آج : 30 January , 2010

عوام نے انقلاب لایا وہی اس کی بقاکے ضامن ہیں،تشدد نہیں: مولانا عبدالحمید

عوام نے انقلاب لایا وہی اس کی بقاکے ضامن ہیں،تشدد نہیں: مولانا عبدالحمید
molana21خطیب اہل سنت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جامع مسجد مکی زاہدان میں خطاب کرتے ہوئے کہا 1979ء کے اسلامی انقلاب کے اصل محرک عوام تھے جنہوں نے ظلم کیخلاف آواز اٹھاکر شاہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ نیا نظام بہت سارے ملکوں کی طرح فوجی بغاوت کے ذریعے نافذ نہیں ہوا۔ جب عوام نے چاہا تو انقلاب آیا اور یہ انقلاب اسی صورت میں باقی رہے گا جب یہ لوگ چاہیں۔

ایرانی اہل سنت کے مذہبی رہ نما نے کہا میں جو کچھ کہتاہوں وہ عوام، حکام اور پوری قوم کے مفاد میں ہے اور خیرخواہی کے جذبے کے تحت یہ باتیں عرض کرتاہوں۔ میری باتوں کی غلط تعبیر نہ کی جائے۔ ہم سب کو چاہیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
انہوں نے کہا آیت اللہ خمینی نے حسن تدبیر سے کام لیتے ہوئے معاشرے کے تمام طبقات، حلقہ ہائے فکر اور مختلف قوموں اور مذاہب کے لوگوں کو ایک مشترک ہدف پرمتحد بنایا اور اسی اتحاد کی بدولت قوم ایک بہت بڑی طاقت پر غالب آگئی۔ اب اسلامی جمہوریہ ایران کی بقا بھی اتحاد ویکجہتی  ہی میں ہے۔
جامع مسجد مکی کے خطیب نے کہا بادشاہی نظام کی جگہ آنے والا سسٹم لوگوں کی رائے اور انتخاب کی وجہ سے اقتدار پر پہنچا، زورزبردستی اور اسلحہ کے سہارے پر اسلامی جمہوریہ ایران عوام پر حاکم نہیں ہوا۔ دنیا میں کوئی بھی نظام حکومت اسلحہ کے زور پر باقی نہیں رہ سکتا حکومتوں کی بقا کا راز عدل وانصاف کی فراہمی اور عوام کو اقتدار میں رکھنے میں ہے۔
ایران میں اسلامی انقلاب بھی اسلحہ کے زور پر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوا ہے بلکہ لوگوں کی چاہت اور حمایت ہی کی بدولت یہ نظام اقتدار کی ایوانوں تک پہنچ سکا اور ان لوگوں کی حمایت کے بغیر قائم بھی نہیں رہ سکتا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا ہمیں افسوس ہے کہ اعلیٰ حکام سے براہ راست بات کرنے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہیں ورنہ براہ راست ہم اپنی بات حکام تک پہنچانے سے گریز نہیں کرتے اور حکمرانوں کو بتادیتے کہ عوام ان سے ناراض ہیں اور نظام سے بددل ہورہے ہیں، انہیں منانے کی کوشش کرنے کا وقت ابهی ہے۔ یہ نظام حکومت صرف قدامت پسندوں یا اصلاح پسندوں کے قبضہ میں رہ کر قائم نہیں رہے گا۔ اس لیے کہ ایران میں مختلف قومیتوں اور مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ ان سب کو اقتدار کا حصہ بناکر نظام کو بچایا جاسکتاہے۔ اقتدار ایک مخصوص گروہ کی اجارہ داری میں ہو تو انقلابی نظام کی بقا کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
ایران میں سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے راہ حل پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس نظام حکومت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے از حد ضروری ہے کہ ایک قومی اور مشترکہ حکومت بنائی جائے جس میں ایران کی ساری قومیتوں اور مذاہب ومکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کو فراخدلی سے شامل اقتدارکیا جائے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا بہت سارے مشرقی ومغربی ملکوں میں جب ایک پالیسی ناکامی سے دوچار ہوتی ہے تو اسے تبدیل وترمیم کرنے میں دیر نہیں کی جاتی۔ ہمارے ملک میں بھی بہت ساری پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں۔ ملک میں رونما ہونے والے واقعات اور احتجاجی مظاہروں کا نہ رکنے والا سلسلہ اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کے مطالبات کا کوئی سننے والا نہیں ہے۔ عوام کی شکایات کو دور کرکے ان بات سنی جائے اور جن پالیسیوں سے یہ بحران جنم لے رہے ہیں انہیں ترمیم کیا جائے۔
اہل سنت والجماعت کے عظیم رہنمانے مزید کہا صرف قرآن اورآپ (ص) کی احادیث ناقابل تغییر ہیں۔ لیکن قانون اور آئین اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی وحی نہیں ہے جسے تبدیل نہ کیا جاسکے۔ ملکی آئین اور پالیسیوں کو اس طرح مرتب اور ترمیم کرنی چاہیے کہ عوام کی خوشنودی ہاتھ سے نہ جائے۔
چھوٹی سی تنقید پر یہ نہ کہا جائے کہ اسلام خطرے میں ہے، نظام حکومت خطرے میں پڑگیا۔ اسلام اور اسلامی ہونے کا دعویدار نظام اس وقت خطرے میں ہوں گے جب عوام پر عرصہ حیات تنگ کیا جائے اور انہیں بے دست وپا کردیا جائے۔ اگر بجا شکایتوں پر کان دھرے جائیں اور بیجا شکووں کو تشفی بخش جواب دیا جائے تو مسائل بہتر طریقے سے حل ہوں گے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا جب خیرخواہی کی نیت سے ہم کوئی بات کرتے ہیں یا اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب لالچ اور طمع نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں نظام حکومت اہل سنت سمیت مختلف برادریوں کی شکایتوں کا ازالہ کرے اور ان کی بات سنے یہ اس کا اپنا فائدہ ہے، اس سے نظام کی بقا کی ضمانت دی جاسکتی ہے، اگر وسعت ظرفی اور برداشت عنقار ہے تو اس احساس کومزید تقویت ملے گی کہ یہ حکومت عوام کے مسائل کے حل سے قاصر ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا موجودہ بحرانی صورتحال سے نجات کا راستہ یہ ہے کہ ملک میں کوئی بھی خود کو تنقید سے بالاتر نہ سمجھے۔ اسلام کی رو سے سارے لوگ جوابدہ ہیں اور مفید وجائز تنقید کے لیے کوئی ریڈلائن نہیں ہونی چاہیے۔ عام طور پر دوست اور مشیر تنقیدوں کو واضح طور پر گوش گذار نہیں کرتے اور حکام کو اصل صورتحال سے ناآگاہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاہ ایران کا مسئلہ بھی یہی تھا کہ اس کے دوستوں اور مشیروں نے شاہ کو عوامی احتجاجوں اور شکایتوں سے بے خبر رکھا اور اس وقت اسے صدائے احتجاج نے سنائی دی جب بہت دیر ہوچکی تھی۔
انہوں نے کہا کسی کو تنقید سے نہیں بھا گناچاہیے۔ جمہوری نظام کا مطلب یہی ہے کہ حق حاکمیت عوام کا ہے اور اس کا اسلامی ہونا لوگوں کے حق آزادی کو وسیع تر کرتا ہے محدود نہیں کرتا۔
آیت اللہ خمینی جو اس سسٹم کے بانی ہیں بار بار تاکید کے ساتھ کہہ چکے ہیں عوام اس نظام کے وارث ہیں۔ اس لیے عوام کو تنقید کرنے کا حق دیاجانا چاہیے۔ حکام کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ بہت سارے غیر مسلم ممالک میں عوام بآسانی ملک کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز حکمرانوں پر تنقید کرتے ہیں۔ اگر جائز تنقید کو برداشت کرنے کی فضا ملک میں ہو تو لوگوں کی شکایت چیخ وپکار اور تخریب کاری تک نہیں پہنچے گی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورخلفائے راشدین تنقید برداشت کرنے والے تھے۔ یہاں تک کہ ایک یہودی شخص نے حضرت علی کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کرکے اس کے اپنے ہی متعین قاضی کے سامنے پیشی کیلئے اسے لایاتھا۔ چونکہ بیٹے کی گواہی والد کے حق میں قبول نہیں ہوتی توقاضی نے خلیفہ وقت کے خلاف فیصلہ کیا اورامیرالمومنین نے یہ جانتے ہوئے کہ حق پرہے عدالت کافیصلہ مان لیا۔ایسے ہی عدل وانصاف کی بدولت یہودی مدعی مشرف بہ اسلام ہوا۔ ایک روایت کے مطابق حضرت عمررض کے دورحکومت میں کسی مجلس سے ایک شخص تلوارہاتھ میں لیے کھڑاہوا اورخلیفہ ثانی کومخاطب کرکے کہا اے عمر! اگرآپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ اورسنت سے انحراف کیا تو اس تلوارسے تجھے راہ راست پرلائیں گے۔یہ سن کرحضرت عمررض نے خدا کاشکراورحمد بجا لایا کہ اس کی رعیت میں ایسے لوگ بھی ہیں۔ اس لیے ملک میں ایسا ماحول نہیں پیداکرناچاہیے کہ لوگ آزادانہ طورپراپنی بات اور رائے کااظہار نہ کرسکیں اورحکام تک اپنی بات نہ پہنچاسکیں۔ حکومت کا مقصد اورفلسفہ یہ ہے کہ مظلوم کاحق ظالم سے لیکر عدل وانصاف فراہم کیاجائے۔
ایران میں بڑھتے ہوئے پھانسی کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کثرت سے رونماہونے والے پھانسی کے واقعات پرلوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ہمارے ملک کا شماران ملکوں میں ہوتاہے جہاں سب سے زیادہ پھانسی کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ خاص طورپر صوبہ سیستان وبلوچستان میں دیگرصوبوں کی بہ نسبت زیادہ لوگوں کوتختہ دارپرلٹکایاجاتاہے۔ حالانکہ اسلام میں بعض مخصوص جرائم پر موت کی سزا دی جاسکتی ہے جیسا کہ قتل کی صورت میں اگرمقتول کے ورثاء خون معاف نہ کریں توقاتل کوقتل کردیاجاتاہے۔ دیگرجرائم کے ارتکاب کی صورت میں پھانسی سے بہتر راہ حل موجود ہے۔ معاشرے کے مسائل کاحل پھانسی نہیں ہے۔اس سے مسائل میں اضافہ ہوگاکمی نہیں[حاضرین کانعرہ تکبیر]۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اورخلفائے راشدین رضی اللہ عنہم خاص طورپرحضرت علی رض کے دورمیں پھانسی اورموت کی سزا انتہائی کم دی گئی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں پھانسی کی سزاؤں سے لوگوں پرمنفی اثرپڑرہاہے۔ اس لیے حکام سے ہماری خیرخواہانہ درخواست ہے کہ اس مسئلے کا حل نکالیں۔ پھانسی دیکر یکجہتی، ہمدلی اور امن وامان میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔(عوام کا نعرہ تکبیر)
خطیب اہل سنت نے کہا ایک دوسرا مسئلہ جو لوگوں کے لیے باعث تشویش ہے وہ تشدد اور ایذا رسانی کے زور پرملزمان سے اعتراف لینے کا مذموم عمل ہے۔ یہ حرکت اسلام اور ملکی آئین دونوں کی خلاف ورزی ہے۔(حاضرین کا نعرہ تکبیر) ہمارا مطالبہ ہے قانون نافذ کردیا جائے اور حکمران قانون نافذ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
آخر میں مولانا عبدالحمید نے عوام کے معاشی مسائل اور پاک ایران بارڈر کی بندش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا صوبہ بلوچستان میں کاشتاری، جانوروں کو پالنے اور صنعتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگوں کا انحصار کاروبار پر ہے جو مشترکہ بارڈر کے ذریعہ ہوتاہے۔ بارڈر بند ہونے کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں گئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ بے روزگاری کی شرح خطرناک حدتک بڑھ چکی ہے یہاں تک کہ بعض لوگ روٹی خرید نے سے بھی عاجز ہیں۔ جتنا غربت کی شرح میں اضافہ ہو اتناہی بدامنی اور فساد معاشرے میں عام ہوجاتاہے۔ حکام کو چاہیے عقلمندی کا مظاہرہ کر کے بارڈر کھول دیں تاکہ لوگ بآسانی زندگی گزار سکیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں