آج : 31 January , 2010

بے چارے مسلمان ہوائی مسافر

بے چارے مسلمان ہوائی مسافر
tech-security-cp-1747656گزشتہ دنوں امریکی صدر بارک اوبامہ نے جن برہنہ کیمروں کی تنصیب کا اعلان کیا ہے وہ جلد یا بدیر تمام اسلامی ممالک کے ائیرپورٹس پر نصب کردئیے جائیں گے اور اس کام پر نوے ارب روپے خرچ ہوں گے۔ یہ کیمرے کپڑوں میں پنہاں جسم کی خطی (Graphic) تصویر ہی مہیا نہیں کریں گے بلکہ یہ زندہ رنگوں میں بھرپور اصل جسم انسانی کی تصاویر اس طرح پیش کریں گے کہ گویا کسی نے کپڑے اتار کر کسی عمدہ کیمرے سے انتہائی تفصیل کے ساتھ جسمانی خدوخال کو قدرتی حالت میں محفوظ کیا ہے۔

رہنگی کے شائقین کے لئے ان نصب کئے جانے والے کیمروں سے حاصل نقوش کو اصل تصاویر میں منتقل کرنے کے لئے کسی 800ڈالر یا زائد قیمت والے مہنگے سافٹ وئیر جیسے فوٹو شاپ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس مقصد کے لئے تو انتہائی بنیادی اور معمولی عام دست یاب سستے سافٹ وئیر ہی کافی ہیں۔ یہ صفحات اس برہنگی اور بے ہودگی کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ دکھایا جاسکے کہ کس طرح دست یاب نقوش کو بٹن کے ایک ہی کلک نے زندہ انسانی ننگی تصویر میں تبدیل کردیا ہے، صرف یہی نہیں کہ شرمگاہوں اور جسمانی ابھار جن کی نمائش جنسی ہیجان پیدا کرتی ہے اس کے لئے ضروری نہیں کہ نقوش کو تصاویر میں تبدیل کیا جائے یہ نقوش ہی بہت کافی ہیں، یہ مشین صحت کے لئے بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔ ایک مرتبہ اس مشین سے گزرنے میں اتنی شعاعیں پڑتی ہیں جتنی کہ دس ہزار مرتبہ موبائل فون سے کال وصول کرنے پر نہیں پڑتی ہیں ابھی ان کیمروں کے مضر اثرات (toxiceffects) کا مکمل پتہ نہیں چلا ہے۔ مسلمان ممالک کے مسافروں پر تجربات کے بعد 2010ء کے آخر میں معلوم ہوگا کہ یہ کتنے نقصان دہ ہیں۔ اگر چہ کہ ایسے بھی کیمرے دست یاب ہیں کہ جو جسم کے خدوخال نہ دکھائیں بلکہ جسم پر چسپاں صرف بیرونی چیرزوں کی تصاویر مہیا کریں مگر شوق برہنگی کو کیا کہئے کہ جب تک سارے مسلمان مسافروں کو اندر سے دیکھ نہ لیا جائے!شروع میں کہا گیا کہ یہ کیمرے مردانہ و زنانہ شرمگاہوں کو بہت وضاحت سے نہیں دکھائیں گے بلکہ ان جگہوں کو ذرا دھندلا دیں گے لیکن اب یہ بات لندن گارجین کے صحافی کی تحقیق کے بعد واضح ہوچکی ہے کہ مردانہ ہوں یا زنانہ، اعضاء بہت وضاحت کے ساتھ، گویا کہ اصلی فوٹوز کی مانند ہوں گے اور ان کیمروں سے اسکرین پر درآمد ہوں گے جنہیں اصل رنگوں میں پرنٹ بھی کیا جاسکے گا۔اکتوبر 2008ء میں جب پہلی مرتبہ ان ننگے کیمروں کو آسٹریلیا کے ملبورن ائیرپورٹ پر نصب کیا گیا تو یہ بات واضح ہوگئی کہ شرمگاہوں کی تصاویر کو دھندلانے کی کوشش میں سیکورٹی متاثر ہورہی تھی چناں چہ دھندلانے کو غیرضروری اور سیکورٹی کے مقاصد کے منافی قرار دے دیا گیا۔اخبارات اور ٹی وی میں آپ کے اور آپ کے بیٹے اور بیٹیوں کے شرمگاہوں کو دھندلانے کی جوبھی باتیں کی جارہی ہیں وہ ایک جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ جب ائیرپورٹس پر آپ ان کیمروں کے سامنے سے گزریں گے تو اور آپ کے بچوں کے جنسی اعضا برابر والے کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے سامنے بالکل عیاں ہوں گے۔ جہاں وہ نگاہیں مرکوز کرکے بہت غور سے ان جگہوں میں چھپائی گئی کسی چیز کو تلاش کررہے ہوں گے اور ان نقوش کو صرف ایک بٹن کے کلک سے زندہ برہنہ تصویر میں تبدیل کیا جاسکے گا تاکہ کام کے بوجھ تلے دبے سیکورٹی آفیسر جنسی لطف اندوزی سے ”بہرہ ور“ ہوکر تازہ دم رہا کریں۔ان کا منصوبہ یہ ہے کہ ”برہنہ جسم کیمرے“ تمام مسلم ممالک کے ائیرپورٹس پر نصب کی جائیں اور وہ ہوائی مسافر جو امریکا کے لئے عازم سفر ہوں وہ ان کیمروں سے گزر کر امریکی ایمبسی کے مقرر کردہ ملازمین کے سامنے کپڑے اتارنے کی زحمت کئے بغیر ننگے گزرتے ہوئے اپنی تلاشی دے سکیں اور جلد ہی یہ کیمرے تمام مغربی ممالک کو جانے والے مسافروں پر لاگو ہوجائیں گے۔ اور پھر ممکن ہے کہ واپسی پر آپ کا کوئی رشتہ دار، دوست، ہمسایہ جو ائیرپورٹ پر اس کام پر مامور ہو وہ آپ کی اور آپ کی بیٹی کی برہنہ تصاویر کے ساتھ واپسی پر ملاقات کرے۔ ایک رپورٹ یہ ہے کہ کرسمس کے موقع پر نائیجیریا کے باشندے عبدالمطلب نے جو جہاز کو جلانے کی کوشش کی اور جس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ اپنے انڈر وئیر میں کوئی دھماکہ خیز مادے کی شیشی چھپا کے لایا تھا جو محض ایک ڈرامہ تھا تاکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے انڈر وئیر کے اندر جھانکنے بلکہ بغور دیکھنے کا جواز حاصل کیا جاسکے… اور انہیں اس کا حاصل کیا ہے سوائے اس کے کہ وہ ہمیں ہماری ذلت اور رسوائی کا احساس دلائیں اور آتے جاتے مسلم حکمرانوں اور زعماء کی ”عمدہ“ تصاویر بناتے رہیں اور ان سے اپنے کام نکلوانے کے لئے انہیں بلیک میل کرسکیں!
کرنے کے کام:
1… آگاہی پیدا کیجئے کہ اکثر لوگوں کو اس بے ہودہ اسکیم کا علم ہے نہ اس کے عواقب و نتائج کا۔
2… قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس غیرضروری جسمانی تلاشی اور ذاتی زندگی میں دخل اندازی کے خلاف چارہ جوئی کی جائے اور ایسا کرنے والوں کی مدد کی جائے۔
3… ان کیمروں کے ذریعے خواتین کے وقار کی پامالی کو موضوع بنایا جائے، عورتوں کے حقوق کی علمبردار تنظیمیں اس پامالی کے بعد کوئی کام نہیں کرسکیں گی۔
4… اسی طرح بچوں کے حقوق کی علمبردار تنظیمیں بھی میدان میں آئیں اور یورپ اور امریکا میں موجود اور لاگو قوانین (جو بچوں کی برہنگی کے خلاف ہیں) کی مدد سے ان کیمروں کی مذمت کی جائے اور ان کیمروں کو ان قوانین سے مستثنٰی قرار دینے کی کوشش کو ناکام بنایا جائے۔
5… ساری دنیا کے مسلمان علماء کو آمادہ کیا جائے وہ تمام مسلم ممالک کی حکومتوں کو بیک آواز متنبہ کریں کہ وہ اپنے ممالک میں ان برہنہ کیمروں کو نصب نہ ہونے دیں اور ساتھ ہی ہماری حکومتیں باقی ساری دنیا سے بھی احتجاج کریں۔
6… مسلم عوام اپنی مسلم حکومتوں سے اپنے وقار اور عزت کے تحفظ کا مطالبہ کریں۔
7… بین المذاہب گروپس بنائے جائیں خاص طور پر اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے مذہبی سربر آوردہ لوگ مل کر بے حیائی کی اس انتہا کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنائیں جو اس اسکیم کے خلاف بلاتفریق مذاہب آواز اٹھائیں۔

تسنیم احمد


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں