات کا تقاضا ہے ہوش سے کام لیا جائے جوش سے نہیں۔
انہوں نے کہا ایران میں ۲۰ فیصد سے زائد آبادی اہل سنت والجماعت کی ہے۔ اسلامی بھائی چارے کو ملحوظ رکھ کر ہم بھی اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں اور ہماری دلی تمنا ہے کہ ہمارے مطالبات ومشکلات کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں اس سے پہلے کہ بحرانوں میں ایک نیا باب اضافہ ہو۔
امید ہے ارباب اختیار احتجاج کرنے والے ناراض حلقوں کے مطالبات پر توجہ دیں گے اور اس سلسلے میں وسعت ظرفی اور کشادہ دلی کامظاہرہ کریں گے۔ حکومت کے مخالفین کو بھی صبر وتحمل سے کام لینا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعض عناصر ماحول کو مزید کشیدہ بنا کر بحران سے غلط فائدہ اٹھالیں۔ ہم یہ نہیں کہتے ایران میں صرف ہمیں مسائل کا سامنا ہے بلکہ ہر شہری کی شنوائی ہونی چاہیے۔
حضرت شیخ الاسلام نے زوردیتے ہوئے کہا ہم سارے ایرانیوں اورمسلمانوں کے خیرخواہ ہیں اور اسی جذبے کی وجہ سے سب کو نصیحت کرتے ہیں کہ اپنے مخالفین پرکفروارتداد کافتوا نہ لگائیں۔ ایک مسلک کے لوگ مخالف مسلک کے ماننے والوں پرکفرکا فتوا لگانے میں جلدی نہ کریں۔ سب کو دور اندیشی وفکرمندی کے ساتھ مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہیے۔ ہرفرقے کو مخالف مسلک پر الزام لگانے اور اس کی مقدس اور قابل احترام شخصیات کی توہین سے گریز کرنا چاہیے۔
شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید نے اپنے بیان کے پہلے حصے میں قرآنی آیت: ((والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا وانّ اللہ لمع المحسنین)) کی تلاوت کے بعد نفس وشیطان سے مقابلہ ومجاہدہ کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے کہا متعدد آیات اور احادیث ہمیں اللہ کی راہ میں مجاہدے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ ہم ہدایت اور کامیابی سے ہمکنار ہوسکیں۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا اللہ تعالی دوبڑے دشمنوں کے ذریعہ ہمارا امتحان لیتاہے۔ پہلا سرکش اور حیلہ باز وعیار شیطان اور دوسرا دشمن نفس کی پرکشش خواہشیں ہیں۔ یہ دشمن دنیا کی پرزرق وبرق شہوتوں، حیلوں اور وسوسوں کے ذریعے ہمیں ورغلانے پر تلے ہوئے ہیں۔
ان دشمنوں سے نجات کا واحد راستہ مجاہدت، کوشش اور اللہ کی راہ میں صبر واستقامت سے کام لینا ہے۔
جامع مسجد مکی کے خطیب اور اہل سنت کے عظیم رہنما نے جہاد کے اقسام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا جہاد جب بولاجاتاہے تو سب کے اذہان میں قتال ولڑائی کا مفہوم آتاہے، یہ جہاد کی ایک قسم ہے۔ اس سے زیادہ مشکل اور محنت طلب جہاد کی دوسری قسم ہے جو نفس امارہ سے جہاد اور مقابلہ ہے۔ بعض احادیث سے جوکمزور سندوں سے ہم تک پہنچے ہیں یہ ثابت ہوتاہے جہاد اکبر نفس کیخلاف جہاد ہے۔ علامہ رومی رحمہ اللہ نے اس مطلب کو صحابہ کرام کی زبانی شعر کی صورت میں یوں بیان کیا ہے:
قد رجعنا من جہاداصغریم؍؍؍ بانبی اندر جہاد اکبریم
دوستان کشتیم ما خصم برون ؍؍؍ ماند خصمی زو بتر در اندرون
نفس وشیطان کی پوری کوشش ہے کہ ہم گناہوں کے گرداب میں پھنستے رہیں اور اللہ کی عبادت سے محروم رہیں۔ اگر عبادت بھی کریں تو سستی اور کاہلی کے ساتھ۔ ان دودشمنوں کی کوشش ہے ہماری نماز، تلاوت، زکات، حج اور روزہ ودیگر عبادات میں مداخلت کرکے ہماری نیتوں کو خراب کریں اور ہمارے اخلاص پر کاری ضرب لگائیں، خیر کے کاموں سے ہمیں روکیں. صدقہ وانفاق کی توفیق چھین کر کارخیر سے ہم کو دور رکھنا ان کا مقصد ہے۔ کتنے مالدار اور امیر لوگوں کو ہم جانتے ہیں جن کی ثروت اور سرمایہ سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچتا ہے۔
مولانا عبدالحمید نے نفس وشیطان سے مقابلہ کے لیے جد وجہد کو مبارک قرار دیتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو ہمارے راستے میں کوشش کرتاہے وہ صحیح راہ پر چلنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ تھوڑی سی کوشش کی ہمت کریں تو اللہ تعالیٰ خود راستہ دکھائے گا۔ ہدایت حاصل کرنے کا واحد راستہ مجاہدہ اور کوشش ہے۔ یادرہے مجاہدت اور دین پر عمل پیرا ہونا کوئی مشکل کام نہیں، فرمان الہی ہے: ((وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ ھواجتباکم وماجعل علیکم فی الدین من حرج))
مجاہدت کا حق ادا کیجئے، اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے تمہیں انتخاب کیا ہے اور دین میں کوئی سختی نہیں رکھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یکسو، سادہ اور واضح دین کے ساتھ جس کی رات اس کے دن کی طرح واضح و روشن ہے تمہارے پاس آیاہوں۔ تو اسلام اعتدال کا دین ہے۔ اسلام بدعتوں اور خرافات کا دین نہیں ہے۔ اس لیے اس آسان اور روشن دین کی تعلیمات کی رو سے پورے اخلاص، للہیت اور دلی توجہ کے ساتھ مجاہدت کریں اور سارے اعمال اور عبادات کو اخلاص کے ساتھ سرانجام دینے کی کوشش کریں جو ہر عمل کی روح بھی ہے۔ ارشاد نبوی کے مطابق اپنے رب کی عبادت ایسا کریں جیسا کہ وہ ہمیں نظر آرہاہے یا کم ازکم اس تصور کے
ساتھ کہ وہ ہمیں دیکھ رہاہے۔ اس طرح ہماری مجاہدت قبول ہوگی اور ہم آخرت کی کامیابی اور فلاح حاصل کرسکیں گے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں