آج : 29 January , 2010

ایران میں مظاہروں کے دوران گرفتار کئے جانے والے دو افرادکو پھانسی

ایران میں مظاہروں کے دوران گرفتار کئے جانے والے دو افرادکو پھانسی
mozahera-pansiتہران (نیوزایجنسیاں) ایران میں صدارتی انتخابات کے بعد پُرتشدد ہنگاموں میں حصہ لینے کی پاداش میں دوافراد کو پھانسی دے دی گئی ہے.

ایران کی ایک عدالت نےبعدازصدارتی انتخاب پُرتشدد ہنگاموں اور بلووں میں حصہ لینے کے جرم میں گیارہ افراد کو سزائے موت سنائی تھی.ایسنا نیوزایجنسی کے مطابق ان افراد پر محارب یعنی اللہ کا باغی ہونے اوراسلامی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام عاید کیا گیا تھا.
یہ پہلا موقع ہے کہ صدارتی انتخابات کے بعد ملک میں گڑبڑ اور افراتفری پھیلانے کے الزام میں دوفراد کو پھانسی دی گئی ہے.اس سے ایران میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے جبکہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے مظاہرین آئندہ ماہ حکومت مخالف ریلی نکالنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں.
ایسنا کی اطلاع کے مطابق”حالیہ مہینوں کے دوران ہنگاموں اورانقلاب مخالف اقدامات کے بعدتہران کی ایک اسلامی انقلابی عدالت نے متعدد ملزمان کے خلاف مقدمات کی سماعت کی ہے اور ان میں گیارہ افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی”.
ایک اپیل کورٹ نے ان افراد کو پھانسی کی سزاٶں کی توثیق کردی تھی جس کے بعد جمعرات کی صبح ان میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے.ایسنا نے ان دونوں افراد کے نام محمد رضا علی زمانی اورعرش رحمانی پور بتائے ہیں.رحمانی پور کی وکیل نسرین ستودہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ ان کے موکل کا صدارتی انتخابات کے بعد پُرتشدد ہنگاموں سے کوئی تعلق تھا.
نسرین ستودہ نے ایک غیر ملکی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ان کے موکل کو صدارتی انتخابات سے قبل مارچ اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر شاہ کی اسمبلی سے تعاون کا الزام عاید کیا گیا تھا”.ان کا مزید کہنا ہے کہ رحمانی پور کو انیس سال کی عمر میں گرفتار کیا گیا تھا.

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں