آج : 31 January , 2010

افغانستان۔ امریکہ اور لندن کانفرنس

افغانستان۔ امریکہ اور لندن کانفرنس
afghanistan-map-natoچہرے بدلے لیکن کردار نہیں۔ امریکہ میں صدر بش کی جگہ صدر اوبامہ حکمران بنے اور برطانیہ میں ٹونی بلیئر کی جگہ گورڈن براؤن لیکن تبدیلی کوئی نہیں آئی۔ حسب سابق برطانوی وزیراعظم ‘ امریکی صدر کے ترجمان اور وزیرخارجہ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ امریکی صدر پالیسی تشکیل دیتے اور برطانوی وزیراعظم اس کے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ وہ نعرہ بلند کرتے اور برطانوی وزیراعظم فصیح و بلیغ انگریزی میں اس کی تشریح اور توضیح کرنے کا فریضہ انجام دیتے رہتے ہیں ۔ توقع کی جارہی تھی کہ افغانستان سے متعلق لندن کانفرنس کسی حد تک سابقہ روش سے انحراف کی ابتدا ہوگی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شداست۔ جو ایجنڈا صدراوبامہ نے سامنے رکھا ہے ‘ لندن کانفرنس میں اس پر عملدرآمد کے لئے دنیا کو ساتھ ملانے کی ناکام کوشش کی گئی ۔ ایک روز قبل اسٹیٹ آف دی یونین ایڈریس کے دوران صدر اوبامہ نے افغانستان سے متعلق جو کچھ ارشاد فرمایا ‘ لندن کانفرنس سے خطاب کے دوران گورڈن براؤن اس کی تشریحات بیان کرتے رہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ طالبان نے کانفرنس کے روز جاری کردہ اعلامیہ میں اس کو یکسر مسترد کیا اور اسی لئے ہم جیسے اس کانفرنس کو ماضی کے کانفرنسوں کی طرح ایک سعی لاحاصل کے سوا کوئی اور نام نہیں دے سکتے ۔

نہ جانے کیوں افغانستان کے زیرک ترین انسان (حامد کرزئی) کا دھیان ان تضادات کی طرف نہیں جاتا جو نئی امریکی پالیسی میں پائے جاتے ہیں ۔ پتہ نہیں کیوں فصاحت و بلاغت میں یکتا شاہ محمود قریشی اپنے امریکی اور برطانوی دوستوں کو اس کنفیوژن کی طرف متوجہ نہیں کرسکتے جو اس نئی پالیسی میں پایا جاتا ہے ۔ نہ جانے کیوں عقل و خرد کی دنیا کی قیادت کے منصب پر فائز مغربی دنیا کے تھنک ٹینکس میں بیٹھے دانشور اپنے حکمرانوں کو بیک وقت دو کشتیوں پر سواری کی اس روش سے باز آنے کا درس نہیں دے رہے اور نہ جانے کیوں واشنگٹن اور لندن کے ایوانوں میں بیٹھے ان عالی دماغوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ تضادات پر مبنی اس پالیسی کو خوبصورت الفاظ اور کانفرنسوں کے پردے میں چھپا کر قابل عمل نہیں بنایا جاسکتا اور یہ کہ اس کا نتیجہ افغانستان کی تباہی اور خود ان بڑی طاقتوں کی رسوائی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔
اوبامہ کی نئی پالیسی کے تحت دعویٰ کیا جارہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے قضیے کاسیاسی حل نکالاجائے گا۔اب بات چیت جب بھی ہوتی ہے ‘اس کے لئے پہلے سے فضا ہموار کی جاتی اور متحارب فریق کو رعایتیں دی جاتی ہیں لیکن یہاں ایسی کسی کوشش کی بجائے طالبان کے خلاف مزید طاقت استعمال کی جارہی ہے ۔ طالبان اور حکمت یار غیرملکی افواج کے انخلاء سے مذاکرات کو مشروط کررہے ہیں لیکن یہاں مذاکرات کے لئے راستہ ہموار کرنے کے نام پر مزید غیرملکی فوج لائی جارہی ہے ۔ ان حالات میں طالبان اور حکمت یار کیوں کر مذاکرات پر آمادہ ہوسکتے ہیں؟
ایک طرف طالبان سے مذاکرات کی بات ہورہی ہے اور دوسری طرف نئی پالیسی کے تحت طالبان میں پھوٹ ڈالنے کی ناکام کوششیں ہورہی ہیں ۔ امریکہ اور اس کے اتحادی افغان حکومت کے ذریعے پانچ سو ملین ڈالروں کے عوض طالبان کو ساتھ ملاکر اس کی قیادت کو تنہا کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی ملامحمد عمر کومنانے پر آمادہ نہیں اور ان سے برات کا اعلان کرنے والوں کو ساتھ ملایا جائے گا ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کی کوششیں ماضی میں کامیاب ہوئی ہیں اور نہ اب ہوسکتی ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ جب ملا محمد عمر کے لوگوں کو پیسے کے عوض توڑنے کی کوشش کی جائے گی تو وہ کیوں کر افغان حکومت سے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے ۔
نئی پالیسی کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی ہے کہ کرزئی حکومت 2011ء تک اس قدر مستحکم ہوجائے گی کہ وہ ملک کا انتظام سنبھالنے کے قابل ہوجائے گی لیکن دوسری طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جو روش اپنا رکھی ہے اس کی وجہ سے وہ مزید غیرمستحکم ہورہی ہے ۔ گزشتہ انتخابات کے بارے میں امریکہ اوراس کے اتحادیوں نے جو رویہ اپنائے رکھا اس کی وجہ سے کرزئی صاحب کا انتخاب بڑی حد تک متنازع ہوگیا۔ اب افغانوں اور عالمی برادری کی نظروں میں اس کی وہ وقعت نہیں جو پہلے تھی ۔ دوسری طرف جب امریکیوں نے انخلاء کا قبل ازوقت عندیہ دے دیا تو اس کی وجہ سے کرزئی حکومت میں شامل لوگوں کا مورال گرگیا جبکہ طالبان اور حکمت یار کے حامیوں کا مورال بلند ہوکر آسمان کو چھونے لگا۔ ادھر امریکہ اور عالمی برادری نے اب کرزئی حکومت کو امداد کو کرپشن کے خاتمے سے مشروط کردیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کرپشن کا خاتمہ اس قدر آسان ہوتا تو پچھلے آٹھ سالوں میں ہو چکا ہوتا ۔ اب جبکہ کرزئی کی حکومت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی وجہ مزید بے وقعت اور کمزور ہوگئی اور پچھلے انتخابات کے دوران اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لئے کرزئی صاحب نے مارشل فہیم اور رشید دوستم جیسے لوگوں کو بھی اس کا حصہ بنا دیا ہے ۔ چنانچہ وہ کرپشن ختم کرسکے گی اور نہ مغربی دنیا اسے امداد دے گی ۔ یوں کرزئی حکومت کے استحکام اور کنٹرول سنبھالنے کا خواب کس قدر شرمندہٴ تعبیر ہوسکتا ہے‘ اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔ پاکستان کی طرح افغانستان کے حوالے سے بھی امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی کنجوسafghanistan-map-natoی کا اس امر سے اندازہ لگالیجئے کہ افغان الیکشن کمیشن نے چند سو ملین ڈالر کا فنڈ نہ ملنے کی وجہ سے افغان پارلیمنٹ کے انتخابات چھ ماہ کے لئے ملتوی کردیئے ۔ان حالات میں 2011ء تک کرزئی حکومت مستحکم ہوکر ملک کاکنٹرول سنبھالنے کی قابل ہوگی‘ اس کا کم از کم مجھے کوئی امکان نظر نہیں آتا۔افغانستان میں قیام امن کا واحد راستہ یہ ہے کہ ملامحمد عمر اور گلبدین حکمت یار سے براہ راست مذاکرات کئے جائیں اور پڑوسی ممالک کے تعاون اور رضامندی سے سیاسی حل کے ذریعے ایسی مخلوط حکومت تشکیل دی جائے جو تمام پڑوسی ممالک اور عالمی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ اور خدشات کا ازالہ کرسکے لیکن اس حوالے سے بھی معاملہ الٹ نظر آرہا ہے ۔ حامد کرزئی شاید اس حقیقت کو جان گئے ہیں اس لئے وہ پاکستان اور ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن جب سے نئی پالیسی کا اعلان ہوا ہے ۔
پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ پاکستان افغانستان کے حوالے سے ہندوستان کو اسٹیک ہولڈر مانتا ہے اور نہ اس کے کردار پرراضی ہوسکتا ہے لیکن لندن کانفرنس میں اسے بھی مدعو کیا گیا تھا۔دوسری طرف ایران نے پہلی مرتبہ لندن کانفرنس میں عدم شرکت کے ذریعے افغانستان سے متعلق کسی عالمی فورم کا بائیکاٹ کیا ہے‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایران بھی نئی اپروچ پر خوش نہیں ہے ۔ روس اور امریکہ کا تناؤ بھی مزید بڑھ گیا ہے جبکہ افغانستان کے صوبے لوگر میں چین کی سرمایہ کاری پر بھی امریکی پریس میں اعتراضات ہورہے ہیں۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی حسب سابق افغانستان کے پڑوسی ممالک کو مطمئن کرنے کی کوشش نہیں کررہے ہیں اور جب تک پڑوسی مطمئن نہیں ہوجاتے ‘ افغانستان سے متعلق کوئی بھی فارمولا کامیاب نہیں ہوسکتا۔

سلیم صافی


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں