آج : 29 January , 2010

طالبان، اسامہ بن لادن کا ساتھ چھوڑیں، سعودی عرب کی مصالحت کے لئے شرط

طالبان، اسامہ بن لادن کا ساتھ چھوڑیں، سعودی عرب کی مصالحت کے لئے شرط
saudدبئی (العربية) سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں اس وقت تک ہاتھ نہیں بٹائے گا کہ جب تک طالبان القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو محفوظ پناہ گاہ کی فراہمی سے باز نہیں آتے اور انتہا پسند نیٹ ورکس سے قطع تعلق نہیں کرتے۔

لندن کانفرنس کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات اسی وقت ممکن اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں کہ جب ان کی نیک نیتی ثابت ہو سکے۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک دو شرائط پر افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں معاونت کرے گا۔ پہلی شرط یہ ہے کہ کابل اس کی باقاعدہ درخواست کرے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ طالبان ان مذاکرات میں شرکت اور دہشت گردوں سے اپنے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کریں۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کو اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لئے انتہا پسندوں سے تعلقات منقطع کرنے ہوں گے۔ انہیں اسامہ بن لادن کو محفوظ پناہ گاہ دینے سے انکار کرنا ہو گا۔
اس سے قبل افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے ملک کے مستقبل کے حوالے سے لندن میں ہونے والے کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے سعودی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ افغان حکومت، طالبان اور قبائل کے درمیان صلح کرانے میں اپنا اہم کردار ادا کریں.
حامد کرزئی نے افغانستان میں قیام امن کے لئے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کرزئی کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ مصالحتی عمل شروع کرنے کی خاطر قبائل پر مشتمل “لویا جرگہ” جلد بلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سعودی فرمانروا عبد اللہ بن عبدالعزیز افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔
سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے طالبان نمائندوں کے ساتھ غیر سرکاری مذاکرات کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں استحکام صرف ملک میں ہونے والی پیش رفت سے وابستہ نہیں بلکہ اس کا براہ راست تعلق ہمسایہ ملک پاکستان سے بھی ہے۔ پاکستان کو بھی قیام امن اور مصالحت کی کوششوں میں ہماری مدد کرنا چاہئے۔

لندن میں افغان جنگ کے خاتمہ سے متعلق نئی حکمت عملی وضع کرنے کے لئے

بین الاقوامی کانفرنس ہو رہی ہے جس میں دنیا کے ستر سے زیادہ ممالک کے وزراء اور دوسرے حکام شرکت کر رہے ہیں.
لندن کانفرنس کے دوران توقع ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے طالبان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے رقوم اور ملازمتیں مہیا کرنے سے متعلق صدر حامد کرزئی کے مصالحتی فارمولے کی حمایت کی جائے گی اور اقوام متحدہ کی دہشت گردی کے ضمن میں بلیک لسٹ کئے گئے افراد کی فہرست کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ افغان مزاحمت کاروں کی ہتھیار پھینکنے کے لئے حوصلہ افزائی کی جا سکے.
لندن میں یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب افغانستان میں صورت حال انتہائی سنگین ہو چکی ہے اور مزاحمت کاروں کی سرگرمیوں میں گذشتہ آٹھ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی دیکھی جا رہی ہے. جنگ زدہ ملک میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک میں عوام اس جنگ کی حمایت سے دستبردار ہوتے جا رہے ہیں.
جرمن چانسلر اینجیلا مرکل کا کہنا ہے کہ افغانستان میں فوجی مشن کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لینے کے لئے یہ کانفرنس بڑی اہمیت کی حامل ہے. انہوں نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ ہم لندن کانفرنس کے دوران مستقبل کی راہ متعین کریں گے اور مجھے یقین ہے کہ اس طرح ہم افغانستان میں اپنے مشن کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تعین کر سکیں گے”.

طالبان کو خریدنے کی کوشش

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براٶن نے افغان حکومت کے مصالحتی فارمولے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی فوجی طاقت کو کمزور کرنے کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ انہیں تقسیم کیا جائے اور ان میں اعتدال پسند نقطہ نظر کے حامل طالبان سے بات چیت کی جائے.
افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی صدر براک اوباما کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے منگل کو ایک میں بیان میں کہا تھا کہ لندن کانفرنس کے موقع پر افغان صدر حامد کرزئی طالبان کو رقوم اور ملازمتیں پیش کرنے پر مبنی اپنے مصالحتی فارمولے کے لئے عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے.
افغان حکومت ہتھیار پھینکنے والے طالبان کی مالی مدد کے لئے ایک فنڈ قائم کرنا چاہتی ہے جس کے لئے صدر حامد کرزئی نے پچاس کروڑ ڈالرز کے فنڈز دینے کا مطالبہ کیا ہے. انہوں نے لندن میں برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا ہے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے طالبان سے کوئی بات نہیں کی جائے گی.
رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ یہ مقامی کمانڈر کی سطح پر لڑنے والے طالبان کے لئے ایک موقع ہو گا کہ اگر وہ القاعدہ کی مذمت کرتے ہیں تو وہ لڑائی ختم کر کے دوبارہ افغان معاشرے میں گھل مل سکتے ہیں اور ایک نئی زندگی شروع کر سکتے ہیں.
صدر کرزئی نے سوموار کو استنبول میں پاکستان کے صدر آصف زرداری اور ترک صدر عبداللہ گل کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے ان طالبان لیڈروں کے ناموں کے اخراج پر زور دیں گے جنہوں نے القاعدہ سے اپنا ناتا توڑ لیا ہے اور ہتھیار پھینکنے پر آمادہ ہیں.ان کے اس بیان کے بعد اس فہرست سے پانچ طالبان لیڈروں کے نام نکال دئیے گئے ہیں اور اس اقدام کو طالبان کے ساتھ مفاہمت اور اعتماد کی فضا بحال کرنے کی جانب پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے.
حامد کرزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”میں لندن کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کی پابندیوں والی فہرست سے طالبان کے ناموں کو حذف کرنے کے لئے ایک بیان جاری کروں گا”.واضح رہے کہ افغان صدر نے گذشتہ ہفتے ہتھیار پھینکنے والے طالبان کے لئے اپنا مصالحتی منصوبہ پیش کیا تھا اور دنیا کے بڑے ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اس منصوبہ کی حمایت کریں اور اس کے تحت قائم کئے جانے والے فنڈ کے لئے خطیر رقم مہیا کریں.
لیکن دوسری جانب طالبان نے ایک مرتبہ پھر صدر کرزئی کی مصالحت کی نئی پیش کش مسترد کر دی ہے اور انہوں نے اپنے ملک پر”قابض” قوتوں کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے.طالبان نے بدھ کو ای میل کے ذریعے ایک بیان خبر رساں اداروں کو بھیجا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ لندن کانفرنس کا درحقیقت مقصد افغانستان پر قابض قوتوں کے قبضے کو توسیع دینا ہے اور یہ محض وقت کا ضیاع ثابت ہو گی.

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں