آج : 26 January , 2010

فرانس میں برقعے پر پابندی کی سفارش

فرانس میں برقعے پر پابندی کی سفارش
burkaفرانس کی ایک پارلیمنٹری کمیٹی نے منہ ڈھانپنے کے لیے اسلامی نقاب ڈالنے والی عورتوں پر جزوی پابندی کی سفارش کی ہے۔

دو سو صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کمیٹی نے ہسپتالوں، سکولوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں نقاب ڈالے رکھنے پر پابندی تجویز کی ہے۔
صدر نکولائی سرکوزی کے جانب سے مسلمانوں کے طریقے سے چہرے کو ڈھانپنے کے لیے نقاب ڈالنے پر تنقید کے بعد سے فرانس میں برقعہ پہننے اور چہرے کو ڈھانپنے پر بحث جاری ہے۔
فرانس کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں انیس سو خواتین ایسی ہیں جو چہرے پر مکمل نقاب ڈالتی ہیں۔
پارلیمانی رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ایسی نمایاں علامت کے مظہر کا ذریعہ بنتا ہے جو کمیٹی کے الفاظ میں ’کٹر مذہبیت‘ کا اظہار کرتی ہو تو اسے رہائشی کارڈ اور شہریت سے محروم کردیا جانا چاہیے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس دستاویز کے اجرا کے بعد ایک بل کا مسودہ تیار کیا جائے گا اور جسے بحث کے لیے پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔
صدر سرکوزی نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ’فرانس میں نقاب کا خیر مقدم نہیں کیا جا سکتا‘۔
اگرچہ انہوں نے دو ٹوک انداز میں نقاب پر پابندی کی بات نہیں کی تھی تاہم انہوں نے کہا تھا کہ بالآخر بننے والے قانون سے ’کسی کو بھی یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ اسے رسوا کیا جا رہا ہے‘۔
اب تک اس بارے میں کیے جانے والے جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فرانسیسیوں کی اکثریت نقاب پر مکمل پابندی کے حق میں ہے۔
فرانس میں پارلیمانی ارکان کا کہنا ہے کہ فی الحال پابندیوں کو محدود ہونا چاہیے۔
پارلیمانی کمیٹی کا کہنا ہے کہ فی الحال پابندی سرکاری عمارتوں کے اندر ہونی چاہیے اور اگر کوئی اس کے خلاف ورزی کرے تو اسے مطلوبہ سہولت فراہم نہ کی جائے مثلاً جس میں حکومت کی جانب سے جانے والی وہ رعایتیں بھی شامل ہیں جنہیں سٹیٹ بینیفٹ کہا جاتا ہے۔
فرانس میں سرڈھانپنے اور پردے کے لیے مسلمان خواتین اور لڑکیں مختلف طرح کے سکارف اور نقاب لیتی ہیں جن میں کچھ مکمل برقعہ بھی پہنتی ہیں۔
نقاب میں بالعموم آنکھوں کو کھلا رکھا جاتا ہے اور سرکو ڈھانپنے کے لیے الگ حجاب استعمال کیا جاتا ہے جب کے برقعے میں سر سے پاؤں تک سب ڈھکا ہوتا ہے تاہم آنکھوں پر ایک ایسی باریک جالی پڑی ہوتی ہے جس کے ذریعے دیکھنا ممکن ہوتا ہے۔
فرانس میں سیاسی جماعتیں اس پابندی پر بٹی ہوئی ہیں۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں