آج : 5 January , 2010

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نےعہدہ پرستوں کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نےعہدہ پرستوں کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا
molana9اہل سنت زاہدان کے خطیب مولانا عبدالحمیدنے اس ہفتے کے خطبہ میں سورہ بقرہ کی بعض آیات کی تفسیر وتشریح میں ان کے معانی، صبر کی فضیلت اور اس کے اقسام بیان کیا۔ انہوں نے کہا دنیا انسانیت کے لیے امتحان کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو خیر و شر، برائی اور بھلائی کے درمیان سے خلق فرمایاہے اور اسے اوامر کی انجام دہی اور نواہی سے اجتناب کا حکم دیکر سخت امتحان میں ڈال دیاہے۔ ہر وہ خوش قسمت انسان جو اس امتحان میں کامیاب نکل آئے اور پاس ہو جائے وہ ضرور آخرت کی حقیقی عیش وعشرت پائے گا اور جنت کی عظیم نعمتوں سے فیض یاب ہوگا۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے صبر کو تین قسموں میں تقسیم کرتے ہوئے کہا نفس وشیطان اور شیطانی وساوس وحیلوں کے مقابل صبر کرنا اور ان کےنرغے میں نہ آنا صبر کی پہلی قسم ہے۔ گناہ ومعصیت سے دوری کرنا اور خود پر قابوپانا صبر کی دوسری نوع ہے۔ گناہ ہمیشہ انسان کےسامنے پرکشش ہوکر آتاہے اور اسے ورغلانے کی کوشش کرتاہے تو انسان کو صبر سے کام لینا چاہیے اور گناہ کے ارتکاب سے اجتناب کرنا چاہیے۔
صبر کی تیسری قسم آفتوں اور مصیبتوں کے سامنے ڈٹ کررہناہے۔ مصیبت اور نقصان مال کا ہو یاجان کا ہر حال میں ایک مسلمان کوچاہیے صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دے۔ در حقیقت ہر شخص اپنی قوت ایمانی کے تناسب سے مشکلات اور مصائب کا سامنا کرتاہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صبر سے کام لیا اور خدا کی طرف سے آنے والی تمام آزمائشوں سے سرخرو ہوکر نکلے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے مظالم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ حضرت لوط علیہ السلام ودیگرپیغمبروں نے ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھا۔ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہر محاذ پر صابر ہونے کا ثبوت دیا۔ مکّہ مکرمہ کی زندگی میں، ہجرت کے حوالے سے اور پھر مدینہ منورہ میں جب دشمنون کے محاصرے میں آئے غرض ہر حال میں ہر مشکل ومصیبت کا سامنا کیا اور صبوری کا ایک نمونہ پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے محاصرے میں فرماتے تھے: {اللھم لاعیش الا عیش الآخرۃ۔ فاغفر الانصار والمھاجرۃ}۔
جامع مسجد مکی کے خطیب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آنے والی آزمائشوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا مدینہ منورہ کا ایک ایک انچ خدا کی راہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین وانصار کی صبر واستقامت کا نشان اور گواہ ہے۔ نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی صحرائے کربلا میں صبر واستقامت کا مظاہرہ کیا اور مسلمان نما ظالموں کی ستمگری کی گواہی دی۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے عہدہ پرست، مفادپرست اور جاہ طلب لوگوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا۔ انہوں نے عزت کو ذلت پر ترجیح دی اور راہ حق میں شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے آپ ہمارے اسوہ اور آئیڈیل ہیں۔ مسلمانوں کے سارے مسالک آپ کا احترام کرتے ہیں اور انہیں اپنا قائد اور اسوہ سمجتھے ہیں۔ اہل سنت والجماعت بالاتفاق حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام کو اپنی آیندہ نسلوں کے لیے دلیل اور مشعل راہ سمجتھی ہے۔ ہر وہ حدیث جس کی سند آپ تک پہنچتی ہے اہل سنت و الجماعت اس پر عمل کرنے کو اپنا فرض سمجھتی ہے اور فخر کے ساتھ اس پر عملدرآمد کرتی ہے۔ سنی مسلمان سارے صحابہ کرام اور اہل بیت کو اپنا اسوہ گردانتے ہیں۔
مہاجرین و انصار اور اہل بیت سارے کے سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد اور مدرسہ کے تربیت یافتہ تھے۔  ان کا ایجنڈا ایک ہی چیز تھی، وہ آپس میں بھائی بھائی تھے۔ اختلافات صرف جزئی مسائل میں تھے جوہر انسان کی طبیعت کا تقاضا ہے۔
صحابہ کرام دشمن کے خلاف متحد تھے اور جہاد و دعوت اسلام کی راہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ صبر واستقامت کا سبق انہی سے ہمیں حاصل ہوا ہے۔ آپ نے مزید کہا قرآن وسنت کی رو سے مشکلات اور مصیبتوں کے وقت صبر اور نماز سے کام لینا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام کی عادت بھی یہی تھی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت کو اسلامی تاریخ کا عظیم سانحہ اور ناقابل فراموش مصیبت قرار دیا اور یزید کے ماتحتوں کے قابل مذمت اقدام کے بارے میں فرمایا: کس قدر افسوسناک بات ہے کہ یزیدیوں نےاپنا عہدہ بچانے اور اقتدار کو طول دینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو خون میں نہلایا۔ ایسے اقتدار اور مفاد کو اللہ تعالی برباد کرے جو اس طرح کے مظالم رقم کرکے انہیں محفوظ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت، نماز، تقوی، صبر، تلاوت، شب بیداری اور اللہ کے راستے میں ان کے صبر و تحمل کو قابل تقلید قرار دیا اور دعا کی اللہ تعالی ہم سب کو حضرت حسین، حسن، ابوبکر، عمر وعثمان اور علی کے ساتھ محشور فرمائے جو بلاشبہ جنت میں اکٹھے ہوں گے۔
انہوں نے ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا: کچھ لوگ سمجھتے ہیں ہمیں اہل بیت سے سروکار نہیں۔ یہ بالکل غلط سوچ ہے۔ اگر ہم حضرت امام حسین کے قیام کے وقت زندہ ہوتے تو ضرور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیتے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے۔ لیکن وہ چلے گئے، ان کے نیک اعمال کا ثواب انہی کو ملے گا۔ اب ہمیں اپنی فکر کرنے چاہیے۔ ہم ان کی پیروی کرکے جنت کے مستحق بن سکتے ہیں لیکن امام حسین کی قربانیاں ہمیں جنت نہیں پہنچاسکتیں۔
اگر ہم محرم میں سیاہ رنگ کے کپڑے نہیں پہنتے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کرنا ہماری فقہ میں ناجائز ہے۔اسلامی فرقے تمام تر مشترکات کے باوجود بعض امور میں ان کے درمیان اختلاف نظر بھی ہے۔ برسی اور چہلم کی رسم ہمارے مسلک میں نہیں ہے۔
اہل سنت والجماعت کی فقہ میں تعزیت اور سوگ کرنا صرف تین دن تک ہے۔کسی عورت کو ۳ دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت نہیں البته وہ اپنے شوہر کی وفات پر ۴ مہینے دس دن تک سوگ یعنی زیب وزینت سے دوری کر سکے گی۔
مولانا عبدالحمید نے حاضرین مجلس کو تاسوعا اور عاشورا کے روزہ رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا اس دن کا روزہ پچھلی امتوں میں بھی رائج تھا۔ یہود ونصاری سے مشابہت سے بچنے کے لیے عاشورا کے ساتھ اگلے یا پچھلے دن کا روزہ رکھنا بہتر ہے۔
آخر میں شیخ الاسلام دامت برکاتہم نے آیت اللہ منتظری کے انتقال کا تذکرہ کرتے ہوئے ایرانی عوام سے تعزیت عرض کیا۔ انہوں نے کہا آیت اللہ منتظری اہل تشیع کے بزرگ عالم دین اور مرجع تھے۔ ان کی وفات سے شیعہ وسنی متاثر ہوئے۔ سابق شاہ کے دور حکومت میں آپ نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کی اور انقلاب کی راہ ہموار کرنے میں ان کا بڑا دخل تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں