آج : 26 January , 2010

بنگلہ دیش:تبلیغی جماعت کاسالانہ اجتماع ختم

بنگلہ دیش:تبلیغی جماعت کاسالانہ اجتماع ختم
bangladishڈھاکہ (سنی آن لائن، اسلام ٹوڈے) بنگلہ دیش میں مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع ملک کی وزیراعظم حسینہ واجد اور اپوزیشن رہ نما خالده ضیاء کی شرکت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

تبلیغی جماعت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا اجتماع ہرسال بنگلہ دیش میں تین دن تک جاری رہتا ہے جو فریضہ حج کے بعد پوری دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع ہے۔
تیس لاکھ کے قریب فرزندان توحید نے ٹونگی کے ایک دریا “ٹوراک” کے کنارے پر تین دن تک پڑاؤ ڈال کر قرآن کریم کی تلاوت اورذکر وفکرمیں مشغول رہنے کے ساته بعض مسلمان مفکرین و مبلغین کے بیانات سنے. اس اجتماع میں شرکت کرنے والے ایک داعی “اماجیر حسین” نے ایک نجی نیوز ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا اس اجتماع میں لاکهوں مسلمانوں نے عالم اسلام میں قیام امن اور مسلمانوں کے حالات میں بہتری کے لیے نماز پڑھ کر دعا کی۔
بہت سارے شرکاء شدید مشکلات برداشت کر کے پنڈال تک پہنچے۔ یہ افراد اس راہ میں سختیوں اور تکالیف کو دل سے برداشت کرکے فخر اورخوشی کا اظہارکرتے ہیں۔
بنگلہ دیش کا اجتماع پہلی دفعہ 1996ء میں تبلیغی جماعت کے کارکنوں کی ہمت سے منعقد ہوا جس کا مقصد عوام کو دین کی طرف راغب کرنا اور انہیں روزمرہ زندگی میں اسلامی احکام کے نفاذ کی دعوت دینا ہے۔ شرکائے اجتماع کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی سے دور رہ کر دینی و معنوی مسائل کے بارے میں مذاکرے کرتے ہیں اور اسلام کا پیغام گھرگھر تک پہنچانے کے لیے غور وفکر کرتے ہیں۔
یہ اجتماع شروع میں ٹونگی کی ایک مسجد میں منعقد ہوتا تھا جس میں لوگوں کی بہت کم تعداد شریک ہوتی تھی، گذر زمان کے ساتھ ساتھ اندرون وبیرون ملک سے مسلمانوں کی بڑی تعداد نے بنگلہ دیش کے شہر ٹونگی کا رخ کیا یہاں تک کہ یہ اجتماع حج کے بعد مسلمانوں کا دوسرا بڑا اجتماع بن گیا۔
جماعت دعوت وتبلیغ کی تاسیس بھارت میں ساٹھ کی دہائی میں ہوئی جس کا منشور مسلمانوں میں احیائے اسلام اور دنیا میں اسلام کی اشاعت تھا۔ جلد ہی اس جماعت نے عربی وایشیائی ممالک میں اپنے مراکز قائم کیے اور تبلیغی جماعت کے کارکنوں کی بڑی تعداد اس وقت پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، سوڈان ودیگر ملکوں میں سرگرم عمل ہیں۔
یاد رہے بنگلہ دیش دنیا کی سطح پر تیسرا بڑا اسلامی ملک ہے جس کی آبادی کی 95 فی صد (سولہ کڑور بیس لاکھ سے) مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں